انجلیک کربر ’کلے کورٹ سیزن کاڈراؤنا خواب‘ بھلانے کی خواہاں

Anglique Kerber's Upset Defeat

فرنچ 2017 کی ٹاپ سیڈ جرمن ٹینس سٹارپہلے ہی راؤنڈ میں روس کی مکارووا کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست سے دوچار

Syed Azam Shah سید اعظم شاہ جمعرات جون

Anglique Kerber's Upset Defeat
فرنچ اوپن 2017 کی ٹاپ سیڈ عالمی نمبرایک انجلیک کربر پہلے ہی راؤنڈ میں اپ سیٹ شکست سے دوچار ہوکر ٹائٹل کے حصول کی دوڑسے باہر ہوگئی ہیں۔انہیں روس کی ایکا ترینا مکارووا نے سٹریٹ سیٹس میں 6-2 ،6-2 کے سکور سے ہرا کر اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کیا۔یوں وہ فرنچ اوپن کی تاریخ کی پہلی ٹاپ سیڈ پلیئر بن گئی ہیں جو ویمنز سنگلز کے پہلے ہی راؤنڈ میں ناکام رہیں۔

کربر گذشتہ برس بھی تھرڈ سیڈ ہونے کے باوجود فرنچ اوپن کے ابتدا ئی مرحلے میں ہی ہار گئی تھیں۔2017 کے پچھلے چند ماہ کے ریکارڈ کو مد نظر رکھا جائے تو بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ رواں سال ’ کلے کورٹ سیزن‘ 29 سالہ کربرکے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے ۔وہ ایک عرصے سے عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں ۔

(جاری ہے)

حال ہی میں انہوں نے سرینا ولیمز سے پہلی پوزیشن چھینی تاہم عالمی نمبر ایک کی حیثیت سے کلے کورٹ پر ان کی کارکردگی اس سطح کی نہیں ہے، جس کی ان سے توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔


اتوارکو ان کا مقابلہ نسبتاََ اوسط کی پلیئر ایکا ترینا مکارووا سے ہوا۔عالمی رینکنگ میں 40 ویں نمبر پربراجمان مکارووا کی بہترین کارکردگی 2011 اور 2015 میں چوتھے راؤنڈ تک رسائی ہے ۔وہ یو ایس اوپن اور آسٹریلین اوپن کا سیمی فائنل جبکہ ومبلڈن اوپن کا کوارٹر فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کرچکی ہیں۔ 2014 میں انہوں نے یو ایس اوپن کا مکسڈ ڈبلز ٹائٹل جیتا۔

گرینڈ سلام کے علاوہ انہوں نے 2 ڈبلیو ٹی اے ٹائٹلز اور 3 آئی ٹی ایف ٹائٹلز اپنے نام کیے۔ان کے مقابلے میں جرمنی کی انجلیک کربر کے ریکارڈ پر نظر ڈورائی جائے تووہ2016 میں آسٹریلین اوپن اور یوایس اوپن کی فاتح رہیں ۔ اسی سال انہوں نے ومبلڈن اوپن کے فائنل کے لیے بھی کوالیفائی کیا جبکہ 2012 میں وہ فرنچ اوپن کا کوارٹر فائنل بھی کھیل چکی ہیں۔کربر نے 10 ڈبلیو ٹی اے اور11 آئی ٹی ایف ٹائٹلز جیتے ۔

دونوں پلیئر ز کی کاررکردگی کا موازنہ بتاتا ہے کہ مکارووا کے برعکس انجلیک کربر نے گرینڈ سلام ٹورنامنٹس کے سنگلز میں انتہائی متاثر کن کارکردگی کا مظاہر کیا ہے ۔بالخصوص 2016 میں یوایس اوپن اور آسٹریلین اوپن کے ٹائٹلز جیتنے ،ٹینس کی دنیا کے مقبول ترین ٹورنامنٹ ومبلڈن اوپن کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے اور گذشتہ کئی ماہ سے عالمی رینکنگ میں مسلسل پہلے نمبر پہ براجمان رہنے کے پیش نظر انجلیک کربر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔

اسی امر کے باعث فرنچ اوپن 2017 کی فہرست میں وہ ٹاپ سیڈ رہیں۔انہیں فیورٹ اس لیے بھی قرار دیا جارہا تھا کہ عالمی نمبر 2 سرینا ولیمزاور ماریہ شیراپووا کے علاوہ وکٹوریہ آذرینکا کی ایونٹ میں عدم شرکت کے نتیجے میں ان کے ٹائٹل جیتنے کا راستہ ہموار ہوگیا تھا مگر انہوں نے پہلے راؤنڈ میں ہی مکارووا کے خلاف نہایت مایوس کن کھیل پیش کرتے ہوئے سنہری موقع گنوا دیا۔


رولینڈ گیرس کے تاریخی فلیپ چاٹریا کورٹ پر کھیلے جانے والے میچ میں انجلیک کربر ایک طرح سے بے بس نظر آئیں ۔پہلے سیٹ میں ہی انہوں نے مکارووا کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا اورابتدائی 6 گیمز میں سے صرف 1 میں کامیابی حاصل کی ۔ سیٹ کا سکور جب 5-1 ہوا تو کربر نے ایک گیم جیت کر کھیل میں واپس آنے کی ناکام کوشش کی تاہم مکارووا نے اگلی ہی گیم جیت کر2 کے مقابلے میں6 گیمز سے سیٹ اپنے نام کرلیا۔

دوسرے سیٹ میں بھی کربر نے خاص مزاحمت نہیں کی جس کے نتیجے میں مکارووا نے پہلی تینوں گیمز جیت کر ان کی مشکلات میں اضافہ کردیا ۔ یہ و ہ موقع تھا جب انجلیک کربر نے پہلی دفعہ فرنچ اوپن سے باہر ہونے کا خطرہ محسوس کیا اور اس کا اثر ان کی کارکردگی پر بھی پڑا۔اس کے باوجود کربر نے ہمت نہیں ہاری اور اگلی دونوں گیمز جیت کر شکست کا خطرہ بہت حد تک ٹال دیا ۔

اس مرحلے میں وہ پوری طرح میچ میں واپس آگئی تھیں ۔یہی نہیں بلکہ اگلی گیم میں بھی کربر کا تسلط برقرار رہا اور ایک موقع ایسا آیا کہ کربر کواس گیم میں40-0 کی برتری حاصل ہوگئی۔محض ایک پوائنٹ کا حصول کربر کو 4 کے مقابلے میں 3 گیمز میں فتح دلا سکتا تھا لیکن حیران کن طور پر مکارروا کے زوردار فور ہینڈ کے جواب میں کربر کی موومنٹ صفر رہی اور مقابلہ 40-15 ہوگیا۔

بعدازاں مکارووا نے کربر کو گیم میں برتری حاصل کرنے کی ذرا بھی مہلت نہیں دی اور ڈیوس کے مرحلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالآخر گیم جیت لی۔اس سے اگلی گیم میں بھی کربرنے ہلکی سی مزاحمت کی اور کھیل کو ڈیوس کے مرحلے پر پہنچا دیا تاہم مکارروا کے زوردار فورہینڈ نے اپ سیٹ کرتے ہوئے جرمن ٹینس سٹار کو ایونٹ سے باہر کردیا۔
بلاشبہ یہ َ کربر سمیت ان کے مداحوں کے لیے ایک تکلیف دہ لمحہ تھا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کربر کی سست روی، ناقص موومنٹ اور ان فورسڈ ایررز کی انتہا ہی درحقیقت ان کی شکست کی وجہ بنی۔کلے کورٹ پر جس طرح کافٹ ورک،سلائیڈنگ اور سبک رفتاری کی ضرورت تھی ، ان کے کھیل میں ذرا بھی اس کی جھلک نظر نہیں آئی۔کربر کی شاٹس میں وہ دم نہیں تھا جو ان کی پہچان ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ کلے کورٹ کے صبر آزما اور محنت طلب کھیل میں سٹیمنا اور حکمت عملی کا فقدان بھی ان کی ہار کا بنیادی سبب بنا۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں خود بھی تسلیم کیا کہ کلے کورٹ میں وہ خود کو بہتر محسوس نہیں کرتیں کیونکہ یہ ان کی بیسٹ سرفیس(Surface ) نہیں ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سال 2017 کے ابتدائی ماہ، بالخصوص کلے کورٹ سیزن ان کے لیے ناکامیوں کا پیغام لے کر آیا۔ماضی قریب میں منعقد ہونے والے ایونٹس میں انجلیک کربر کلے کورٹ پر نچلے درجے کی پلیئر نظر آئیں اور اسی خراب کارکردگی کے تسلسل کا نتیجہ فرنچ اوپن کے پہلے راؤنڈ سے اخراج کی صورت میں سامنے آیا۔


جرمن ٹینس سٹار کے پاس اب ایک ہی آپشن باقی رہ گیا ہے کہ کلے کورٹ کی ناکامیوں کا طوق گلے سے اتار کر اپنی تمام تر توجہ ومبلڈن اوپن پہ مرکوز رکھیں اور میسر وقت کو اپنے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند بنائیں۔ وہ 2016 میں ومبلڈن اوپن کی فائنلسٹ بھی رہ چکی ہیں ۔ چونکہ ہارڈ کورٹ کے بعد گراس کورٹ ان کی پسندیدہ سرفیس ہے لہذا ان کے لیے ومبلڈن میں ایک بار پھر شاندار کاکردگی کے ذریعے ٹینس حلقوں کی توجہ حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔


دوسری جانب انجلیک کربر کے اخراج کے نتیجے میں کئی پلیئرز کے لیے اپنی رینکنگ میں بہتری لانے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔فرنج اوپن کے ویمنز سنگلز میں ٹائٹل کے حصول کے لیے جہاں پلیئرز کے مابین سنسنی خیزمیچز متوقع ہیں ، وہاں انجلیک کربرلامحالہ نمبر 1 پوزیشن سے محروم ہوجائیں گی ۔اس وقت متعدد پلیئرز ایسی ہیں جو سرینا ولیمز، ماریہ شیراپووا، وکٹوریہ آذرینکا اور اکربر کی عدم موجوددگی میں شائقین کی توجہ حاصل کرسکتی ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ فیورٹ لسٹ میں موجود ٹینس سٹارز اس امر کا فائدہ اٹھانے کے لیے کس حکمت عملی کا سہارا لیتی ہیں۔فی لوقت زیرِ بحث انجلیک کربر کی حکمت عملی ہے اور ہر ٹینس شائق کے ذہن میں یہی سوال ابھر رہا ہے کہ کیا انجلیک کربر کلے کورٹ سیزن کا’ ڈراؤنا خواب ‘ بھلا کر ومبلڈن اوپن کے گراس کورٹ پر مختلف روپ میں نظر آئیں گی ؟ یقیناََ اس سوال کے جواب کا انحصار کربر کی محنت ،عزم اور حوصلے پر ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments