جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ نے ’گورے‘ کھلاڑیوں کے ’کالے‘ کرتوت چھپا لیے

پروٹیز کرکٹ بورڈ نے فکسنگ کیس میں وین جارسویلڈ اور کریگ الیگزینڈرکو رعایت دینے کاالزام مسترد کر دیا

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب ہفتہ اگست 12:51

جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ نے ’گورے‘ کھلاڑیوں کے ’کالے‘ کرتوت چھپا لیے
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔8اگست 2020ء ) جنوبی افریقہ نے گورے کے کالے کرتوت چھپا لیے جب کہ کرکٹ بورڈ نے فکسنگ کیس میں جارسویلڈ کو خصوصی رعایت دینے کا الزام مسترد کر دیا ہے۔ 2015ء میں جنوبی افریقی ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے دوران سامنے آنے والے فکسنگ سکینڈل میں انٹرنیشنل کرکٹر سمیت7 افراد ملوث پائے گئے، 18 ماہ تک آزادانہ تحقیقات کے بعد 2 کو 20 سال تک پابندی کی سزائیں سنائی گئیں، ان میں شامل ایک سیاہ فام کرکٹر تھامی سول کائل نے گذشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں الزام لگایا تھا کہ فکسنگ کیس کے مرکزی کردار غلام بودی نے سب سے پہلے وان وین جارسویلڈ سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے بورڈ کو آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا،ڈومیسٹک کرکٹر کریگ الیگذینڈر بھی ملوث تھے۔

ان دونوں کو گورا ہونے کی وجہ سے چھوٹ مل گئی جبکہ دیگر کو سخت سزائیں دی گئیں، پینڈورا باکس کھول دیے جانے کے بعد جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک سابق جج برنارڈ نے معاملے کی مکمل چھان بین کی،اس عمل میں کسی گورے یا کالے کی کوئی تفریق نہیں ہوئی۔

(جاری ہے)

حقیقت یہ ہے کہ جارسویلڈ اور کریگ الیگزینڈر کی نشاندہی پر ہی ڈومیسٹک کرکٹ کا اتنا بڑا سکینڈل منظر عام پر آیا، کرکٹ ساؤتھ افریقہ کھیل کی ساکھ کے حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی رعایت برتنے کے حق میں نہیں، دونوں کھلاڑیوں نے مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کر کے بورڈ کی معاونت کی جس پر کرکٹ برادری ان کی شکر گزار ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/08/2020 - 12:51:18

Your Thoughts and Comments