سابق جج نے بی او جی کے رکن نعمان بٹ کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پرتین سال کے لیے نااہل قرار دے دیا

لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے نعمان بٹ کواپنے اقرار نامے اور بی او جی اراکین کے لیے مقررہ کوڈ آف ایتھکس کی خلاف ورز ی کا مرتکب قرار دیا ہے

پیر جولائی 18:49

سابق جج نے بی او جی کے رکن نعمان بٹ کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جولائی2020ء) لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے نعمان بٹ کواپنے اقرار نامے اور بی او جی اراکین کے لیے مقررہ کوڈ آف ایتھکس کی خلاف ورز ی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر نعمان بٹ کوتین سال کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے ملحقہ کسی بھی یونٹ کے الیکشن لڑنے یا دفتر سنبھالنے سے روک دیا گیاہے۔


انڈیپنڈنٹ ایڈجوڈیکٹر، جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے چوبیس صفحات پر مشتمل فیصلے میں تحریر کیا ہے:
''شکایت کنندہ (اسد علی خان، رکن بی او جی) اور پی سی بی یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ 17 اپریل 2019 کو جواب دہندہ نے بی او جی کے اراکین پر نافذ العمل کوڈ آف ایتھکس کی خلاف ورزی کی ہے۔''
'' انہوں نے بی او جی کے 53ویں اجلاس میں خلل ڈالا اور بی او جی کو اجلاس کے ایجنڈے پر عمل کرنے کی اجازت نہیں دی۔

(جاری ہے)

''
''یہ ریکارڈ پر ثابت ہوتا ہے کہ جواب دہندہ نے پریس کانفرنس منعقد کی جوکہ پی سی بی کے آئین کے پیرا 18 اور ماڈل آئین برائے ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے پیرا 5.1 کی خلاف ورزی ہے۔''
'' جواب دہندہ نے خفیہ دستاویزات میڈیا کو دکھا کر پی سی بی کے ضمنی قوانین کی خلاف ورزی کی۔''
'' انہوں نے آئین، رولز (کوڈ آف ایتھکس)اور اقرارنامے کی خلاف ورزی کی ہے، لہٰذا انہیں فوری طو ر پر،دفتر سنبھالنیسے روکنے/ایسوسی ایشن کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔

انہیں کسی بھی ایسی ایسوسی ایشن، کلب یا تنظیم جس کا انتظام، مانیٹری، کنٹرول یا الحاق بورڈ کے ساتھ ہے، کا الیکشن لڑنے سے روکا جاتا ہے۔

(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جولائی2020ء) لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے نعمان بٹ کواپنے اقرار نامے اور بی او جی اراکین کے لیے مقررہ کوڈ آف ایتھکس کی خلاف ورز ی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر نعمان بٹ کوتین سال کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے ملحقہ کسی بھی یونٹ کے الیکشن لڑنے یا دفتر سنبھالنے سے روک دیا گیاہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/07/2020 - 18:49:04

Your Thoughts and Comments