چیمپئنزٹرافی کیلئے 15رکنی قومی ٹیم کا اعلان،شعیب اختراور کامران اکمل کی واپسی

Champions Trophy K Liye 15 Rukni Team Ka Elaan

فواد عالم کو ڈراپ کرنے پرکوچ اور سلیکشن کمیٹی میں اختلافات،جیف لاسن آسٹریلیا چلے گئے شعیب اخترکو ڈسپلن کی پابندی کے ساتھ ساتھ اپنی فٹنس کو بھی بحال رکھنا ہوگا

بدھ 13 اگست 2008

اعجازو سیم باکھری : پاکستان نے چیمپئنزٹرافی کیلئے 15رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا ہے اور ٹیم میں ایک طویل عرصے بعد فاسٹ باؤلر شعیب اختر لوٹ آئے ہیں جن کی واپسی سے یقنی طور پر پاکستانی ٹیم ایک مضبوط ترین یونٹ میں بدل جائیگی ۔موجودہ کرکٹ بورڈ کے دور میں ایسا پہلی بار دیکھا گیاہے جب پی سی بی کے عہدیداروں نے ذاتی عناد کو چھوڑ کر ٹیم کے مفاد کو ترجیح دی اور شعیب اختر کو ٹیم میں شامل کرنے کافیصلہ کیا۔

شعیب کی ٹیم میں واپسی محض کسی کی مہربانی سے نہیں ہوئی بلکہ شعیب نے بھر پور پریکٹس کی اور کافی محنت کے بعد اپنی فٹنس کے ساتھ ساتھ فارم بھی بحال کی اور سلیکٹرز کو مجبور کردیا کہ اس کو ٹیم میں کیلئے سلیکٹ کریں۔شعیب اختر کے آٹھ سالہ کیرئیر میں ایسا کوئی موقع نہیں آیا جب اسے کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم سے ڈراپ کیا گیا ہو۔

(جاری ہے)

اسے ہمیشہ یا تو جان بوجھ کر ٹیم سے ڈراپ کیا گیا یا پھر وہ تنازعات کا شکار ہوکر ٹیم سے باہرہوا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شعیب ایک میچ ونر اور ٹیم کیلئے انتہائی مفید کھلاڑی ہے جواپنی ٹیم کیلئے اچھی کارکردگی پیش کرنے کیلئے بھر پورصلاحیت رکھتا ہے۔

بہرحال شعیب اختر نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ میچ ونر باؤلر ہے جو آنے والے کئی سال تک اپنے ملک کیلئے فتوحات سمیٹ سکتا ہے اور شاید یہ بات شعیب اختر بھی جان چکے ہیں کہ ان کی دوبارہ پاکستانی ٹیم میں واپسی تنازعات سے دوری کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ اب پاکستانی عوام شعیب اختر سے بہترین کھیل کی امیدیں لگائے ہوئے ہیں کیونکہ ایشیا کپ میں پاکستان فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اب چیمپئنزٹرافی پاکستان میں منعقد ہورہی ہے تو عوام کی نظریں شعیب اختر پر ہونگی۔

پاکستانی عوام بھی فاسٹ باؤلرکی دوبارہ ایکشن میں واپسی پر انتہائی خوش ہیں کیونکہ تاحال پاکستان کے پاس شعیب اختر کے برابر کا کوئی باؤلر نہیں ہے جو تن تنہا اپنی ٹیم کو میچ جتوا سکے۔یہ کام محض شعیب اختر ہی کرسکتا ہے اور تمام لوگ اسے دوبارہ قومی ٹیم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔جہاں شعیب اختر کی طویل عرصہ بعد ٹیم میں واپسی ہوئی ہے وہیں قسمت ایک بار پھر کامران اکمل پر بھی مہربان ہوگئی اور ایشیا کپ سے باہرنکالے جانیوالا وکٹ کیپر ایک بار پھر ٹیم میں لوٹ آیا ہے جبکہ سلیکٹرز نے شاہد آفریدی پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک بار پھر اسے ٹیم میں شامل کرلیاہے۔

میڈیم پیسر عمرگل بھی فٹ ہوکر ٹیم میں آگئے ہیں عمر گل ایشیا کپ میں سری لنکا کے خلاف اہم میچ میں زخمی ہوگئے تھے جس سے پاکستانی ٹیم کو خاصہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم گل نے بھر پور محنت کی اور دوبارہ اپنی فٹنس بہترکرلی ہے۔ قومی ٹیم کا اعلان کرتے وقت چیف سلیکٹرز صلاح الدین صلو نے بتایا کہ جیف لاسن کے ساتھ ٹیم کی سلیکشن پر کوئی جھگڑا نہیں ہوا تاہم ہر دو آدمیوں میں اختلاف رائے ہوتا ہے لہذا سلیکشن کمیٹی کوچ اور کپتان سے محض رائے لینے کی مجاز ہوتی ہے جبکہ حتمی ٹیم کا انتخاب خود سلیکشن کمیٹی کرتی ہے۔

اس سے قبل جیف لاسن کی اچانک نیوزی لینڈ روانگی پریہ افواہیں پھلائی گئیں کہ لاسن کرکٹ بورڈ سے ناراض ہوکر آسٹریلیا روانہ ہوگئے ہیں کیونکہ پیر کے روز نیشنل کرکٹ سٹیڈیم لاہور میں کوچ اور کپتان سمیت سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ میں شاہدآفریدی اور فواد عالم کی ٹیم میں شمولیت پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے اور کوچ جیف لاسن احتجاجاً سلیکشن کمیٹی کے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جیف لاسن شاہدآفریدی کو ڈراپ کرکے فوادعالم کوٹیم میں برقرار رکھنے کیلئے بضد تھے جبکہ سلیکٹرز تجربہ کار آل راؤنڈ شاہدآفریدی کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔کیونکہ فواد عالم گزشتہ ایک سال سے قومی ٹیم کا مستقل حصہ ہیں لیکن متعدد مواقع ملنے کے باوجود وہ متاثر کن کھیل پیش کرنے میں ناکام چلے آرہے ہیں۔جبکہ جیف لاسن شاہد آفریدی کی ایشیا کپ میں ناکامی اور کاکول کیمپ سمیت پریکٹس میچز میں عدم موجودگی کو جواز بناکر ٹیم سے دور رکھنا چاہتے ہیں ۔

آفریدی اور جیف لاسن کے درمیان تنازع کافی دنوں سے چل رہا ہے اس سے قبل بھی آئی پی ایل کھیلنے کے بعد واپسی پر شاہدآفریدی نے کراچی ائیرپورٹ پر میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہاتھا کہ اگر جیف لاسن ہمارے بارے میں باتیں کرسکتے ہیں تو وہ بھی لاسن کے خلاف بات کرسکتے ہیں لیکن ان کے منہ پر سنٹرل کنٹریکٹ نے تالا لگایا ہوا ہے اس تناظر میں جیف لاسن نے خیبر ایجنسی کے پٹھان کی ٹیم میں شمولیت پر شدید اعترازت اٹھائے جس پروہ سلیکشن کمیٹی کے میٹنگ سے اٹھ کر چلے گئے۔

تاہم اب ان کی نیوزی لینڈ روانگی کرکٹ بورڈ کی جانب سے آسٹریلوی اور کیوی کرکٹرز کو چیمپئنزٹرافی میں شرکت پر راضی کرنے کیلئے بھیجاگیا ہے جہاں وہ ٹاسک فورس ٹیم کے ساتھ ملکر کھلاڑیوں کو پاکستان میں بہترین سیکورٹی صورت حال کے بارے میں آگا ہ کرینگے۔ آل راؤنڈ فواد عالم کو سکواڈ سے ڈراپ کرنے پر چیف سلیکٹرز نے کہاکہ وہ طویل عرصے سے ٹیم کا حصہ تھے لیکن ان کی کارکردگی کافی خراب چلی آرہی تھی لہذا انہیں آرام کا موقع دیا گیا جبکہ کامران اکمل نے ایشیا کپ سے ڈراپ ہونے کے بعد کافی محنت کی اور پریکٹس میچز میں عمدہ کھیل پیش کرکے اس نے سلیکٹرز کو متاثر کیا اور وہ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

شعیب اختر کے بارے میں صلونے کہاکہ سپیڈ سٹار نے پریکٹس میچز میں عمدہ بولنگ کی اور پورے ردھم میں نظر آئے جس سے سلیکٹرز خاصے متاثر ہوئے ۔شعیب ملک کی کارکردگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں اور قیادت کیلئے موزوں ترین امیدوار ہیں جبکہ شاہد آفریدی گزشتہ دوسال سے پاکستان کے ٹاپ بولر کے طور پر چلے آرہے ہیں جبکہ بیٹنگ میں بھی ان کی اوسط30کے قریب ہے اس لیے ان کی سلیکشن عمل میں آئی ہے۔

چیف سلیکٹر نے کہاکہ انہوں نے پاکستان کی سب سے بہترین ٹیم تشکیل دی ہے جو ایونٹ جیتنے کی بھر پورصلاحیت رکھتی ہے۔چیمپئنزٹرافی میں پاکستان کی جانب سے سلمان بٹ اور ناصر جمشید اوپنگ کرینگے ۔قومی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔کپتان شعیب ملک ،نائب کپتان مصباح الحق،سلمان بٹ ،ناصر جمشید ،خالدلطیف، یونس خان ،بازید خان ،شاہد آفریدی ،کامران اکمل ،سہیل تنویر ، عمر گل ،شعیب اختر ،سعید اجمل ،عبدالرؤف اور راؤافتخارانجم شامل ہیں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments