ورلڈکپ کا تاریخی اپ سیٹ، فیورٹ برازیل کوکوارٹرفائنل میں شکست

Brazil Ko Holland K Hathoon Shikast

ہالینڈ نے سپرسٹارز سے سجی ٹیم کی ایک نہ چلنے دی، شائقین پریشان، ماہرین ورطہ حیرت میں مبتلا آج ارجٹنائن کا جرمنی سے ٹکراؤ، میسی اور پوڈوسکی پرگہری نظریں ، سپین پیراگوئے کیخلاف مدمقابل

ہفتہ جولائی

Brazil Ko Holland K Hathoon Shikast
اعجازوسیم باکھری: فیفافٹبال ورلڈکپ2010ء کی سب سے فیورٹ ٹیم برازیل کو ہالینڈ نے اپ سیٹ شکست دیکر ٹورنامنٹ سے باہر کردیا ہے۔ کوارٹرفائنل میچ میں برازیلین سٹار روبینو نے میچ کے پہلے دس منٹ میں اپنی ٹیم کیلئے گول کرکے ہالینڈ کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی لیکن دوسرے ہاف میں ڈچ ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرکے برازیل کے آرمان خاک میں ملا دئیے۔ کہتے ہیں کہ جب کسی کی بدقسمتی اور زوال شروع ہوتا ہے تواس کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور ہرکام الٹا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

یہی سب کچھ برازیل کے ساتھ ہوا ۔ پہلے میلو کے سرسے گیند لیکر اپنے ہی گول پوسٹ میں چلی گئی اور ہالینڈ نے میچ برابرکردیا پھر میلو کی ریڈ کارڈ دکھا کر باہرکردیا گیا جبکہ کاکا اور روبینو نے دوسرا گول کرنے کیلئے سرتوڑکوششیں کی لیکن کوئی ڈچ ٹیم نے کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی۔

(جاری ہے)

دوسرے ہاف کے کھیل میں یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ہالینڈ کیخلاف کوئی معمولی ٹیم کھیل رہی ہے کیونکہ برازیل نے کوارٹرفائنل سے پہلے تک جس طرح کے کھیل کا مظاہرہ کیا تھا ہالینڈکے خلاف وہ سپارک اور جنون دور دور تک نظرنہیں آیا۔

گوکہ برازیلین دفاع دنیا کا بہترین دفاع ہے لیکن ڈچ ٹیم نے اُسے توڑ کر ثابت کردیا کہ وہ ایونٹ کی مضبوط ترین ٹیم ہے۔ ہالینڈ نے اب تک ورلڈکپ میں پانچ میچز کھیلے ہیں اور کسی بھی میچ میں اُسے شکست نہیں ہوئی۔ سیمی فائنل تک رسائی کیلئے ڈچ ٹیم نے ہر روکاٹ کو پاش پاش کردیا چاہیے اُن کے سامنے برازیل بھی آیا وہ اُسے بھی روند کر سیمی فائنل میں پہنچ گئے۔

گرشتہ رات کے میچ کی دلچسپ بات یہ ہے کہ ہالینڈ کے ساتھ ایسے کھلاڑی تھے جنہیں ییلیو کارڈ ہوچکا تھا اور اگر اُن میں سے کسی ایک کو بھی اس میچ میں ییلیو کارڈ ہوتا تو سیمی فائنل میں وہ کھلاڑی آؤٹ ہوجاتا لیکن ڈچ ٹیم نے نہ صرف اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھا بلکہ بال پر بھی کنٹرول رکھا اور برازیل جیسی مضبوط اور طاقت کا طوفان سمجھی جانیوالی ٹیم کو مات دیکر شائقین کو حیران اور ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

2002ء کے ورلڈکپ کا فائنل جیتنے والی ٹیم گزشتہ ورلڈ کپ میں بھی فرانس کے ہاتھوں کوارٹرفائنل میں شکست کھا کر فائنل کھیلنے سے محروم ہوگئی تھی اور اس بار بھی برازیلین ٹیم کا سفر کوارٹرفائنل میں ہی ختم ہوگیا۔یقیناً برازیلین شائقین کیلئے یہ شکست ناقابل یقین شکست ہوگی کیونکہ برازیلین عوام کہتی ہے کہ فٹبال کا جنون وہ پیدائشی طور پر اپنے ساتھ لاتے ہیں اور یہ کھیل ان کے خون میں شامل ہوتا ہے لہذا ایسی قوم جو فٹبال کو اپنا سب کچھ سمجھتی ہو ان کیلئے کوارٹرفائنل میں شکست کھانا کسی سانحہ سے کم نہیں ہوگا اور کئی دن تک برازیلین عوام اس صدمے سے باہر نہیں آسکے گی کیونکہ انہیں ایک ایسی ٹیم کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے جس کے جیت کیلئے امکانات فیفٹی پرسنٹ سے بھی کم تھے ۔

بہرحال شکست ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہرصورت میں تسلیم کرنا پڑتا ہے اور برازیلین عوام بھی کچھ دن بعد اسے تسلیم کرہی لے گی۔ آج ورلڈکپ میں ایک اور ہارٹ فیورٹ ساؤتھ امریکن ٹیم ارجنٹائن کا بھی کڑا امتحان ہے۔ ارجنٹائن کو برازیل کے بعد دوسری مضبوط ترین ٹیم قرار دیا جارہا تھا لیکن برازیل کی شکست کے بعد ماہرین نے ارجنٹائن کے بارے میں بھی محتاط رویہ اختیار کرلیا ہے کیونکہ جرمن ٹیم نے جس عبرتناک انداز میں انگلینڈ کو شکست دی اُس کے بعد اُن سے کچھ بھی متوقع ہے۔

جرمنی اور ارجنٹائن کا مقابلہ بھی تاریخی مقابلہ ہوگا کیونکہ دونوں ٹیمیں فیورٹ سمجھی جارہی ہیں اور اب ان کاآپس میں مقابلہ آن پڑا ہے لہذا شائقین کو ایک سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ارجنٹائن ٹیم کے سٹرائیکر اس وقت بھر پورفارم میں اور بالخصوص ان کا ڈیفنس شاندار ہے ۔ گوکہ میسی ورلڈکپ میں کوئی گول نہیں کرسکے لیکن وہ ساتھیوں کیلئے خوبصورت چانس بناتے ہیں جن کی بدولت وہ گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلاتے ہیں۔

ارجنٹائن کی ٹیم کی کامیابی کی ایک وجہ اُن کے کوچ میراڈونا بھی ہیں۔ میرا ڈونا اپنے دور کے عظیم کھلاڑی ہیں اور میراڈونا کے دور میں ارجنٹائن اور جرمنی ایک دوسرے کے سخت حریف ہوا کرتے تھے اور ہمیشہ میراڈونا نے جرمنی کے خلاف اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی تھی لیکن گزشتہ ورلڈکپ کوارٹرفائنل میں جرمنی نے ارجنٹائن کو شکست دیکر سارے حساب چکا دئیے تھے مگر اس بارمیراڈونا بطور کوچ گراؤنڈ کے باہر موجود ہونگے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ کس حکمت عملی کے تحت جرمن ٹیم کیخلاف اپنی کامیابیوں کے سلسلے کو جاری رکھتے ہیں۔

جرمنی کی ٹیم میں بھی نوجوان سٹرائیکرز بھرپور فارم میں ہیں ان میں پوڈوسکی نمایاں ہیں ۔ پوڈوسکی پورے نوے منٹ تک گراؤنڈ میں موجود رہتے ہیں اور وہ رائٹ سائیڈ سے اکیلے حریف ٹیم کیلئے وبال جان بنے رہتے ہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے انگلینڈ کیخلاف دکھایا۔ آج ہونیوالا دوسرا کوارٹرفائنل بھی ایک لحاظ سے بڑا میچ ہے کیونکہ اس میچ میں فیورٹ سپین پیراگوئے کیخلاف میدان میں اتر رہی ہے۔

پیراگوئے تاریخ میں پہلی بار ورلڈکپ کا کوارٹرفائنل کھیل رہی ہے اور سپین فٹبال میں شاندار ماضی کا مالک ہے اور موجودہ ورلڈکپ میں بھی سپین نے پرتگال کیخلاف کامیابی حاصل کرکے خود کو فیورٹ ٹیموں میں لاکھڑا کیا ہے لہذا پیراگوئے کو سپین کیخلاف سخت مزاحمت کا سامنا کرناپڑے گای لیکن جو ٹیم کوارٹرفائنل تک پہنچ جائے وہ کمزور نہیں ہوتی اور بڑے میچز میں وہ زیادہ پریشر نہیں لیتے اور ہالینڈ کی طرح برازیل جیسی بڑی ٹیم کو بھی روند ڈالتے ہیں لہذا آج ہونیوالے دونوں کوارٹرفائنل انتہائی دلچسپ اور یادگار میچز ہونگے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments