ایک ہفتے میں ہی ورلڈکپ جیتنے کے خواب بکھرنے لگے

Aik Hafte Main Hi Worldcup Jeetne K Khawab Bikharne Lage

اگلے چار میچز میں جیت کی امیدیں تو ہیں لیکن آئرلینڈ کیخلاف ہار کا ڈر بڑھنے لگا

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری اتوار 22 فروری 2015

کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم نے ابتدائی دو میچز میں شکست کاجھومر ماتھے پر کیا سجایا شائقین کرکٹ نے علامتی جنازے ہی نکال لیے۔ قومی کرکٹ ٹیم نے ورلڈکپ سے پہلے اور ورلڈکپ شروع ہونے کے بعد آن فیلڈ اور آف دی فیلڈ کارکردگی سے بہت مایوس کیاہے۔ پاکستان ٹیم کے بارے میں دعویٰ تو کسی نے نہیں کیا تھا لیکن ایک امید ضرور تھی کہ یہ ٹیم مایوس کن کھیل کی بجائے قابل ستائش انداز میں کرکٹ کھیلے گی۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور پاکستانی ٹیم مسلسل تو رہی ہے لیکن شرمناک انداز میں ہار کسی صورت قابل و قبول نہیں۔ کرکٹ سے پاکستانی قوم کی جذباتی وابستگی ہے اور یہ جذباتی وابستگی ہی ہے کہ تیسرے درجے کی ٹیم سے بھی شائقین نے امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کیخلاف شکست کے باوجود شائقین کو اگلے چار میچز میں بھی امید ہے کہ یہ ٹیم کم بیک کریگی، امیدیں کم ضرور ہوگئی ہیں لیکن خواہشات برقرار ہیں کہ پاکستانی ٹیم عزت کے ساتھ کوارٹرفائنل تک رسائی حاصل کی۔

(جاری ہے)

پاکستانی ٹیم کے ابتدائی میچز میں شکست پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور تبصرے کیے گئے ہیں ، اگر ٹیم کی کارکردگی کا بنیادی پہلوؤں غور سے دیکھا جائے تو ناقص سلیکشن کا سب سے نمایاں عمل دخل ہے۔ چیف سلیکٹر معین خان ورلڈکپ میں شریک 14ٹیموں میں سے واحد پاکستانی ٹیم کے چیف سلیکٹر ہیں جو ٹیم کے ساتھ سفرکررہے ہیں اور کرکٹ بورڈ معین خان پر 50لاکھ روپے ضائع کررہا ہے حالانکہ دوران میچ معین خان ڈریسنگ روم میں بھی نہیں جاسکتے لیکن اس کے باوجود انہیں نوازا جارہا ہے اور موصوف جو ٹیم منتخب کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں اس نے بے عزت کروانے کے سوا اب تک کچھ نہیں کیا۔ ناقص سلیکشن اور آپریشن کلین اپ کی بات کی جائے یونس خان کا نام نمایاں حروف میں سامنے آجاتا ہے۔ یونس خان ورلڈکپ کے وارم اپ میچز سے لیکرابتدائی دو میچز میں یہ کارکردگی دکھائی ہے، صفر، چھ، گیارہ اور نورنز سکور کیے ہیں۔ یونس خان کو متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان کی کمزور بیٹنگ لائن کو سہارا دینے کے لیے سکواڈ میں شامل کیا گیا تھا لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ بوجھ بن کر رہ گئے ہی۔یونس خان کی کارکردگی کا جائزہ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ طویل طرز کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے اور کئی قومی و عالمی ریکارڈز اپنے نام کرنے کے باوجود مختصر طرز میں ان کی کارکردگی اس قابل نہیں کہ وہ عالمی کپ جیسے بڑے اور اہم ٹورنامنٹ کے لیے ٹیم میں جگہ پائیں لیکن وہ ٹیم کا حصہ بھی ہیں اور انہیں ٹیم میں کھلانے کیلئے سرفراز احمد کو ابتدائی دونوں میچز میں باہر بیٹھے اور ان کی جگہ عمراکمل سے وکٹ کیپنگ کرائی گئی جس نے دو میچز میں چار کیچز گرا دئیے ہیں۔ 

 کرکٹ پنڈتوں نے میگا ایونٹ میں قومی ٹیم کی متواتر دوسری شکست کا ذمہ دار بیٹنگ لائن اور خاص کر اوپننگ بلے بازجوڑی کی ناکامی کو قرار دیا ہے۔ مستقل اوپننگ بلے باز جوڑی قومی کرکٹ ٹیم کا بہت بڑا مسئلہ ہے جسے تاحال نہیں حل کیا جا سکا۔قومی ٹیم کو احمد شہزاد اور محمد حفیظ کی شکل میں اچھا اوپننگ پیئر ملا جو ورلڈ کپ سے قبل ہی محمد حفیظ کے زخمی ہونے کے بعد ٹوٹ گیا۔میگا ایونٹ سے قبل قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز اورآل راوٴنڈر محمد حفیظ کی اچانک انجری اور پھر ورلڈ کپ سے ہنگامی طور پر باہر ہونے پر کئی سوالات نے جنم لیا اور اب اس حوالے سے دبی دبی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ محمدحفیظ نیپیئر میں نیوزی لینڈ کے خلاف 3 فروری کو شیڈول ایک روزہ میچ کے دوران فٹنس مسائل کا شکار ہو گئے تھے جس کے باعث وہ 6 فروری کو برسبین میں شیڈول بائیو مکینک ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہو سکے۔ ابتدا میں اس انجری کومعمولی قرار دیا جا رہا تھا مگر راتوں رات یکدم وہ اتنی سنگین ہو گئی کہ قومی ٹیم کے آل راوٴنڈر ورلڈ کپ سے قبل بنگلہ دیش کے خلاف وارم اپ میچ میں بھی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے اور پھر ہنگامی بنیادوں پر اس انجری کو سنجیدہ نوعیت کی قرار دے کر انھیں وطن واپسی کا ٹکٹ تھما دیا گیا۔ ٹیم منیجمنٹ نے محمد حفیظ کو ان فٹ قرار دے کر ناصر جمشید کو کینگروز کے دیس بھجوانے کو فوقیت دی۔ اس فیصلے پر اگرچہ محمد حفیظ نے دبے الفاظ میں احتجاج بھی کیا مگر انکی کسی بھی پلیٹ فارم پر شنوائی نہ ہو سکی ۔میگا ایونٹ میں شامل ہونے کے بعد ناصر جمشید کو افتتاحی میچ میں بھارت کے خلاف نہ کھیلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے یونس خان کو احمد شہزاد کے ساتھ اوپننگ کے لئے بھیجا گیا مگر یہ تجربہ ناکام رہا ۔

پاکستان اپنا اگلا مقابلہ یکم مارچ کو برسبین میں زمبابوے کے خلاف کھیلے گا اور اس مقابلے میں پاکستان کے پاس جیتنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بھی شکست کے بعد اس کے لیے بہت مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں کیونکہ اسے گروپ میں جنوبی افریقہ کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور عالمی کپ میں پہلا اپ سیٹ کرنے والے آئرلینڈ کا بھی۔ پاکستان کو فقط ایک صحیح کمبی نیشن کی اور فارم میں نہ ہونے والے کھلاڑیوں کے لیے زبردستی جگہ بنانے کے بجائے سپیشلسٹ کھلاڑیوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ قومی ٹیم نے میگا ایونٹ میں اگر اپنی جگہ دوبارہ بنانی ہے تو ٹیم مینجمنٹ کو اوپننگ بلے باز جوڑی کے مسئلے کو جلد سے جلد کرنا ہوگاوگرنہ ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔اگر پاکستان آئندہ مقابلوں میں آئرلینڈ اور زمبابوے جیسے بظاہر کمزور لیکن درحقیقت لوہے کے چنے ثابت ہونے والے حریفوں کو زیر کرنا چاہتا ہے تو اسے ضرورت ہوگی دماغ کو استعمال کرنے، خوف کو دل سے نکالنے اور متحد ہو کر کھیلنے کی ورنہ پاکستان کی عالمی کپ داستان کا پہلے ہی مرحلے میں خاتمہ ہوسکتا ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments