پاکستان تعلیمی اداروں کی دوبارہ بندش کا متحمل نہیں ہو سکتا:شاہد آفریدی

تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل درآمد کریں :سابق کپتان قومی ٹیم

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب ہفتہ ستمبر 11:31

پاکستان تعلیمی اداروں کی دوبارہ بندش کا متحمل نہیں ہو سکتا:شاہد آفریدی
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 ستمبر2020ء) پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑی شاہد آفریدی نے ملک بھر میں قائم سرکاری اور نجی سکولوں کی انتظامیہ سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کے کھلنے کے بعد حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر مکمل طور پر عملدرآمد کریں کیونکہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کے نتیجے میں سکولوں کو دوبارہ بند کرنا پڑ سکتا ہے جسکا ملک کسی بھی تو طور متحمل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی فراہم کردہ صحت عامہ سے متعلق گائیڈ لائینز پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں سکول جانیوالے ٹیچرز، بچوں، اور دوسرے سٹاف کی صحت کو خدانخواستہ ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز شاہد آفریدی فاؤنڈیشن (ایس اے ایف) کے زیر اہتمام منگوپیر روڈ کے وانگی گوٹھ میں واقع سکول میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

وانگی گوٹھ کا سکول ایس اے ایف کے زیر اہتمام کراچی میں رفاہی بنیادوں پر چلنے والے 8 اسکولوں میں سے ایک ہے۔ ایس اے ایف یہ 8 سکول گرین کریسنٹ ٹرسٹ (جی سی ٹی) کے تعاون سے چلا رہا ہے۔ حکومتی فیصلے کی روشنی میں میں وانگی گوٹھ کے سکول کو 21 ستمبر سے کھولنا ہے لیکن پریس کانفرنس کے موقع پر خصوصی طور پر ایک آزمائشی کلاس کا اہتمام کیا گیا تاکہ سکول کے اساتذہ، بچوں اور دوسرے سٹاف کی جانب سے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کا عملی مظاہرہ کیا جا سکے۔

اس آزمائشی کلاس کا معائنہ شاید آفریدی نے جی سی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زاہد سعید کے ہمراہ کیا۔ ایس اے ایف اور جی سی ٹی نے معروف ادارے انڈس فار ما کے ایچ ایس ای ڈیپارٹمنٹ کیساتھ ملکر سکول ایس او پیز کی ایک دستاویز تیار کی ہے۔شاہد آفریدی نے بتایا کہ ان ایس او پیز کی تیاری کے دوران عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور آئی ایف آر سی کی سکولوں کے حوالے سے بین الاقوامی دستاویز سے مدد لی گئی۔

شاہد آفریدی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ سکولوں کے لیے متعین کردہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے اور ایسا نہ ہو کہ دوسرے ملکی قوانین کی طرح جس میں ٹریفک رولز وغیرہ بھی شامل ہیں ہم بحیثیت قوم صحت عامہ سے متعلق ان گائیڈلائنز کی بالکل بھی پرواہ نہ کریں۔ اس سلسلے میں سکول انتظامیہ اور والدین کا بھی بہت اہم کردار ہوگا۔ جی سی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زاہد سعید نے اس موقع پر خطاب میں سکول ایس او پیز کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ سکولوں کے بچوں اور اساتذہ کی صحت کو ہر ممکن طریقے سے محفوظ بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ طور پر تیار کردہ یہ ایس او پیز نہ صرف ایس اے ایف کے کراچی میں 8 سکولوں بلکہ جی سی ٹی کے پورے سندھ میں پھیلے ایک سو پچاس سے زائد رفاہی سکولوں میں نافذ کیے جائیں گے تاکہ وہاں موجود نادار گھرانوں سے تعلق رکھنے والے 29 ہزار طلبہ و طالبات کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔اس موقع پر شاہد آفریدی اور زاہد سعید نے مخیر حضرات اور اداروں سے پرزور اپیل کی کہ سندھ میں نادار گھرانوں کے بچوں میں خواندگی کے فروغ کیلئے دونوں فلاحی اداروں کی مشترکہ رفاہی مہم کا بھرپور ساتھ دیا جائے۔

انکا کہنا تھا کہ کرونا وائرس ایمرجنسی کی صورت حال کی وجہ سے تعلیمی میدان سے منسلک ایسی فلاحی مہمات کو معیشت کے سکڑ جانے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اسکول جانے والے بچے ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اور ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنیکا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے روشن مستقبل کو جانتے بوجھتے داؤ پر لگا رہے ہیں۔

ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونیکی صورت میں حکومت کو سکولز دوبارہ بند کرنیکا حکم نامہ بھی جاری کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا خطرہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس ایمرجنسی کی وجہ سے پچھلے چھ مہینے کے دوران پاکستان کا تعلیمی سیکٹرشدید طور پر متاثر رہا ہے۔انہوں نے صوبائی اور مرکزی حکومت سے بھرپور اپیل کی کہ سکولوں سے متعلق ایس او پیز پر عمل درآمد کے لئے باہمی اختلافات کو بھلا کر کر ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت مانیٹرنگ کا ایک نہایت جامع اور مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے اسکولوں کو تادیبی کاروائی کی زد میں بھی آنا چاہیے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/09/2020 - 11:31:48

Your Thoughts and Comments