ایشز:بین سٹوکس ٹیسٹ میں انگلینڈکے ہیرو۔امپائرنگ؟

Ben Stokes Win It For England

آسٹریلوی اخبارات نے انگلینڈ کی جیت کو امپائرنگ کی وجہ سے متنازعہ بنا کر پیش کیا اور بین سٹوکس کو ہیرو ماننے سے انکار کر دیا

Arif Jameel عارف‌جمیل منگل اگست

Ben Stokes Win It For England
آئی سی سی ورلڈ کرکٹ ٹیسٹ چیمپئین شپ آغاز میں ہی اُس وقت " فل سوئنگ " میں نظر آئی جب 22ِاگست 2019ءکو 3مختلف ممالک میں پانچ روزہ ٹیسٹ میچ ایک ہی دن شروع ہوئے۔ انگلینڈ میں آسٹریلیا بمقابلہ انگلینڈ۔ ویسٹ انڈیز کا اپنے ملک میں انڈیا کے ساتھ اور سری لنکا کا ہو م سیریز میں نیوزی لینڈ کے ساتھ سامنا۔ نئی تاریخ : انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ایشز کا تیسرا ٹیسٹ میچ تاریخی حیثیت میں شروع ہو ااور ایک نئی تاریخ رقم کر کے ختم ہوا ۔

اس ٹیسٹ سے پہلے تک انگلینڈ ایشز کے 8ٹیسٹ مسلسل ہار چکی تھی۔ لیڈیز کے اسٹیڈیم ہیڈ انگلے میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم 2008سے اس میچ کے آغاز سے پہلے تک 10میں سے6میچ ہار چکی تھی۔ لیکن جب یہ ٹیسٹ میچ چوتھے روز ہی ختم ہو گیا تو انگلینڈ ایک نئی تاریخ کے ساتھ فاتح بنا۔

(جاری ہے)

انگلینڈ نے ایشز میں ہار کا تسلسل توڑا ۔سٹیڈیم میں میچ کی جیت میں اضافہ کیااور نئے ریکارڈ قائم کر دیئے۔

جن میں 1888ءکے بعدسے اب تک کوئی بھی ٹیم 70رنز سے کم سکور پر آﺅٹ ہو نے کے بعد فتح حاصل نہ کر سکی۔ یعنی کرکٹ کی 131 سالہ تاریخ میں۔ دوسراانگلینڈ نے اپنی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ اتنا بڑا359 رنز کا ہدف حاصل کیا۔ ٹیسٹ آغاز سے : لیڈیز کے ہیڈ انگلے اسٹیڈیم میں 22 اگست2019ءکو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے شیڈول کے مطابق ایشز کا تیسرا کرکٹ ٹیسٹ میچ انگلینڈ کے ٹاس جیتنے کے ساتھ شروع ہوا اور ڈرامائی و سنسنی خیز اور کئی اُتار چڑھاﺅ کے بعد انگلینڈ کی جیت پر ہی ختم ہوا۔

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو بیٹنگ کروائی جسکی وجہ وکٹ پر گھاس ہو نا اور اُوپر سے بارش کی آنکھ مچولی و بادل چھائے رہنے کا فائدہ اُٹھانا تھا۔پھر ایسا ہی ہوا اور انگلینڈ کی طرف سے اپنا دوسرا ٹیسٹ کھیلنے والے باﺅلر جوفرا آرچر کی باﺅلنگ سے نڈھال ہو کر آسٹریلیا کے بلے باز آﺅٹ ہو تے چلے گئے اورآسٹریلیا کی بیٹنگ لائن کی کہانی ختم ہو ئی179آل آﺅٹ پر ۔

جوفرا آرچر جنہوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں 5وکٹیں لی تھیں اپنے دوسرے میچ میں پہلی اننگز میں ہی6وکٹیں حاصل کر لیں۔آسٹریلیا کی طرف سے سٹیون سمتھ کی عدم موجودگی میں اُنکی جگہ کھیلنے والے لبوچن نے نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے 74رنز بنائے اور وارنر61رنز بنا کر آﺅٹ ہو ئے۔ دوسرا دن انگلینڈ کا ہوم گراﺅنڈ اور انگلش تماشائیوں کی اپنی ٹیم سے بڑے اسکور کی تواقعات ۔

انگلش کے بلے باز بھی پُر اُمید تھے لیکن چند لمحوں بعد ہی آسٹریلیا کے باﺅلرز ہیز ل وُڈ اور کمنز کے شکارہونا شروع ہوگئے اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے بلے بازوں کو صدی کے کم ترین 67 کے مجموعی اسکور پرآل آﺅٹ کر دیا۔آسمان پر کیا کالے بادل چھانے تھے انگلینڈ کی ٹیم پر چھا گئے اورسب حیران تھے کہ یہ کیا ہو گیا؟ میچ انگلینڈ کے ہاتھ سے پھسل چکاتھا اور میچ کی دوسری اننگز میں آسٹریلیا نے 112رنز کی برتری کے ساتھ اسکور میں اضافہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

تیسرا دن آسٹریلیا کا تھا کیونکہ ہر سکور انگلینڈ کیلئے بڑا ہدف سمجھا جارہاتھا۔ لبوچن نے ایک دفعہ پھر اعلیٰ و ذمہدارانہ اننگز کھیلتے ہوئے انفرادی طور پر 80رنز بنا ئے او ر جون ڈنلی کے ہاتھوں رَن آﺅٹ ہو گئے۔ یہ اُنکی مسلسل تیسری نصف سنچری تھی۔ آسٹریلیا مجموعی اسکور 246 پر آل آﺅٹ ہو گئی لیکن برتری کے بعد انگلینڈ کو میچ جیتنے کیلئے ہدف ملا 359رنز کا۔

تیسرے دن کا اختتام بھی انگلینڈ کیلئے چوتھے دن کا اچھا پیغام نہ تھا۔کیونکہ 156رنز پر 3بلے با زآﺅٹ ہو چکے تھے اور چوتھے دن کے چند اوورز بعد ہی نیا گیند انگلینڈ کیلئے مشکل پیدا کرسکتا تھا۔چوتھے دن کا کھیل اور شکست کے بڑھتے ہو ئے سائے اُس وقت اور گہرے ہو گئے جب انگلینڈ کی ٹیم کے 9بلے باز 286رنز پر پویلن لوٹ چکے تھے اور ابھی73اسکور جیتنے کیلئے چاہیئے تھا۔

کپتان جوئے روٹس 77اور جون ڈنلی50رنز بنا کر آﺅٹ ہو ئے۔ بین اسٹوکس: عالمی کرکٹ کپ2019ءکے فائنل میں انگلینڈ کوکامیابی دلوانے والے مین آف دی میچ بین اسٹوکس جنہوں نے اس ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 1اور دوسری اننگز میں 3کھلاڑی آﺅٹ کیئے تھے ابھی وکٹ پر موجود تھے اور وہ جان چکے تھے کہ اس میچ کو آر پار کرنے کیلئے ایک دفعہ لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑے گا اور اس میں وہ کامیاب ہوتے نظر آنا شروع ہوگئے۔

سنچری بھی بنا ڈالی چھکے بھی لگائے اور آسٹر یلیا کے چھکے بھی چھڑوا دیئے اور کھیل ہو رہا تھا آخری یعنی10ویں وکٹ کا یعنی لان ٹینس کی گیم کے مطابق میچ پوائنٹ ۔ آﺅٹ تو آسٹریلیا جیت گیا نہیں تو انگلینڈ۔پھر ہوا کیا جب جیت کیلئے صرف8اسکور کی ضرورت تھی اور بین اسٹوکس بے پرواہ لیکن اندر سے فکر مند انداز میں وکٹ پر ٹہل رہے تھے؟ میچ کے آخری لمحات سنسنی خیز: دوسری اننگز کا 125واں اوور آسٹریلیا کے سپن باﺅلر نیتھین لائن نے شروع کیا ۔

دو گیندوں پر کوئی اسکور نہ ہوا اور تیسری پر بین اسٹوکس نے چھکا مار دیا۔اگلی گیند پر ہلکی شارٹ ماری اور سنگل لےکر میچ ٹائی پوزیشن پر آسکتا تھا لیکن بین اسٹوکس نے ایسا رسک نہ لیا۔اُس سے اگلی گیند پر پھر ہلکی شارٹ کھیلی تو دوسری طرف سے جیک لیچ بھاگ پڑے لیکن سٹوکس کی " نو" کی آواز سُن کر واپس ہوئے کہ اس دوران فیلڈر نے تھرو نیتھن لائن کی طرف کر دی جس سے جیک لیچ یقینی رَن آﺅٹ ہو سکتے تھے لیکن نیتھن لائن کے ہاتھ سے تھرو نکل گئی اور جیک لیچ واپس کرس پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

آسٹریلیا کے ہاتھ سے چانس گیا اور انگلینڈ کو جیت کا ایک اور چانس مل گیا۔ امپائرنگ؟: اگلی گیند پر پھر چانس لیکن اس دفعہ امپائر: اوہ! امپائرنگ آڑے آئی اور اوور کی آخری گیندپر جب بین اسٹوکس سویپ کرنے گئے تو گیند پیڈ کے درمیان میں لگی اپیل زور دار تھی لیکن بے کار کیونکہ ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے امپائر جول ولسن نے سر ہلاتے ہوئے ناٹ آﺅٹ قرار دے دیا۔

آسٹریلیا کے کپتان ٹم پین کے پاس ریویو نہیں بچا تھا۔کیونکہ وہ ایک اوور پہلے کمنز کی لیگ اسٹمپ سے باہر جاتی ہوئی گیند جیک لیچ کے پیڈ پر لگنے کی وجہ سے آخری ریو یو لیکر ضائع کر چکے تھے۔لیکن ایکشن ری پلے نے ایک دفعہ پھر راز افشاں کر دیاکہ بین سٹوکس آﺅٹ تھے۔ انگلینڈ کی جیت کا جھنڈا بین اسٹوکس کے ہاتھ میں: کمنز نے اگلا اوور شروع کیا ۔

پہلی دو گیندوں پر کوئی اسکور نہ بنا تیسری پر جیک لیچ ایک اسکور لینے میں کامیاب ہو گئے اور میچ بھی ٹائی ہو گیا ۔جیک لیچ کا بھی 1رَن ہو گیا۔ اگلی گیند پر بین سٹوکس نے فتح کا چوکا لگایا اور اپنے دونوں باوز کھولتے ہوئے اور شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے اُونچی چھلانگ لگائی کیونکہ بین اسٹوکس نے عالمی کپ جیتنے کے 40دن بعد انگلینڈ کیلئے دوسرا معجزہ کر دکھایا تھا۔

آخری اسکور تھا 362پر9 کھلاڑی آﺅٹ ۔1وکٹ سے انگلینڈ کی جیت کا جھنڈا اُوپر۔ انگلش تماشائیوں نے جشن کا سماں باندھ دیا ۔بین اسٹوکس نے ناقابل ِشکست 135رنز کی اننگز کھیلی اور مین آف دی میچ بنے۔ ہیز ل وُڈ نے اس اننگز میں بھی4وکٹیں لیکر آسٹریلیا کی طرف سے میچ میں 9وکٹیں حاصل کیں۔جوفرا آرچر نے میچ میں 8وکٹیں لیں۔ اس میچ کی اہم خبریں: ﴿ اس میچ کے بعد 5ٹیسٹ میچوں کی یہ سیریز بھی امپائرنگ کی نذر ہو تی ہوئی نظر آرہی ہے۔

﴿ آسٹریلیا کے سابق کپتان ایلن بورڈر نے امپائرنگ اور آسٹریلیا کے کپتان کی طرف سے غیر ضروری ریویو کے استعمال پر تنقید کی۔ ﴿ ایلن بورڈر نے آئی سی سی کو سیریز میں اچھی امپائر نگ نہ ہو نے کی وجہ سے غور کرنے کا مشورہ دیا۔امپائرنگ اچھی ہو تو ریو یو کی نوبت ہی نہیں آتی۔ ﴿ آسٹریلوی اخبارات نے انگلینڈ کی جیت کو امپائرنگ کی وجہ سے متنازعہ بنا کر پیش کیا اور بین اسٹوکس کو ہیرو ماننے سے انکار کر دیا۔

﴿ لیڈیز کا یہ ٹیسٹ آخری لمحات میں دُنیا بھر کے 8ملین افراد سے زیادہ نے دیکھا۔ ﴿ اس ٹیسٹ میں بھی دونوں ٹیموں کی طرف سے باﺅنسرز کی برسات جاری رہی اور ہیلمٹ ٹوٹنے کے بعد تبدیل ہو تے رہے۔ ایشز سیریز 3میچوں کے بعد 1۔1سے برا بر ہو گئی ۔ چوتھا ٹیسٹ میچ 4ستمبرتا 9ستمبر2019ءمانچسٹر میں کھیلا جائے گا۔ "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments