قذافی سٹیڈیم میں ون ڈے کرکٹ بھی لوٹ آئی

1st Odi Pakistan Vs Zimbabwe

ہوم گراؤنڈز پر 6چھ سال بعد کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں قومی بلے بازوں کا عمدہ کھیل شعیب ملک، اظہرعلی، محمد حفیظ اور حارث سہیل بھی چل پڑے، ہوم گراؤنڈز پر ریکارڈ مجموعہ

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری بدھ مئی

1st Odi Pakistan Vs Zimbabwe

پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کا موقع چھ سال بعد ملا اور کھلاڑیوں نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ قومی ٹیم نے پہلے دونوں ٹی ٹونٹی میچز میں کامیابی حاصل کی اور پھر پہلے ون ڈے میں بھی کامیابی حاصل کرکے ون ڈے کرکٹ میں کم بیک کیا۔ گزشتہ ماہ بنگلہ دیش کے ہاتھوں ون ڈے سیریز میں شکست سے قومی ٹیم مسائل کا شکار ہوگئی تھی لیکن اب زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز میں قومی ٹیم نے شاندار کم بیک کیا اور حقیقی معنوں میں ہوم گراؤنڈز کا فائدہ اٹھایا۔ گزشتہ چھ سال میں قومی ٹیم نے اپنے تمام میچز اور حتیٰ کہ ہوم سیریز بھی دیار غیرمیں کھیلی جس کے باعث نئے ٹیلنٹ کوآزمانے کیلئے بھی ٹیم مینجمنٹ ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئی اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس آگئی اور نئے لڑکوں کو چانس ملا توانہوں نے حق بھی ادا کیا۔

(جاری ہے)

مختار احمد اور نعمان انور نے اپنا انتخاب درست ثابت کردکھایا جبکہ شعیب ملک بھی اپنی واپسی کو یادگار بنانے میں کامیاب رہے۔ محمد سمیع کا ایک اور کم بیک بھی فلاپ شو ثابت ہوا اور اب شاید ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد سمیع کو دوبارہ پاکستان کی جانب سے کھیلنے کا موقع ملے۔
قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں پاکستانی بیٹنگ چل پڑی، میزبان نے ہوم گراؤنڈ پرکسی بھی ون ڈے ٹیم کا سب سے بڑا سکور بنا دیا،پہلی بار کسی میچ میں ٹاپ فور نے نصف سنچریاں اور150پلس کی 2 شراکتیں قائم کیں،شعیب ملک قذافی سٹیڈیم میں سب سے زیادہ رنز بنانے کے ریکارڈ میں محمد یوسف کو پیچھے چھوڑگئے ۔گذشتہ روزگرین شرٹس نے زمبابوے کے خلاف 3 وکٹ پر 375 رنز بنائے ، یہ پاکستان میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے ون ڈے کا سب سے بڑا سکور ہے ، اس سے قبل بھارت نے جون 2008 ء میں کراچی میں ہانگ کانگ کیخلاف 4 وکٹ پر 374 رنز جوڑے تھے ، پاکستان کا ہوم گراؤنڈ پر سب سے بڑا ٹوٹل 6وکٹ پر 353 رنز اس نے انگلینڈ سے میچ میں دسمبر2005 ء میں بنایا تھا،قذافی سٹیڈیم میں 9 وکٹ پر 357 رنز سب سے بڑا ٹوٹل ہے جو سری لنکا نے جون 2008ء میں بنگلہ دیش کے خلاف بنایا تھا،یہ گرین شرٹس کا اپنی ون ڈے تاریخ میں دوسرا بڑا مجموعہ ہے ۔اس سے قبل بنگلہ دیش کیخلاف جون 2010ء میں دمبولا میں 7وکٹ پر 385رنز بنائے تھے ، پاکستان کی جانب سے پہلی بار کسی اننگز میں ٹاپ فور نے نصف سنچریاں بنائیں جبکہ 150سے زائد کی 2 شراکتوں کا بھی یہ پہلا موقع ہے ، شعیب ملک قذافی سٹیڈیم میں سب سے زیادہ رنز بنانے کے ریکارڈ میں محمد یوسف کو پیچھے چھوڑ گئے ،انھوں نے اس وینیو پر 21میچز میں991رنز جوڑ لیے ہیں۔محمدیوسف نے 22 میچز میں 946 رنز بنائے تھے ۔شعیب کی کیریئر اوسط 33لیکن قذافی سٹیڈیم میں 55 ہے ، انھوں نے اپنی 8 میں سے 3 سنچریاں اسی میدان پر بنائی ہیں،شعیب ملک پاکستان میں تیز ترین سنچری بنانے والوں میں پانچویں نمبر پر آگئے ،انھوں نے 76 گیندوں پر 112 رنز سکور کیے ،اس فہرست میں ٹاپ پر موجود اعجاز احمد بھارت کیخلاف اکتوبر 1997ء میں صرف 84 گیندوں پر139 رنز بناکر ناقابل شکست رہے تھے ۔
گوکہ پاکستانی ٹیم نے پہلے دونوں ٹی ٹونٹی اور اب پہلے ون ڈے میچ میں کامیابی حاصل کرلی ہے لیکن اس کے باوجود باؤلرز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ٹی ٹونٹی میچز میں باؤلرز نے مہمان ٹیم کیخلاف پہلے دونوں میچز میں 170رنز کھائے جبکہ پہلے ون ڈے میں بھی باؤلرز کی کارکردگی مایوس کن رہی اور زمبابوین ٹیم 334رنزبنانے میں کامیاب رہی جس میں باؤلرز کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے چیف کوچ وقار یونس نے کہا کہ پاکستانی ٹیم زمبابوے سے بہتر تھی، اس لئے انہیں توقع تھی کہ پاکستانی ٹیم دونوں میچ باآسانی جیت جائے گی لیکن جتنے سخت میچوں کے بعد کامیابی حاصل ہوئی ہے اس سے انہیں جیت کی زیادہ خوشی نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں کرکٹ کے مختصر ترین فارمیٹ میں دوسری ٹیموں سے مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں ٹیم میں کئی چیزیں ٹھیک کرنا ہوں گی، ہمارے لئے مکمل طور پر نوجوانوں پر انحصار کرنا مشکل ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments