بنگلہ دیشی کرکٹر بھارتی بکیز کے چنگل میں پھنس گیا

بدھ فروری 10:24

بنگلہ دیشی کرکٹر بھارتی بکیز کے چنگل میں پھنس گیا
میلبورن (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار25۔فروری 2015ء ) ورلڈ کپ کے دوران بنگلہ دیشی باؤلر الامین حسین بھارتی بکیز کے چنگل میں پھنس گیا اور رات کی تاریکی میں مشکوک شخص سے ملنے پر ٹیم سے باہر کیا گیا ،فاسٹ با ؤلر نے اپنی غلطی بھی تسلیم کر لی تفصیلات کے مطابق بی سی بی نے الامین حسین کو رات کو بغیر بتائے ہوٹل سے باہر جانے پر ورلڈ کپ اسکواڈ سے باہر کیا اور ان کی جگہ شفیع الاسلام کو بلایا گیا۔

انکشاف ہوا ہے کہ الامین کو اسکواڈ سے باہر کرنے کی وجہ ان کا بھارتی بکی سے مبینہ تعلق تھا۔ ٹیم ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے الامین کو کینبرا میں ایک مشکوک شخص کی تصویر دکھا کر پوچھا کہ وہ اسے جانتے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ وہ انھیں اس وقت چنئی میں ملا تھا جب وہ اپنے بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ کیلیے گئے ہوئے تھے، اس نے فیس بک پر دوستی کیلیے درخواست کی مگر انھوں نے قبول نہیں کیا۔

(جاری ہے)

یہ سن کر اے سی ایس یو آفیشلز بغیر کوئی دوسرا سوال کیے واپس لوٹ گئے مگر ان کی نگرانی جاری رکھی،ایک رات انھیں ہوٹل سے آدھی رات کو باہر جاتے ہوئے دیکھ لیا گیا جبکہ اس وقت موسم کافی خراب تھا۔ ٹیم آفیشلز نے صبح ٹیم منیجر خالد محمود سے پوچھا کہ پلیئرز کا ہوٹل میں رات کو پہنچنے کا کیا وقت مقرر ہے، انھوں نے کہا کہ 10 بجے کی ڈیڈ لائن ہے، جب انھیں آدھی رات کو الامین کے باہر جانے کا بتایا گیا تو وہ کافی حیران ہوئے، بعد میں انھوں نے بولر کو بلایا اس سے پوچھا تو وہ گھبرا گئے، انھوں نے پہلے کہا کہ میں موبائل سم لینے گیا تھا جب انھیں بتایا گیا کہ سم تو پہلے ہی سب کھلاڑیوں کو دے دی گئی تھی تو کہا کہ میں نائٹ کلب گیا تھا، اس بہانے کو بھی قبول نہیں کیا گیا کیونکہ وہ خراب موسم میں اکیلے کیسے جاسکتے تھے، اس پر وہ گھبرا گئے اور قبول کیا کہ ہوٹل کے عقب میں وہ بکی سے ملنے گئے تھے۔

الامین حسین کے اعتراف کے بعد فوری طور پر آئی سی سی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ الامین کی جگہ انھیں دوسرا کھلاڑی منتخب کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ وہاں سے خصوصی کیس کے طور پر اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی جس پر الامین کو فوراً وطن واپس بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانب بنگلہ دیشی بورڈ کے میڈیا چیف کا اصرار ہے کہ الامین کو تاخیر سے ہوٹل پہنچنے پر سزا دی گئی، بکی سے روابط کی خبریں درست نہیں ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 25/02/2015 - 10:24:24

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments