دس کے بعد اب بس؟؟

10 K Baad Ab Bass

میگا ایونٹس میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں تمام دس میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔۔۔ کلکتہ کے ایڈن گارڈنز پر روایتی طور پر عمدہ کارکردگی دکھانے والی پاکستانی ٹیم دباوٴ کا شکار بھارت کیخلاف تاریخ بدل سکتی ہے

Farhan Nisar فرحان نثار بدھ 23 مارچ 2016

فرحان نثار
پاکستانی ڈرامے تو اب سڑکیں سنسان کرنے کا سبب نہیں بنتے مگر پاک بھارت میچز کے دوران شاہراہوں پرآج بھی سکوت کا عالم ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی سطح پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے کو سب سے بڑا مقابلہ تصور کیا جاتا ہے اور یہ میچ اگر آئی سی سی ایونٹس میں کھیلا جارہا ہو تو اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مارکیٹنگ کے نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بھی میگا ایونٹس میں کم از کم ایک پاک بھارت مقابلہ رکھنے کی کوشش ضرور کرتی ہے۔
بھارت میں کھیلے جانے والے ورلڈ ٹی20میں بھی یہ دونوں روایتی حریف ایڈن گارڈنز کے تاریخی میدان پر ٹکرائیں گے اور امکان یہی ہے کہ دونوں ٹیموں میں گھمسان کا رن پڑے گا۔ ٹی20سطح پر پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک سات میچز کھیلے گئے ہیں جس میں بھارت نے پانچ میں کامیابی حاصل کی اور پاکستانی ٹیم صرف ایک میچ ہی اپنے نام کرسکا جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان 2007ء کے ورلڈ ٹی20میں کھیلا گیا اولین مقابلہ ٹائی ہوا جسے بھارتی ٹیم نے ”بال آوٴٹ“ میں اپنے نام کیا۔

(جاری ہے)


مجموعی طور پر ورلڈ کپ مقابلوں کی بات کی جائے تو ون ڈے اور ٹی20فارمیٹس میں بھارت نے میگا ایونٹس میں پاکستان کو دس مرتبہ شکست سے دوچار کیا ہے جبکہ گرین شرٹس کو ایک بھی کامیابی نہیں مل سکی ۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو کلکتہ کے تاریخی ایڈن گارڈنز میں پاک بھارت مقابلہ نہایت اہمیت کا حامل ہوگا جہاں پاکستانی ٹیم بھارت کیخلاف شکستوں کا جمود توڑنے کی کوشش کرے گی تو دوسری طرف نیوز ی لینڈ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد بھارتی ٹیم کیلئے سیمی فائنل تک رسائی کی امیدوں کو روشن رکھنے کیلئے اس میچ میں کامیابی حاصل کرنا نہایت ضرور ی ہے۔
بھارتی سرزمین پر دونوں ٹیموں کے درمیان2012ء کے آخری مہینے میں صرف دو ٹی20میچز کھیلے گئے ہیں جس میں بنگلور کے پہلے مقابلے میں گرین شرٹس نے کپتان محمد حفیظ کے 61اور شعیب ملک کے شاندار ناقابل شکست 57رنز کی بدولت پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی مگر احمد آباد کے دوسرے اور آخری میچ میں بھارت نے 11رنز سے میدان مار کر سیریز برابر کردی۔باہمی مقابلوں میں نتائج کیساتھ ساتھ بھارتی ٹیم کو اعدادوشمار میں بھی پاکستان پر برتری حاصل ہے اور خاص طور پر بیٹنگ کے شعبے میں پاکستانی کھلاڑیوں نے بری طرح مایوس کیا ہے۔ زیر نظر جدول میں پاکستانی ٹیم کا فی وکٹ بیٹنگ اوسط 17سے بھی کم ہے جو ناکامی کی داستان بیان کررہا ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی بیٹسمینوں نے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ پاکستانی بیٹسمینوں نے چھکے لگانے میں بھارت پر ضرور برتری حاصل کی ہے مگربھارت سے 20وکٹیں زیادہ گنوانا یہ ظاہر کررہا ہے کہ گرین شرٹس کو روایتی حریف کے بالرز کا سامنا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاک بھارت باہمی مقابلوں کے اعدادوشمار
ٹی20فارمیٹ میں پاور پلے یعنی پہلے چھ اوورز نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جس میں دکھائی گئی کارکردگی آنے والے اوورز میں اثر انداز ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاور پلے میں پاکستانی ٹیم نے بھارت سے زیادہ رنز بنائے ہیں جبکہ اوسط اسکور اور رنز فی اوور میں پاکستانی ٹیم کو برتری حاصل ہے مگر اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم نے پہلے چھ اوورز میں زیادہ وکٹیں گنوائی ہیں جس کے باعث پاور پلے میں ملنے والے اچھے آغاز سے پاکستانی ٹیم فائدہ نہ اٹھا سکی اور یہی وجہ ہے کہ اننگز ختم ہونے پر گرین شرٹس ایسا مجموعہ حاصل نہیں کرسکی جسے خاطر خواہ قرار دیا جاسکے۔
پاور پلے میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کی کارکردگی
اس وقت عالمی رینکنگ میں بھارتی ٹیم کو پہلی جبکہ پاکستان کو ساتویں پوزیشن حاصل ہے جبکہ ماضی کے اعدادشمار بھی پاکستان کے حق میں نہیں ہیں مگر کرکٹ پنڈتوں کا ماننا ہے کہ پاک بھارت مقابلے پر ماضی کے ریکارڈز یا ٹیموں کی حالیہ کارکردگی اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ میچ کے دن جو ٹیم دباوٴ سے آزاد ہوکر کھیلتی ہے جیت اس کے قدم چومتی ہے۔ ایشیا کپ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد ورلڈ ٹی20کے پہلے مقابلے میں بنگلہ دیش کو آوٴٹ کلاس کرکے پاکستانی ٹیم پراعتماد ہے جبکہ دوسری جانب نیوزی لینڈ کیخلاف شکست سے دوچار ہونے کے بعد بھارتی ٹیم دباوٴ کا شکار ہے مگر ان باتوں سے قطع نظر گرین شرٹس کو کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں شاندار کارکردگی دکھانا ہوگی تاکہ اوپر دیے گئے اعدادوشمار میں بہتری کیساتھ ساتھ بھارت کیخلاف میگا ایونٹس میں شکستوں کا جمود ٹوٹ سکے۔ قومی ٹیم کے کوچ وقار یونس نے اپنی ٹیم سے بہتر توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں لیکن کوچ کی توقعات کی لاج میدان میں اترنے والے گیارہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ہی رکھنا ہوگی تاکہ ربع صدی میں آئی سی سی ایونٹس میں بھارت کیخلاف ملنے والی دس شکستوں کے بدترین سلسلے پر ”فُل اسٹاپ“ لگایا جاسکے ورنہ دوسری صورت میں اپنے گھر میں کھیلنے والی بھارتی ٹیم گرین شرٹس کی کسی غلطی کو معاف نہیں کرے گی!

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments