انٹرنیشنل کلائمبر یاسین علی برج الخلیفہ پر چھڑنے کیلئے پرعزم

دنیا کا واحد پلیئر ہوں جو آنکھوں پر پٹی باندھ کر بھی پل بھر میں کلائمبنگ وال پر چڑھ جاتا ہوں: یاسین علی

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب جمعہ ستمبر 15:05

انٹرنیشنل کلائمبر یاسین علی برج الخلیفہ پر چھڑنے کیلئے پرعزم
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 25 ستمبر 2020ء ) انٹرنیشنل کلائمبر یاسین علی نے دبئی میں موجود دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج الخلیفہ کو سر کرنیکا ارادہ ظاہر کر دیا۔ صوابی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کلائمبر کا کہنا تھا کہ 70، 80 فٹ کی دیوار پر چڑھنا میرے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اگر حکومت کی طرف سے مجھے سپورٹ ملے تو برج الخلیفہ پر چڑھ کر دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکتا ہوں اور یہ میری زندگی کا خواب بھی ہے۔

یاسین علی کے مطابق دنیا کا واحد پلیئر ہوں جو آنکھوں پر پٹی باندھ کر بھی پل بھر میں کلائمبنگ وال پر چڑھ جاتا ہوں، پاکستان کی سطح پر میں نے 25 مقابلے جیتے ہیں، متعدد بار قومی چیمپئن بھی رہا ہوں، میری ان کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے مجھے آذربائیجان میں شیڈول کلائمبنگ ورلڈکپ میں پاکستان کی طرف سے نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔

(جاری ہے)

یاسین علی نے کہا کہ عالمی ایونٹ کے دوران میں اسرائیل سمیت دنیا کے متعدد پلیئرز کو ہرا کر پاکستان کا نام روشن کرنے میں کامیاب رہا، میگا ایونٹ کے دوران زیادہ تر ملکوں سے 10 سے زیادہ کھلاڑیوں نے شرکت کی تھی جب کہ پاکستان کی طرف سے واحد کھلاڑی میں ہی تھا، اس وقت عالمی ریکارڈ 7 سکینڈ کا ہے جبکہ میرا وقت 8 سکینڈ ہے، اگر حکومت میری سپورٹ کرے تو 3 ماہ میں ورلڈ ریکارڈ بنا کر ملک وقوم کا نام روشن کر سکتا ہوں۔

ایک سوال پر یاسین علی نے کہا کہ بھارتی ٹاپ کلائمبر نے مجھے چیلنج کیا ہے، اگر مجھے حکومتی سپورٹ ملے تو میں روایتی حریف کو بھارتی سرزمین پر ہی ہرا کر یہ ثابت کروںگا کہ پاکستانی کسی بھی طرح ان سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کلائمبنگ کے کھیل میں بھی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ کرکٹ، ہاکی کی طرح اس گیم پر بھی فوکس کرے۔

یاسین علی نے کہا کہ میرا تعلق بہت غریب گھرانے سے ہے، پنڈی میں محنت مزدوری کرتا تھا، زیادہ تر کام شہر کی اونچی عمارتوں پر رنگ وروغن کرنے کا ملتا، اس طرح کا کام کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ اونچائی پر کھڑا ہونے کا میرا ڈر ختم ہو گیا، ایک دن ایک انگریز کو کلائمبنگ دیوار پر چڑھتے دیکھا، میں نے سوچا اگر انگریز ایسا کر سکتے ہیں تو ایک پاکستانی کیوں نہیں کر سکتا، میں نے بھی ہمت کی اور آج پہاڑیوں، اونچی دیواروں اور عمارتوں پر باآسانی چڑھ جاتا ہوں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 25/09/2020 - 15:05:44

Your Thoughts and Comments