نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ 30 ستمبر سے ملتان میں شروع ہوگا‘سنٹرل پنجاب اور سندھ کی ٹیمیں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کی تاریخ بدلنے کی منتظر‘دونوں ٹیمیں 2 اور 10 اکتوبر کو بالترتیب ملتان اور راولپنڈی میں مدمقابل آئیں گی

پیر ستمبر 02:15

لاہور/ملتان ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 ستمبر2020ء) نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ 30 ستمبر سے اولیاء اکرام کے شہر ملتان میں شروع ہوگا‘تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل سنٹرل پنجاب اور سندھ کی ٹیمیں ٹورنامنٹ میں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کیلئے پرعزم ہیں‘دونوں ٹیمیں گزشتہ سال فیصل آباد میں کھیلے گئے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں جبکہ گزشتہ ایڈیشن میں دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا واحد میچ سندھ نے جیتا تھا‘ فاتح ٹیم نے 189 رنز کا ہدف میچ کی آخری گیند پر حاصل کیا تھا۔

آئندہ دو سالوں میں آئی سی سی کے دو بڑے ایونٹس کے باعث پی سی بی نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کو ڈبل لیگ کی بنیاد پر کروارہا ہے، ایونٹ کے تمام میچز پی ٹی وی اسپورٹس پر براہ راست نشر کئے جائیں گے۔

(جاری ہے)

رواں ایڈیشن میں دونوں ٹیمیں پہلے 2 اکتوبر کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم ملتان اور پھر 10 اکتوبر کو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں مدمقابل آئیں گی۔سنٹرل پنجاب کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کی قیادت بابراعظم کررہے ہیں۔

پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے گزشتہ ایڈیشن میں سنچری بنائی تھی‘اس ایونٹ میں ددسری سنچری بنانے والے بلے باز احمد شہزاد کا تعلق بھی سنٹرل پنجاب سے ہے تاہم وہ اس مرتبہ فٹنس مسائل کے باعث ایونٹ میں شرکت نہیں کررہے۔دورہ انگلینڈ کے بعد سمر سیٹ کی نمائندگی کرنے والے بابراعظم حال ہی میں کاؤنٹی کرکٹ میں سنچری بناکر نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں شامل حریف ٹیموں پر اپنی دھاک بٹھاچکے ہیں تاہم وہ پہلے راؤنڈ کے لیے اپنی ٹیم کو دستیاب نہیں ہیں۔

ان کی عدم موجودگی میں سعد نسیم ٹیم کی قیادت کریں گے۔سعد نسیم بھی ایک باصلاحیت مڈل آرڈ ر بیٹسمین ہیں جو لیگ اسپن باؤلنگ کا آرٹ بھی خوب جانتے ہیں۔ان کے علاوہ سنٹرل پنجاب کے وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل بھی ایونٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ایچ بی ایل پی ایس ایل کی تاریخ میں اب تک سب سے کامیاب بلے باز کامران اکمل کو نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں تجربہ کار عابد علی اور نوجوان بیٹسمین رضوان حسین جیسے باصلاحیت ٹاپ آرڈر بلے بازوں کا ساتھ میسر ہوگا۔

نوجوان کھلاڑیوں میں عبداللہ شفیق اور قاسم اکرم بھی سنٹرل پنجاب کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ میں شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ اسپن باؤلنگ کے شعبے میں ظفر گوہر، عثمان قادر اور بلال آصف سنٹرل پنجاب کو دستیاب ہوں گے۔نوجوان فاسٹ باؤلر نسیم شاہ، احسان عادل ، فہیم اشرف اور عرفان خان نیاز ی بھی حریف بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھانے کے منتظر ہیں۔

سندھ کی قیادت وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کررہے ہیں۔ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں ایک طویل عرصہ نمبر ون رہنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان رہنے والے سرفراز احمد کا نائب سعود شکیل کو بنایا گیا ہے۔سندھ کی بیٹنگ لائن اپ میں خرم منظور اور احسان علی جیسے ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ بلے بازوں سمیت اعظم خان جیسا ہارڈ ہٹر بیٹسمین بھی موجود ہے۔

تجربہ کار اسد شفیق کے علاوہ سندھ کی بیٹنگ لائن میں شرجیل خان کی واپسی بھی شائقین کرکٹ کی نظروں کی منتظر ہے۔ پاکستان کے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کی تاریخ کے سب سے کامیاب بلے باز خرم منظورکا شرجیل خان جیسے اوپنر کے ساتھ میدان میں اترنا یقیناًً حریف ٹیموں کے لیے خطرے کی علامت ہوگا۔ اسپن ڈیپارٹمنٹ میں حسان خان اور محمد اصغر کے علاوہ میر حمزہ ، محمد حسنین، سہیل خان اور انور علی جیسے فاسٹ باؤلر زسندھ کی فاسٹ باؤلنگ کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔

سنٹرل پنجاب کی ٹیم میںبابراعظم (کپتان)، کامران اکمل (نائب کپتان، وکٹ کیپر)، سعد نسیم، عبداللہ شفیق، عابد علی، احمد بشیر، احسان عادل، بلال آصف، فہیم اشرف، عرفان خان نیازی، نسیم شاہ، ظفر گوہر، عثمان قادر، رضوان حسین، قاسم اکرم ا ورسبحان اللہ جبکہ اسپورٹ اسٹاف میںاظہر زیدی (منیجر)، شاہد انور (ہیڈ کوچ)، سمیع اللہ نیازی (اسسٹنٹ کوچ)، محمد اسد (ٹرینر)، یاسر محمود (فیزیو) اور ساجد یاسین ( اینالسٹ)‘ سندھ کی ٹیم میںسرفراز احمد (کپتان، وکٹ کیپر )، سعود شکیل، احسان علی، انور علی، اسد شفیق، میر حمزہ، اعظم خان، دانش عزیز، حسان خان، خر م منظور، شرجیل خان، محمد اصغر، محمد حسنین، محمد طحہٰ اور سہیل خان جبکہ اسپورٹ اسٹاف میںراشد خان (منیجر)، باسط علی (ہیڈ کوچ)، اقبال امام (اسسٹنٹ کوچ)، عمران خلیل (فیزیو)، امتیاز خان (ٹرینراینالسٹ) شامل ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 28/09/2020 - 02:15:11

Your Thoughts and Comments