سرپرست اعلیٰ ٹیسٹ قیادت کی تبدیلی نہیں چاہتے:پی سی بی کا دعویٰ

عمران خان نے اظہرعلی کو طویل فارمیٹ کی کپتانی سے ہٹانے کی خواہش ظاہر نہیں کی ،ترجمان،اداروں کی کرکٹ ختم کرنے کی مخالفت پربھی کسی تادیبی کارروائی کا امکان نہیں:ذرائع

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب ہفتہ ستمبر 11:54

سرپرست اعلیٰ ٹیسٹ قیادت کی تبدیلی نہیں چاہتے:پی سی بی کا دعویٰ
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 19 ستمبر 2020ء ) پاکستان کرکٹ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ بورڈ کے سرپرست اعلیٰ ٹیسٹ قیادت کی تبدیلی نہیں چاہتے اور انگلینڈ کیخلاف حالیہ سیریز کے پیش نظر عمران خان نے اظہرعلی کو طویل فارمیٹ کی قیادت سے ہٹانے کی خواہش بھی ظاہر نہیں کی ،اس قسم کی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ اداروں کی کرکٹ ختم کرنے کی مخالفت پربھی کسی سخت تادیبی کارروائی کا امکان نہیں بلکہ ٹیسٹ کپتان اور ہیڈ کوچ کو آئندہ کیلئے محتاط رہنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں سابق کپتان اور کرکٹ کمیٹی کے رکن وسیم اکرم کی جانب سے بھی انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران اظہرعلی کے طرز قیادت پر عدم اطمینان ظاہر کیا گیا تھا اور پھر یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ وزیراعظم نے انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ ہارنے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس میچ کو دیکھ رہے تھے جس میں اظہرعلی کی کپتانی اچھی نہیں تھی لہٰذا انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے مگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے ایک غیر ملکی پاکستانی صحافی کی جانب سے ٹوئٹ کے جواب میں واضح کردیا ہے کہ عمران خان نے اظہرعلی کو قیادت سے ہٹانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا اور اس قسم کی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں کہ سرپرست اعلیٰ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

گزشتہ برس اکتوبر میں سرفراز احمد کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت ایک مرتبہ پھر سنبھالنے والے اظہرعلی کو آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں مشکلات درپیش رہیں تاہم انہوں نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کیخلاف ہوم سیریز میں کامیابی کی بدولت اعتماد بحال کیا مگر انگلینڈ میں ایک،صفر سے سیریز ہارنے کے بعد ان کیخلاف دوبارہ تنقید شروع ہو گئی خاص کر سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں جیتی ہوئی پوزیشن میں آنے کے بعددفاعی فیلڈ کے باعث ناکامی نے انکی اس کاوش کو بھی دھندلا دیاجب تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ناقابل شکست 141رنز بنا کر اظہرعلی نے ٹیم کو سنبھالا اور موسم کی خرابی کیساتھ ایک اور یقینی شکست کو ٹالنے میں کامیاب رہے ۔

ماہرین کے مطابق پی سی بی حکام اگرچہ اظہرعلی پر مزید بھروسہ کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں کپتان کی حیثیت سے خود کو مزید فعال کرنا ہوگا کیونکہ آنیوالے عرصے میں انہیں بڑی ٹیموں کیخلاف سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑیگا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کے سامنے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی مخالفت پر بھی اظہرعلی یا مصباح الحق کیخلاف کسی سخت تادیبی کارروائی کا امکان نہیں اور آئندہ ہفتے چیئرمین پی سی بی احسان مانی دونوں کو آئندہ کیلئے محتاط رہنے کی ہدایت دیکر معاملہ ختم کر سکتے ہیں اگرچہ اجلاس کے دوران دونوں کی جانب سے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے حق میں باتیں سن کر چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو پی سی بی کے چہرے سرخ ہو گئے تھے ۔

بتایا جاتا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کو بخوبی علم تھا کہ ڈومیسٹک سسٹم وزیراعظم کی خواہش پر تبدیل کیا گیا جس پر پی سی بی حکام نے عمل کیا لیکن یہ دیکھنا بڑی عجیب صورتحال تھی کہ ان کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جا رہے تھے اور اسی وجہ سے احسان مانی اور وسیم خان ناراض اور مایوس ہیں کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی مصباح الحق اور اظہرعلی نے وہ قدم اٹھایا جس کیلئے پہلے انہیں اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/09/2020 - 11:54:39

Your Thoughts and Comments