”اولمپکس گیمز 2008ء میں شرکت کیلئے پاکستانی دستہ بیجنگ روانہ“

Beijing Olypics K Liye Pakistani Dasta Rawana

پاکستان ہاکی ،سوئمنگ، اتھلیٹکس اور شوٹنگ کے ایونٹس میں حصہ لے گا،میڈل کیلئے ہاکی ٹیم امیدوں کی محور افتتاحی تقریب 8اگست کو ہوگی،مشرف سمیت70ملکوں کے سربراہان شرکت کرینگے

جمعہ 1 اگست 2008

اعجاز وسیم باکھری : اولمپکس گیمز میں شرکت کیلئے پاکستان کا35رکنی دستہ اسلام آباد سے بیجنگ روانہ ہوگیاہے ۔قومی دستہ کی قیادت ہاکی ٹیم کے کپتان ذیشان اشرف کو سونپی گئی ہے اور وہی افتتاحی تقریب میں پاکستانی جھنڈا تھام کر قومی دستہ کی قیادت کرینگے۔ 8اگست سے 24اگست تک جاری رہنے والے میگا ایونٹ کی افتتاحی تقریب آٹھ اگست کوبیجنگ کے نیشنل سٹیڈیم میں ہوگی جس میں صدر پرویز مشرف، امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سمیت 68سے زائد ممالک کے سربراہان شرکت کرینگے ۔

اولمپک گیمز میں پاکستان مجموعی طور پر 4کھیلوں ہاکی، شوٹنگ، اتھلیٹکس اور سوئمنگ میں شرکت کررہا ہے جن میں سے تین کھیلوں شوٹنگ، اتھلیٹکس اور سوئمنگ میں پاکستان کو وائلڈ کارڈ پر انٹری ملی ہے جبکہ ہاکی کے ایونٹ کیلئے پاکستان نے کوالیفائی کیا۔

(جاری ہے)

ایونٹ میں پاکستانی قوم کی میڈل کے حصول کیلئے محض ہاکی ٹیم سے توقعات وابستہ ہیں کیونکہ دیگر کھیلوں میں پاکستان کوالیفائی کرنے میں بھی ناکام رہا۔

ہاکی ایک واحد کھیل ہے جس میں توقع کی جارہی ہے پاکستان وکٹری سٹینڈتک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا تاہم اس کیلئے ٹیم کو بہت محنت کرنا ہوگی کیونکہ پاکستان کے گروپ میں آسٹریلیا اور ہالینڈ جیسی مضبوط ٹیمیں شامل ہیں جو پاکستان کیلئے مسائل پیدا کرسکتی ہیں لیکن پاکستانی ٹیم نے جس طرح ایونٹ کی تیاری کررکھی ہے اور کھلاڑیوں کے جذبے کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان بڑی ٹیموں کے خلاف اپ سیٹ بھی کرسکتا ہے۔

قومی ٹیم کی قیادت ذیشان اشرف کررہے ہیں جبکہ محمد ثقلین ،محمد عمران ،شکیل عباسی،سلمان اکبر ،ریحان بٹ اور عدنان مقصود ایسے کھلاڑی ہیں جو حریف ٹیم کیلئے مشکلات پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کو زبردست اور قابل تحسین مالی وظائف دینے کا اعلان کیا ہے جس کا یقینی طور پر ٹیم کی کارکردگی پر مثبت اثر پڑیگا۔

ایونٹ میں پاکستان ہاکی ٹیم کی فارورڈ لائن اپ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں جبکہ گول کپینگ کے شعبے میں بھی کافی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔پاکستان ہاکی ٹیم اب تک تین بار اولمپکس مقابلوں میں فتح حاصل کرچکی ہے ۔پاکستان نے1956ء کے اولمپکس مقابلوں میں فائنل تک رسائی حاصل کرکے سب کو حیران کردیاتھا تاہم فائنل میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں ایک گول کے مقابلے میں صفر گول سے شکست ہوئی جبکہ اس سے اگلے1960ء کے اولمپکس مقابلوں میں پاکستان نے بھارت کو ایک صفر سے ہراکر نہ صرف اپنی شکست کا بدلہ لیا بلکہ پہلی بار اولمپکس گولڈمیڈل جیتنے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔

دوسری بار پاکستان نے 1968ء کے اولمپکس مقابلوں میں فائنل میں آسٹریلیا کو 2-1سے شکست دیکر گولڈمیڈل جیتا۔ا س سے قبل 1964ء کے اولمپکس میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔1972ء کے اولمپکس مقابلوں میں پاکستان نے فائنل تک رسائی حاصل کی مگر فیصلہ کن معرکے میں قومی ٹیم مغربی جرمنی کے ہاتھوں ایک صفر سے ہار گئی۔پاکستان نے تیسری اور آخری بار 1964ء کے اولمپکس گیمز میں جرمنی کو شکست دیکر ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ 1992ء کے اولمپکس مقابلوں میں پاکستا ن نے آخری بار تیسری پوزیشن حاصل کرکے وکٹری سٹینڈ پر جگہ بنائی اس کے بعد اب تک پاکستانی ٹیم نے خاطر خواہ کھیل پیش نہیں کیا۔

گزشتہ اولمپکس مقابلوں میں آسٹریلیا نے ہالینڈ کو شکست دیکر گولڈ میڈل جیتا اور اس بار بھی آسٹریلیا اور ہالینڈ کو ٹورنامنٹ میں فیورٹ قرار دیا جارہا ہے ۔بھارت نے اولمپکس ہاکی کی تاریخ میں سب سے زیادہ سات مرتبہ گولڈ میڈل جیتا اور اس بار حیران کن طور پر 80سال بعد بھارتی ٹیم اولمپکس مقابلوں میں کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی جس پر بھارتی حکومت نے ہاکی فیڈریشن کو معطل کردیا۔

بیجنگ اولمپکس مقابلوں میں قومی دستہ کے دیگر کھلاڑیوں میں اتھلیٹکس میں عبد الرشید اور صدف صدیقی پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں جبکہ سوئمنگ میں عادل بیگ اورنیشنل چیمپئن کرن خان اپنے ملک کی نمائندگی کرینگے۔کرن خان کا کہنا ہے کہ وہ بھر پورتیاری کے ساتھ اولمپکس مقابلوں میں شریک ہونگے اور میڈل حاصل کرنے کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گی ۔

شوٹنگ میں پاکستان کی جانب سے صدیق عمربیجنگ اولمپکس میں شرکت کررہے ہیں ۔ پاکستانی دستے کیلئے سرحد کے صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ چیف ڈی مشن ہونگے جبکہ دیگر آفیشلز میں بریگیڈئر سلیم نواز (سیکرٹری) ، محمد اختر نواز گنجیرا (فنانس سیکرٹری) ، کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان (سکیورٹی آفیشل ) ، ڈاکٹر وقار احمد (ٹیم ڈاکٹر) شامل ہیں ۔ ہاکی میں ذکا الدین (منیجر کم کوچ) ، نوید عالم (کوچ) ، فیض الرحمان (فزیو) ، ندیم احمد لودھی (ویڈیو انالسٹ ) ، خالد محمود (آفیشل)، سلمان اکبر ، ناصر علی ، ذیشان اشرف( کپتان ) ، محمد عمران (نائب کپتان)، سید عمران علی وارثی ، عدنان مقصود ، محمد ثقلین ، رانا آصف، محمد جواد، محمد وقاص، ریحان بٹ ، شکیل عباسی ، محمد زبیر، شفقت رسول ، وقاص اکبر اوروقاص حید ر شامل ہیں ۔

روانگی کے وقت پاکستان ہاکی ٹیم کے منیجر و چیف کوچ ذکاؤ الدین کا کہنا تھا کہ قومی ہاکی ٹیم اولمپک مقابلوں میں بہتر کارکردگی دکھانے کیلئے پر امید ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ٹورنامنٹس میں ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے اور ہم میگا ایونٹ میں پوری امید کیساتھ میدان میں اتریں گے ۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments