ریسلرزآندرے دِی جا ئنٹ " دِی گرٹیسٹ ڈرنکن آن دِی آرتھ"

André The Giant French Professional Wrestler

24 مارچ1973ء میں ڈبلیو ڈبلیو ایف/ ای میں ریسلنگ ڈبیو کیا ، پھر اگلے 15سال وہ اس ادارے کے اہم ایونٹس میں ناقابل ِشکست رہے

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر ستمبر

André The Giant French Professional Wrestler
یہ " آندرے دِی جائنٹ" کون تھے؟ ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئین اوراُنکی یاد میں ڈبلیو ڈبلیو ای کے ایونٹ ریسل مینیا میں "آندرے دِی جا ئنٹ میموریل بیٹل رائل" کے نام سے مقابلہ بھی کروایا جاتا ہے۔ اُنکو دُنیا کا آٹھوں عجوبہ بھی کہا جاتا تھا اور بے انتہاء شراب پینے کی بر ی عادت کی وجہ سے " دِی گرٹیسٹ ڈرنکن آن دِی آرتھ"بھی بلکہ اسکی وجہ سے اور 1974ء میں سب سے زیادہ پیسہ لینے والے ریسلر کے طور پر اُنکا نام " گینس بُک آف ورلڈ ریکارڈ " میں بھی آیا۔

اداکاری کے جوہر بھی دکھائے اورجین کرسٹنسن نامی لڑکی سے کینیڈا میں شادی بھی کی ۔ جب اُنکے ہاں اکلوتی بیٹی رابن کرسٹنسن پیدا ہو ئی تو اسکے کچھ مدت بعد میاں بیوی میں طلاق ہو گئی۔ جی! اُنکا اصل نام تھا " آندرے رین روسیموف" انکا قد ریسلر قد 7.4 انچ اور وزن236کلو گرام تھا۔

(جاری ہے)

جب وہ رِنگ میں آتے تو ایک الگ ہی سماں ہو تا تھا ۔ وہ ایک پیشہ ور ریسلر تھے جنکی پیدائش 19 ِمئی 1946ء کو کلو میئرس،فرانس میں ہوئی۔

پانچ بچوں میں سے تیسرے تھے اور اُنکے والد کا نام بورس روسموف اسٹوف تھا اور انکا تعلق بلغاریہ سے تھا اور والدہ کا نام ماریانہ اور تعلق پولینڈ سے تھا۔اُنکا فرانس کے شہر گرینوبل میں زرعی فارم پر زندگی کا گزر بسر کا سلسلہ تھا۔پیدائش کے وقت آندرے کا وزن 13 پاوٴنڈ تھا اور 12 سال کی عمر میں ہی قد (6 فٹ 3 انچ) ہو گیا۔لہذا اندازہ ہو گیا تھا کہ اُن میں" جا ئیگنٹازم" کی علامات ظاہر ہو ناشروع ہو گئی ہیں یعنی بڑا سر، چوڑا آئرش ڈرامہ نگار اور ادب میں نوبل انعام یافتہ ، سموئیل بیکٹ چہرہ ، لمبے ہاتھ پاؤں۔

آندرے کیلئے سکول بس میں سفر کرنا مشکل ہو چکا تھا ور والدین کے پاس کا ر خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔اُنہی دِنوں آئرش ڈرامہ نگار اور ادب میں نوبل انعام یافتہ سموئیل بیکٹ کا وہاں قریب ہی کام کے سلسلہ میں آنا جانا شروع ہو ا تو آندرے کے والد سے دوستی ہو گئی ۔ آندرے سے ملاقات ہوئی تو پھر اُنکے ٹرک پر آندرے اپنے بہن بھائیوں کیساتھ سکول جا نا شروع ہو گئے۔

آندرے ایک اوسط درجہ کا طالب علم تھا خاص طور پر ریاضی میں ۔ لیکن 14 سال کی عمر تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید بڑھائی کو ترجیح نہ دی اور اپنے والد اور بھائی کیساتھ زرعی فارم پر کا م شرو ع کر دیا۔ بھائی جیک کے مطابق وہ تین افراد کا کام اکیلے انجام دیتے تھے۔ اُنھوں نے لکڑی کے کام میں بھی اپرنٹسشپ مکمل کی اور ایک فیکٹری میں کام بھی کیا۔

تاہم اُنھیں کسی بھی پیشے سے اسے کوئی اطمینان نہیں ہوا۔ لہذا اُنھوں نے سوچا کیوں نہ ریسلر بنا جائے۔جسکے بعد پیرس جاکر رات کے وقت ریسلنگ کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دی اور دِن کے وقت اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے سامان اٹھانیوالی کمپنی میں ملازمت کر لی۔ آندرے نے پیرس میں ریسلنگ مقابلوں کا آغاز کر دیا اور پھر1966 ء میں کینیڈا کے ایک ریسلنگ نمائندے کے تعاون سے انگلینڈ ،جرمنی،آسٹریلیا،نیوزی لینڈاور افریقہ میں ایک پیشہ ور جائنٹ ریسلر کی حیثیت میں مقبولیت حاصل کر لی جو اُنکو70ء کی دہائی میں جاپان میں ریسلنگ کے میدان میں لے گئی۔

یہی وہ دور تھا جب جاپان کے ڈاکٹرز نے اُنھیں آنیوالے سالوں میں جسمانی جوڑوں کے مسائل کے متعلق متنبہ کیا۔وہاں سے پہنچے کینیڈا۔اگلے دوسالوں میں اس میدان میں مزید شہرت ملی تو24 ِ مارچ1973ء میں ڈبلیو ڈبلیو ایف/ ای میں ریسلنگ ڈبیو کیا ور پھر اگلے 15سال وہ اس ادارے کے اہم ایونٹس میں ناقابل ِشکست رہے ۔مد ِمقابل ریسلرز کو کچلتے رہے اور رِنگ نام پڑا" آندرے دِی جائنٹ" ۔

ریسلر ہلک ہو گن کا اس دوران شہرت کا ڈنکا بجنے لگا اور ریسل مینیا 3 اور 4 میں وہ ہلک ہوگن کے مد ِمقابل ہونیکی وجہ سے پوسٹرز پر نظر آئے۔29 ِمارچ1987ء کو ہونیوالا ریسل مینیا3وہ اہم ایونٹ تھا جس میں آخرکا ر ہلک ہوگن نے آندرے کو شکست دیکر ان سے ناقابل ِ شکست ہونیکا اعزاز چھین لیا اور ریسل مینیا 4میں بھی آندرے کو ہلک ہوگن سے شکست ہوگئی۔اسکے بعد وہ صحت مسائل کی وجہ سے ریسلنگ میں کسی حد تک سرگرم نظر آئے اور ڈاکٹر ز کے مشوروں کے باوجود سرجری سے دُور رہے۔

1992 ء میں ریٹائرہو گئے اور پھر اُنکی ایسی حالت ہو گئی کہ کئی لڑکے لڑکیوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھا کر طاقت کا مظاہرہ کرنیوالے دوسروں کے کندھوں کے سہارے اپنی بیماری کے دِن گزرنے لگے ۔ پھر مزید صحت خراب رہنے لگی اور27ِ جنوری1993ء میں 46سال کی عمر میں پیرس میں انتقال کر گئے۔ ان سے 12 دِن پہلے15 جنوری1993ء کو اُنکے والد بھی 85سال کی عمر میں فرانس میں ہی انتقال کر گئے تھے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments