باڈی بلڈنگ،دوگروپوں نے اپنے اپنے مسٹر لاہور منتخب کرلیے

Body Building 2 Groups Ne Apne Apne Mr Lahore Chun Liye

سرکاری اور یحییٰ بٹ گروپ کی ذاتی چپقلش باڈی بلڈنگ کوناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے باڈی بلڈر کی کہانی: ایک شخص گوشت مرغی جبکہ باقی پورا گھر دال سبزی پر گزرا کرتا ہے

اتوار دسمبر

Body Building 2 Groups Ne Apne Apne Mr Lahore Chun Liye
اعجاز وسیم باکھری: باڈی بلڈنگ دورحاضر میں نوجوانوں کا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے جہاں نوجوان اپنے جسم کو خوبصورت بنانے کی غرض سے یاپھر اس پیشہ کو پروفیشن کے طور پر اپنانے کیلئے جم کا رخ کرتے ہیں اور خود کو نمایاں مقام تک لانے کیلئے بے تحاشہ محنت کرتے ہیں اس دوران انہیں مالی مشکلات کا بھی سامنا کرناپڑتا ہے اور جو صاحب توفیق ہوتے ہیں وہ آگے نکل جاتے ہیں اور جن کے گھریلوحالات زیادہ اچھے نہیں ہوتے وہ رہ جاتے ہیں۔

لیکن اس کے باڈی بلڈنگ کا مشغلہ نوجوانوں میں مقبول ہورہا ہے اور بعض دفعہ غلط مشوروں کی وجہ سے نوجوان نشہ آور ادویات کا استعمال بھی کرنا شروع کردیتے ہیں جس کا آگے چل کر بہت برے اثرات کی صورت میں خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور کبھی تو اس کی اتنہابھی ہوجاتی ہے جس سے نوجوانوں کی زندگی داؤ پر لگ جاتی ہے کیونکہ غلط مشوروں کی وہ وجہ سے انہیں سب کچھ کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے جہاں ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ نوجوان ایسی سٹیج پر پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں ناچاہتے ہوئے بھی یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے جس کے نتائج بھاری نقصانات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

(جاری ہے)

نوجوانوں کو غلط راستے پر لگانے میں سب سے بڑا مکروکردار جم کے مالکان اور اور کوچز کا ہے جو محض چار پیسوں کی خاطر نوجوانوں کو ڈرگز کی دلدل میں جھونک دیتے ہیں جس سے وہ اپنے مقاصد تو حاصل کرلیتے ہیں مگر نوجوان کی زندگی داؤ پر لگ جاتی ہے ان سب باتوں اور خطرتاک نقصانات کے باوجود نوجوانوں ایک بڑی تعداد بلاناغہ صبح اور شام کے اوقات میں جم میں نظر آتی ہے جہاں نوجوان لڑکے بے تحاشہ محنت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ہر باڈی بلڈر نوجوان کا خواب ہوتا ہے کہ وہ “مسٹر “کا خواب جیتے چاہے وہ شہر ، صوبے یا پھر ملکی سطح پر ہو سبھی خود کو مسٹرکہلوانے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے رکھتے ہیں جس کو پورا کرنے کیلئے نوجوانوں کی اکثریت کو گھروالوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا بھی کرناپڑتا ہے جبکہ کچھ ایسے کردار بھی دیکھے ہیں کہ پورا گھر دال سبزی پر گزرا کررہا ہوتا ہے اور فرد واحد گوشت ،مرغی کھانے میں مصروف ہوتا ہے جہاں تمام گھروالوں کو اس بات کی توقع ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا کوئی بڑا ایونٹ جیتنے کے بعد ان کی تقدیر بدل دیگا یا پھر کسی اچھی نوکری تک رسائی حاصل کرلے گا مگر یہ خواب قسمت والوں کے ہی پورے ہوتے ہیں ورنہ تو نوجوان کی اکثریت گھروالوں کے تانے سننے کے بعد جم میں قدم رکھنا ہی گناہ کبیرہ تصور کرتی ہے ۔

لیکن بہت سے نوجوان محنت کرکے اوپر آجاتے ہیں اور انہیں ان کے خوابوں کی تعبیر مل جاتی ہے۔باڈی بلڈنگ کے حوالے سے لاہور کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ یہاں سے پاکستان کے کئی نامور باڈی بلڈر سامنے آئے جنہوں نے نہ صرف ایشیا کی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ پوری دنیا میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ان میں سب سے نمایاں نام یحییٰ بٹ کا ہے جو پاکستان کیلئے بڑے اعزازات جیت چکے ہیں جبکہ موجودہ دور میں معصوم بٹ بھی انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کیلئے کئی بڑے اعزازات اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔

ماضی میں دیگر کھیلوں کی طرح باڈی بلڈنگ کے شعبے میں بھی پاکستان کا انٹرنیشنل سطح پر ایک مخصوص مقام تھا لیکن آپس کی چپقلش اور ذاتی انا نے باڈی بلڈنگ میں گروپ بندی پیدا کردی جس کا موجودہ احوال یہ ہے کہ لاہور شہرمیں ہر سال دو گروپ اپنے اپنے الگ الگ مقابلے کراتے ہیں اور اپنے اپنے مسٹر لاہور کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔گورنمنٹ کے منتخب کردہ نمائندوں کا خیال ہے کہ ہم جو کرتے ہیں وہ مکمل میرٹ پر ہورہا ہے اور ہم باڈی بلڈنگ کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں لہذا تمام لوگ ہمارے ساتھ مل جائیں مگر دوسری جانب یحییٰ بٹ گروپ کا موقف ہے کہ حکومتی عہدیدار مکمل طور پر جانبداری سے کام لیتے ہیں اور بجائے باڈی بلڈنگ کے فروغ کیلئے اقدامات کیے جائیں یہ لوگ مزید اس شعبے کو دبا رہے ہیں جس سے پاکستان ایک طویل عرصے سے انٹرنیشنل ایونٹ میں فتح حاصل نہیں کرپایا جس کا تمام تر ذمہ ”ڈمی فیڈریشن “کو پہنچتا ہے اور ہم لوگ غیرسرکاری طور باڈی بلڈنگ کے فروغ کیلئے کلیدی کردار ادا کررہے ہیں# یہی وجہ ہے کہ دونوں گروپ الگ الگ سطح پر مسٹرلاہور کے مقابلے منعقد کراتے ہیں ایک ایسا ہی مقابلہ گزشتہ دنوں لاہور میں دو مختلف مقامات پر ہوا جہاں الگ الگ اور اپنے اپنے مسٹر لاہور منتخب کیے گئے۔

محفل آڈیٹوریم میں یحییٰ بٹ گروپ نے اپنا مقابلہ کرایا جہاں آصف گجرکولاہور شہرکا سب سے بہترین تن ساز قرار دیا گیا جبکہ دوسری جانب خلیل الرحمن گروپ نے واپڈا سپورٹس کمپلیکس میں مقابلے کا انعقاد کیا اور یہاں مسٹر لاہورکا اعزاز خالد ملک کے نام رہا ۔یہ بات خوش آئند ہے کہ باٹیلنٹ نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن سری کاری انتظامیہ اور غیرسرکاری گروپ کی ذاتی رنجش سے باڈی بلڈنگ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے ان دونوں فریقین کو چاہیے کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے تحفظات دور کرکے محض “پاکستان“کی خدمت کریں اور ذاتی انا کو درمیان میں لاکر گروپ بندی کا شکار بنے رہنے سے نہ صرف دونوں فریقین کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ہزاروں ایسے نوجوان جو باڈی بلڈنگ سے وابستہ ہے انہیں بھی ”بڑوں“کی لڑئی کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا رہا ہے ایسے میں دونوں گروپوں سے یہ التماس ہے کہ ذاتی دشمنی کو چھوڑ دیں اور ملکی عزت و وقار کی خاطر ملکر کام کریں کیونکہ دونوں گروپوں کا تعلق ایک ہی ملک سے ہے اور دونوں پاکستان کا نام بلند کرنے کے دعوے دار ہیں تو پھر لڑائی اور چپقلش کس بات کی ؟دونوں گروپ ملکر کیوں کام نہیں کیا جاتے ؟؟؟۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments