پی آئی اے طیارہ حادثے پر شاہد آفریدی کا فکر انگیز پیغام

’’کیا بشر کی بساط،آج ہے کل نہیں، جن گھروں میں کل تک آنیوالے مہمانوں کا اہتمام ہو رہا تھا، اب وہاں جانیوالوں کی تدفین کا انتظام ہو رہا ہے، انسان کی حقیقت بس اتنی سی ہے: سابق کپتان کا ٹویٹ

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب ہفتہ مئی 03:40

پی آئی اے طیارہ حادثے پر شاہد آفریدی کا فکر انگیز پیغام
کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23مئی 2020ء ) کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے بعد قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا فکر انگیز پیغام بھی سامنے آگیا ہے- سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شاہد آفریدی نے طیارہ گرنے کی جگہ کا دورہ کرنے کے دوران لکھا کہ ’’کیا بشر کی بساط۔۔۔آج ہے کل نہیں۔ جن گھروں میں کل تک آنے والے مہمانوں کا اہتمام ہو رہا تھا، اب وہاں جانے والوں کی تدفین کا انتظام ہو رہا ہے۔

انسان کی حقیقت بس اتنی سی ہے‘‘۔
یاد رہے کہ لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا مسافر بردار طیارہ گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا، جہاز میں 91 مسافر اور عملے کے 7 افراد سوار تھے جن میں سے 80 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی جب کہ دو افراد زندہ بچ گئے۔

(جاری ہے)

پی آئی اے کا مسافر طیارہ لاہور سے کراچی آرہا تھا کہ لینڈنگ سے کچھ ہی دیر قبل جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متصل علاقے ماڈل ٹاؤن کی رہائشی کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا۔

طیارہ گرنے سے کئی مکانات بھی تباہ ہوئے جس کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔ حادثے کی شکار پرواز عید کی مناسبت سے خصوصی طور پر چلائی گئی تھی۔ پرواز نے دوپہر ایک بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری تھی اور اپنے مقررہ وقت پر کراچی پہنچ گئی تاہم لینڈنگ سے چند ہی لمحوں پہلے پرواز کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ طیارہ حادثے کی موصولہ فوٹیجز کے مطابق طیارے کو دو بج کر 25 منٹ 4 سیکنڈ پر حادثہ پیش آیا۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق طیارہ حادثے میں 80 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے، لاشوں اور زخمیوں کو جناح اور سول ہسپتال منتقلی کا عمل جاری ہے۔ اب تک 44 لاشیں جناح ہسپتال اور 32 لاشیں سول ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔حادثے میں معجزانہ طور پر دو مسافر زندہ بچ گئے جنہیں سول ہسپتال کراچی اور دارالصحت اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

محکمہ صحت سندھ کی ترجمان میران یوسف کے مطابق 25 سالہ جوان محمد زبیر اور بینک آف پنجاب کے صدر ظفر محمود خود قسمتی سے زندہ بچے ہیں جنہیں فوری طور پر ریسکیو ٹیموں نے ہسپتال منتقل کر دیا تھا۔ظفر محمود کو دارالصحت اسپتال جبکہ محمد زبیر کو ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کراچی میں رکھا گیا ہے اور ان دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے جہاز حادثے میں بچنے والے بینک آف پنجاب کے صدر ظفر محمود سے نجی ہسپتال میں عیادت کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ الماس طاہر نامی خاتون جو سی ایم ایچ ہسپتال میں داخل ہیں ان کے بارے میں گمان کیا جارہا تھا کہ وہ بھی طیارے میں سوار تھیں جو بچ گئیں تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ طیارے میں سوار نہیں تھیں بلکہ وہ ماڈل کالونی کی رہائشی ہیں جو طیارہ گرنے سے زخمی ہوئیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/05/2020 - 03:40:25

Your Thoughts and Comments