ابوظہبی سیریز ،آخری اوورمیں 17رنزبنا کر کامران اکمل نے پاکستان کو فتح دلادی

Abu Dhabi Series 1st Match Pakistan Win

کرس گیل کی پانچ چھکوں سے مزین سنچری رائیگاں ،شعیب ملک ،یونس خان اور خرم منظور کی عمدہ بیٹنگ بولنگ میں شعیب اختر کی کمی محسوس ہوئی،آفریدی اور سلمان بٹ کو ڈرنے کی بجائے ذمہ داری سے کھیلنا ہوگا

جمعرات 13 نومبر 2008

اعجاز وسیم باکھری : پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو ابوظہبی ون ڈے سیریز کے پہلے ایک روزہ میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد چار وکٹوں سے شکست دیدی۔اعصاب شکن مقابلے کے بعد حاصل ہونیوالی فتح سے پاکستان نے سیریزمیں ایک صفر کی برتری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ چار ماہ بعد ایک روزہ کرکٹ میں اپنی کامیاب واپسی کی نوید بھی سنادی ۔ابو ظہبی کے خوبصورت شیخ زید سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کپتان کرس گیل کی شاندار سنچری کی بدولت پاکستان کو 295رنز کا مشکل ہدف دیا جوکہ پاکستان نے ایک گیندقبل کامران اکمل کی عمدہ اور دلیرانہ بیٹنگ کی بدولت حاصل کرکے پہلا ایک روزہ میچ جیت لیا۔

اس میچ کی خاص بات دونوں ٹیموں کے کپتانوں کی عمدہ بیٹنگ تھی اور ایک طویل عرصے بعد دیکھا گیا ہے کہ دونوں حریف ٹیموں کے کپتانوں نے ذمہ دارنہ بیٹنگ کی ہے۔

(جاری ہے)

کیربیئن کپتان کرس گیل کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا جس کے وہ حقدار بھی تھے ۔گیل نے پانچ چھکوں اور گیارہ چوکوں کی مدد سے113 رنز کی خوبصورت اننگز کھیلی اور بولنگ میں بھی گیل نے انتہائی عمدہ گیندبازی کا مظاہرہ کیا اور49ویں اوورز میں میچ کے انتہائی اہم موڑ پر اس نے محض 7رنز دئیے لیکن اس سے اگلے اوورمیں کامران اکمل نے ٹیلرکو لگاتار دو چھکے لگاکر میچ کا نقشہ ہی تبدیل کردیا۔

دوسری جانب اگر پاکستانی کپتان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو شعیب ملک نے50گیندوں پر66رنز کی قیمتی اننگز کھیلی تاہم بولنگ میں وہ اپنے حریف ہم منصب گیل کی طرح اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے ،لیکن مشکل حالات میں اپنی ٹیم کیلئے ذمہ دارانہ اننگز کھیل کرشعیب نے اپنی بولنگ کی ناکامی پر پردہ ڈال دیا۔ البتہ شاہدآفریدی دونوں شعبوں میں یکسر ناکام ہے۔

قومی ٹیم کی کپتانی کے خواہشمند آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے بولنگ میں 45رنز کے عوض ایک وکٹ حاصل کی جبکہ بیٹنگ میں انتہائی اہم موڑ پروہ ہمیشہ کی طرح صرف چار رنز پر واپس لوٹ گئے ۔دوسری جانب قومی ٹیم کے اوپنر سلمان بٹ نے انتہائی سست روی سے بیٹنگ کی نجانے وہ کیا سوچ کر وکٹ پر آئے تھے،بٹ نے 52گیندیں کھیلی اور صرف 24رنز سکور کیے جوکہ ایک اوپنر بیٹسمین کے شان شایان میں نہیں ہے اور سلمان بٹ کی ناکامی اور سست روی پر پچ کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیونکہ اس سے قبل حریف ٹیم کا اوپنر کرس گیل سنچری سکور کرچکا تھا اور سلمان بٹ سے بعد میں آنے والے قومی بیٹسمینوں نے بھی روانی کے ساتھ شارٹس کھیلی لیکن سلمان بٹ نجانے اپنے اوپر پریشر لے بیٹھے تھے حالانکہ وہ اوپنر بیٹسمین ہیں اور انہیں اپنی ٹیم کو مثبت آغاز فراہم کرنا چاہیے تھا ناکہ سست روی سے بیٹنگ کرکے میچ کو مزید اپنے لیے مشکل سے بنادینا ان کا کام ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کو سعید انور اور عامر سہیل کے بعد کوئی اچھا اوپنر نہیں مل سکا۔جواچھے اوپنر ملے بھی تھے ان میں سے دوعمران فرحت اور عمران نذیر کرکٹ بورڈ سے مایوس ہوکر باغی لیگ میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں اور تیسرا بہترین اوپنرسلمان بٹ ہی ہے جوگزشتہ کئی ماہ سے انتہائی سست روی سے بیٹنگ کرتا چلا آ رہا ہے جس کا مظاہرہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں بھی دیکھا گیا ہے ،میرے خیال میں شاید سلمان بٹ اپنے مستقبل سے کافی پریشان ہیں اور انہیں ہربار یہی لگتا ہے کہ شاید کہیں ٹیم سے نکال نہ دیا جاؤں حالانکہ وہ پاکستان کے نمبر ون اوپنرہیں اور انہیں بجائے پریشر میں آنے کے اور ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کیلئے کھیلنے سے زیادہ اپنی ٹیم کیلئے سوچنا چاہیے اور عمدہ آغاز فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ بعدمیں آنیوالے بیٹسمین مشکلات کا شکار نہ ہوں ۔

دوسری جانب شاہدآفریدی کی کارکردگی بھی غیرتسلی بخش ہے۔خود کو دنیا کا بہترین آل راؤنڈر سمجھنے والے شاہدآفریدی پاکستانی ٹیم کے سب سے تجربے کارکھلاڑی ہیں اور انہیں اب ذمہ داری سے کھیلناچاہیے کیونکہ قومی ٹیم عالمی رینکنگ میں چھٹے نمبر پر آگئی ہے اور ورلڈکرکٹ میں بہترین مقام حاصل کرنے کیلئے تمام کھلاڑیوں بالخصوص سینئر پلیئرز کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا لیکن ہمارے کرکٹرز کچھ کچھ پریشان دکھائی دیتے ہیں ۔

میرے خیال سے اس کی دووجوہات ہوسکتی ہیں ایک تونئی سلیکشن کمیٹی سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں ڈراپ نہ کردیا جائیں کیونکہ پاکستان میں میرٹ کی قدر ختم ہوکررہ گئی ہے اور دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ٹیم کو طویل عرصے سے کرکٹ کھیلنے کو نہیں ملی شاید اس لیے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں قومی کرکٹرز تھکے تھکے اور خاموش دکھائی دے رہے تھے لیکن آخر میں کامران اکمل نے فیصلہ کن اوورمیں 17رنز سمیٹ کر تمام خامیوں ،ناکامیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈال دیا لیکن مجھے یقین ہے کہ انتخاب عالم پہلی جیت حاصل کرلینے کے بعد بھی راحت محسوس نہیں کررہے ہونگے بلکہ ان کی کوشش ہوگی کہ اگلے میچ سے قبل تمام خامیوں پر قابوپالیا جائے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں کامیابی حاصل کرنے پر قومی ٹیم کی نئی ٹیم مینجمنٹ کو کافی حد تک خوشی ضرور ہوئی ہوگی کیونکہ جیف لاسن جس حالات میں ٹیم کو چھوڑ کرگئے وہ کافی مشکل صورت حال تھی ۔لیکن انتخاب عالم ،اعجازاحمد اور عاقب جاوید جیسے تجربہ کارکوچنگ سٹاف کی محنت نے اپنا رنگ دکھایا اور پاکستان کو ابتدائی کامیابی نصیب ہوئی۔ یہ بھی سچ ہے کہ پہلے میچ میں شعیب اختر کی بولنگ میں یقینی طور پر کمی محسوس ہوئی ۔

معمولی انجری کی وجہ سے شعیب پہلے میچ میں شرکت نہیں کرسکے تاہم کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ سپیڈمرچنٹ اگلے میچ کیلئے مکمل طور پر فٹ ہوچکے ہیں اور جمعہ کو کالی آندھی کے خلاف ضرور میدان میں اتریں گے اور دیکھنا ہوگا کہ شعیب اختر کرس گیل کے بلے کو خاموش کرسکتے ہیں یا پھر خود گیل کی سفاکی کا شکار ہوتے ہیں ؟۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments