آسٹریلین اوپن ٹینس 2017ء۔۔۔راجر فیڈرر اور سرینا ولیمزچیمپئین

Australian Open 2017

تاریخ و نصیب ایک نئی تاریخ بنادیتی ہے۔ ٹینس کی دُنیا کی مشہور ولیمز سسٹرز کے والد رچرڈ ولیمز مختلف ٹینس کلبوں سے دراخوست کیا کرتے تھے کہ اپنے پرانے ٹینس گیند ان کو دے دیا کریں تاکہ وہ اپنی بیٹیوں کو ٹینس سکھا سکیں ۔وقت نے دونوں سسٹرز کو ٹینس کی دُنیا پر راج بھی کروایا اور سرینا ولیمز نے اس آسٹریلین اوپن میں کامیابی حاصل کر کے 23گرینڈسلام ہی جیت لیئے

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر جنوری

Australian Open 2017
تاریخ و نصیب ایک نئی تاریخ بنادیتی ہے۔ ٹینس کی دُنیا کی مشہور ولیمز سسٹرز کے والد رچرڈ ولیمز مختلف ٹینس کلبوں سے دراخوست کیا کرتے تھے کہ اپنے پرانے ٹینس گیند ان کو دے دیا کریں تاکہ وہ اپنی بیٹیوں کو ٹینس سکھا سکیں ۔وقت نے دونوں سسٹرز کو ٹینس کی دُنیا پر راج بھی کروایا اور سرینا ولیمز نے اس آسٹریلین اوپن میں کامیابی حاصل کر کے 23گرینڈسلام ہی جیت لیئے ۔

سٹیفی گراف کا 22گرینڈ سلام جیتنے کا ریکارڈ توڑ دیا اور سب سے زیادہ 24گرینڈ سلام جیتنے والی مارگریٹ کورٹ کہتی ہیں سرینا کا اگلا قدم اُنکے ریکارڈ کو برابر کرنے کی طرف ہے۔
مردوں میں راجر فیڈرر نے بھی ایک لمبے وقفے کے بعد ٹینس کی دُنیا میں قدم رکھا اور اس سال کے پہلے گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طرف شائقین کا دِل جیت لیا اور دوسری طرف آسٹریلین اوپن کا ٹائٹل ہی جیت لیا۔

(جاری ہے)


2017ء کا پہلا گرینڈ سلام ٹینس ٹورنامنٹ آسٹریلین اوپن کا 105واں ایڈیشن 16 ِ جنوری 2017ء تا 29ِجنوری2017ء میلبورن پارک کمپلیکس ،میلبورن، ریاست وکٹوریا،آسٹریلیا میں میں کھیلا گیا۔
چند اہم معلومات:
# تاریخی اعتبار سے اس ٹورنامنٹ کا آغاز1905ء میں ہوا۔
# 1969ء میں اس ٹورنامنٹ کو آسٹریلین اوپن کا خطاب ملا اور پھر بڑھاتی ہوئی مقبولیت پر جلد ہی گرینڈ سلام کی حیثیت اختیار کر گیا۔


# ارتقائی دور میں یہ ٹورنامنٹ آسٹریلیا کے 5شہروں و نیوزی لینڈ کے2شہروں میں بھی کھیلا جا تا رہا ۔لیکن میلبورن میں شائقین کا ہجوم و شوق دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ آسٹریلین اوپن ٹینس کے مقابلوں کیلئے میلبورن ہی مناسب شہر ہے جسکے بعد1972ء سے موجودہ سال تک اِ س شہر میں دُنیا بھر کے ٹینس کے بڑے کھلاڑی کھیلنے اور شائقین دیکھنے آتے ہیں۔


# 1988ء سے پہلے تک آسٹریلین اوپن میں کھلاڑی گھاس کے کورٹ پر اپنی قسمت آزمائی کرتے رہے ۔لیکن پھر تاحال دو طرح کے ہارڈ کورٹ پر کھیلا جاتا رہا ہے۔2007ء تک گرین رِی باؤنڈ ایث اور 2008ء سے اب تک مسلسل بلیو پلیکسی کوشن ہارڈ کورٹ پر۔
# آسٹریلیا میں جنور ی میں کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ میں گرمی کے موسم کی وجہ سے کھلاڑی زیادہ تر نڈھال بھی نظر آتے ہیں۔


# آسٹریلین اوپن کے بعد فرنچ اوپن، ومبلڈن اور پھر یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹس منعقد ہو تے ہیں۔
اہم واقعات:
# ٹینس کے پہلے گرینڈ سلام اَسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جنوری 2017ء کی انعامی رقم بڑھا کر 36.25ملین امریکی ڈالر کر دی گئی تھی۔جس سے میں سے 3.7ملین مینز و ویمنزسنگلز ایونٹس کے فاتحین کو ملے گی۔جبکہ پہلے راؤنڈ میں ناکام رہنے والا کھلاڑی بھی50ہزار ڈالر ک احقدار ہو گا۔


# دفاعی چیمپئین اور6 بار کے چیمپئین سربیا نواک جوکووچ آسٹریلین اوپن کے دوسرے راؤنڈ میں 117ویں رینکنگ کے کھلاڑی ڈینس ایسٹومین شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے۔
# ورلڈ نمبر ون انگلینڈ کے اینڈی مرے کو عالمی نمبر50 مسچا زیوریف جن کا تعلق یوکرائن سے تھا نے اَسٹریلین اوپن کے چوتھے راؤنڈ میں شکست دے دی ۔چوتھے راؤنڈ میں ہی ورلڈ نمبر ون اور اَسٹریلین اوپن کی جرمن دفاعی چیمپئین انجلیک کربر کو امریکہ کی 35 ویں ورلڈ پوزیشن کی کھلاڑی سی۔

واندوگہ نے ہارا دیا۔
خواتین کے کوارٹر فائنل:
میں سب سے پہلے تو یہ اہم رہا کہ امریکہ کی وینس و سرینا ولیمز سسٹرز اپنے چاروں راؤنڈ ز میں کامیابی حاصل کر کے پہنچیں۔ جنکے کوارٹر فائنلز میں مقابلے بالترتیب روس کی انستاسیہ پولوچنکووا اور انگلینڈ کی جوہانہ کونٹا سے ہوا اور دونوں سسٹرز نے اُن کو بھی شکست دے کے سیمی فائنلز میں جگہ بنا لی۔

اس کے علاوہ خواتین کے 2 اور کوارٹر فائنلز کھیلے گئے۔جس میں سے ایک میں امریکہ کی کوکو وینڈے ویگ نے فرنچ اوپن 2016ء کی چیمپئین سپین کی گیبرین موگوروزا کو اسٹریٹ سیٹ میں شکست دی اور دوسرے مقابلے میں کروشیا کی ایم ۔وسیتش بارونی چیک رِی پبلک کی کیرولینا پالیسکووا کو ہرا کر سیمی فائنل میں سرینا ولیم کے مقابل آگئیں۔
خواتین کے سیمی فائنلز :
میں کچھ اُمید تھی کہ سخت مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

لیکن سرینا ولیمز نے تو اپنے خلا ف کھیلنے والی ایم ۔وسیتش بارونی کو جھٹکا ہی کیا اور 6۔2اور6۔1سے شکست دے دی ۔جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں وینس ولیمز کو پہلے سیٹ میں واقعی کوکو وینڈے ویگ سے سخت مقابلہ بھی کرنا پڑا اور شکست بھی کھائی ۔پھر وینس ولیمز نے اپنے تجربے سے میچ میں واپسی کی اور اگلے دونوں سیٹ جیت کر اپنی چھوٹی بہن سرینا ولیمز کے ساتھ فائنل کے مقابلے میں آگئیں۔


مردوں کے کوارٹر فائنلز:
میں سوئیز لینڈ کے راجر فیڈر ر نے جرمن میشا زویریو کواسٹریٹ سیٹ میں ہرا کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔ سوئیز لینڈ کے ہی ایس۔ واورنیکا نے فرانس کے جے۔زونگاکو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا ئی۔ تیسرے کوارٹر فائنل میں بلغاریہ کے جی۔ڈیمیٹروف نے ڈیوڈ گوفن جنکا تعلق بلجئیم سے تھا کو آسانی سے ہرا دیا اور چوتھے مقابلے میں کینیڈا کے میلوس ریونک کو شکست دینے والے سپین کے رافیل نڈال کے مقابلے میں سیمی فائنل میں پہنچ گئے۔


مردوں کے سیمی فائنل :
میں ٹینس کی دُنیا کے دوبڑے نام راجر فیڈرر اور رافیل نڈال پسندیدہ سمجھے جارہے تھے کیونکہ دوسرے دو بڑے نام نواک جوکووچ اور اینڈی مرے آسٹریلین اوپن کے راؤنڈ میچوں میں ہی شکست کھا چکے تھے۔ بہرحال پہلا سیمی فائنل 26ِجنوری کو دونوں ہم وطنوں راجر فیڈرر اور ایس ۔واورنیکا جو گزشتہ سال کے یو ایس اوپن کے چیمپئین بھی ہیں کے درمیان ہوا۔

پہلے دو سیٹ راجر فیڈرر نے جیتے ۔لیکن پھر واورنیکا نے کمال کھیل دکھایا اور اگلے دو سیٹ آسانی سے جیت لیئے۔ لیکن آخری سیٹ میں شاید واورنیکا ایک بڑے کھلا ڑی کے تجربے کے آگے کھڑے نہ ہو سکے اور میچ کا فیصلہ راجر فیڈرر نے اپنے حق میں کر لیا۔
اگلے روز دوسرا سنسنی خیز سیمی فائنل رافیل نڈل اور جی۔ڈیمیٹروف کے درمیان ہوا جس میں پہلا اور تیسرا سیٹ رافیل نڈال نے اور دوسرا اور چوتھا جی۔

ڈیمیٹروف نے جیت لیا۔مقابلہ سخت تھا لیکن آخری سیٹ انتہائی ہو شیاری سے کھیل کر رافیل نڈال فائنل میں اپنے پرانے حریف راجر فیڈرر کے مقابلے میں آگئے۔
خواتین کا فائنل:
28ِجنوری 2017ء کو سرینا ولیمز کا مقابلہ اپنی بڑی بہن وینس ولیمز سے تھا ۔ تجزیئے کے مطابق واضح نظر آرہا تھا کہ35سالہ سریناکی کامیابی کے امکانات زیادہ تھے کیونکہ وہ اس دفعہ آسٹریلین اوپن کے تمام مراحل میں اپنے حریفوں کو آسانی سے شکست دے کر فائنل میں پہنچی تھیں۔

جبکہ36سالہ وینس کو بعض سخت مقابلوں کے بعد کامیابی حاصل ہو ئی تھی۔
بہرحال مقابلہ شروع ہو ا تو کامیابی کی چاہت میں وینس نے سرینا کا بھر پور مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن سرینا ایک ریکارڈ توڑ نے اور نیا بنانے کیلئے میدان میں اُتری تھی ۔لہذااُس نے وینس کی جیتنے کی خواہش کو اُسکے دِ ل میں ہی رہنے دیا اور 1 گھنٹہ 22منٹ میں دونوں سیٹ میں 6 ۔

4 اور6۔4سے کامیابی حاصل کر کے 23واں گرینڈ سلام جیت کر جرمن کی تاریخ ساز ٹینس کی کھلاڑی سٹیفی گراف کا 22گرینڈ سلام جیتنے کا ریکارڈ توڑ دیا۔ سب سے زیادہ گرینڈ سلام جیتنے کا ریکارڈآسٹریلیا کی مارگریٹ کورٹ کے پاس ہے جنہوں نے اپنے ٹینس کیرئیر 1960-77تک24 گرینڈسلام ٹائٹلز جیتے تھے۔ لہذا سرینا ولیمز کی اس کامیابی کے بعد مارگریٹ کورٹ نے کہا ہے کہ سرینا اُنکے ریکارڈ تک بھی پہنچ جائے گی۔


مردوں کا فائنل:
میلبورن میں29ِ جنوری کو پرانے حریف راجر فیڈرر اور رافیل نڈال کے درمیان ایک اعصاب شکن مقابلے کی صورت میں کھیلا گیا۔جو راجر فیڈر نے نڈال کو 5میں سے3سیٹ میں شکست دے آسٹریلین اوپن جیت لیا۔ ترتیب کے حساب سے پہلا ،تیسرا اور پانچواں سیٹ راجر فیڈرر نے اور دوسرا اور چوتھا سیٹ نڈال نے جیتا۔ 6۔4،3۔6،6۔1،3۔

6 اور 6۔3۔
راجر فیڈرر کا یہ 5واں آسٹریلین اوپن ٹائٹل اور17واں گرینڈ سلام ہے۔ آخری دفعہ وہ 2012ء میں ومبلڈن جیتے تھے۔لہذا اس کامیابی پر اُنکا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش ہیں۔ اس کے برعکس نڈال کا کہنا تھا کہ محنت تو اُنھوں نے بھی بہت کی لیکن آج کی جیت کا حقدار راجر فیڈرر تھا۔
خواتین و مردوں کے ڈبلز کے فائنلز:
میں خواتین کی جوڑی چیک کی سفارووا اور امریکہ کی میٹک سینڈرز نے چیک کی اینڈریا ہلا واکوا اور اُسکی چینی جوڑی دار شوائی پینگ کوہرا کے ایک ساتھ چوتھا گرینڈ سلام جیت لیا۔

پہلے یہ جوڑی ایک دفعہ یو۔ایس اورایک ،ایک دفعہ ہی آسٹریلین وفرنچ اوپن جیت چکی تھی۔
مردوں کے ڈبلز کے فائنل میں آسٹریلیا کے جے۔پیئرز اور فن لینڈ کے ایچ۔کونٹی نین نے اپنے مخالف امریکہ کی جوڑی بی۔برائن اورایم۔ برائن کو ہرا کر آسٹریلیا اوپن مینز ڈبلز کا ٹائٹل جیت لیا۔
میکسڈ ڈبلز فائنل:
29ِ جنوری کو کھیلا گیا۔ بھارت کی ثانیہ مرزا نے اپنے ساتھی کروشیا کے ایوان وودگ کے ساتھ امریکہ کی جوڑی اے ۔سپیئرزاور کولمبیا کے جے۔کیبل کے ساتھ مقابلہ کیا لیکن 2۔6 اور6۔4سے شکست کھا گئے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments