ملک میں سفارشی اور پرچی کلچر کو ختم کئے بغیر کھیلوں کی ترقی ناممکن ہے، مطاہر سہیل

پیر فروری 15:05

ملک میں سفارشی اور پرچی کلچر کو ختم کئے بغیر کھیلوں کی ترقی ناممکن ہے، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 فروری2021ء) مطاہر بیڈمنٹن اکیڈمی راولپنڈی کے ہیڈکوچ مطاہر سہیل نے کہا ہے کہ ملک میںسفارشی اور پرچی کلچر کو ختم کئے بغیر کھیلوں کی ترقی ناممکن ہے اور کھیلوں کی ترقی کے لئے گراس روٹ سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، گذشتہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گراس روٹ سطح پر کھیلوں کی ترقی کے لئے تعلیمی اداروں کا ایک بڑا اہم کردار ہوتا ہے جو اس وقت نہ ہونے کے برابر ہے، انہوں نے تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے گراس روٹ سطح پر نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا اور اس ٹیلنٹ کو بروئے کار لانے کے لئے ان کھلاڑیوں کوتربیتی کیمپ کی ضرورت ہوتی ہے اور دو سے تین ہفتے میں ان کھلاڑیوں کو تربیتی کیمپ میں پالیس کیا جانا چاہیے تاکہ وہ ایک اچھا کھلاڑی بن کر سامنے آ سکیں۔

(جاری ہے)

مطاہر سہیل نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے بلکہ سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ مطاہر بیڈمنٹن اکیڈمی راولپنڈی میں بیڈمنٹن کی ترقی کے لئے اقدامات کر رہی ہے لیکن کسی بھی کھیل کی ترقی کے لئے سپانسر اور حکومتی سرپرسی کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے ہم اپنی مدد آپ کے تحت ملک کو چمپئن فراہم کر رہے ہیں ، اس وقت مینز سنگلز مقابلوں میں محمد علی لاروش چمپئن ہیں اورمکسڈ ڈبلز کے مقابلوں میں ہماری اکیڈمی کے تربیت یافتہ دونوں کھلاڑی محمد علی لاروش اور غذالہ صدیقی چمپئن ہیں اس کے علاوہ دونوں کھلاڑیوں نے ملک میںمختلف ٹورنامنٹس میں اپنا لوہا منوایا ہے، مطاہر سہیل نے کہا کہ پہلے تعلیمی اداروں میں طلبائ و طالبات کو کھیلوں کی بنیاد پر بھی داخل ملتا تھا لیکن آج کل بہت سے کھیلوں اداروں نے کھیلوں کی بنیاد پر داخلہ دینا بند کر دیا ہے، جس سے طلباء و طالبات کھیل میں دلچسپی لینی چھوڑ دی ہے ، جس سے ملک کھیل کا معیار گرتا دکھائی دے رہا ہے، مطاہر سہیل نے کہا کہ ملک میںسفارشی اور پرچی کلچر کو ختم کئے بغیر کھیلوں کی ترقی ناممکن ہے اور کھلاڑیوں کی سلیکشن میرٹ پر ٹرائلز کے ذریعے ہونی چاہئے جس سے ہر کھلاڑی کو معلوم ہوگا کہ محنت کے بغیر آگے آنا مشکل ہے،پھر کھلاڑی بھی محنت کریں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 22/02/2021 - 15:05:27

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments