چھوٹی ٹیم کا بڑا کھلاڑی، کیون اوبرائن نے یواے ای کے حلق سے فتح چھین لی

Choti Team Ka Bara Khilari

متحدہ عرب امارات کا بھی شاندار کھیل، دونوں ٹیمیں پاکستان کو پریشان کرسکتی ہیں۔۔۔

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری جمعرات فروری

Choti Team Ka Bara Khilari

عصر حاضر کی کرکٹ میں بہت کم کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں چھوٹی ٹیم کا بڑا کھلاڑی کہا جاتا ہوں۔ جو چندکھلاڑی اس خطاب کے حقیقی معنوں میں حقدار ہیں ان میں آئرلینڈ کے کیون اوبرائن بھی شامل ہیں۔ کیون اوبرائن نے ورلڈ کپ مقابلوں میں آئرلینڈ کو ہمیشہ اپ سیٹ فتوحات دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، 2007ء کے ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم ہو یا 2011ء کے ورلڈکپ میں انگلینڈ ، 2015ء کے ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز کیخلاف اپ سیٹ کامیابی میں بھی اوبرائن نے فتح میں حصہ ڈالا۔ گزشتہ روز ایک بار پھر اوبرائن نے اپنی ٹیم کی تاریخی اور سنسنی خیز فتح میں کلیدی کردار ادا کرکے ایک بار پھر چھوٹی ٹیم کے بڑے کھلاڑی ہونے کا ثبوت پیش کیا۔یواے ای کیخلاف آئرلینڈ کو صرف 68 گیندوں پر 108 رنز کی ضرورت تھی اور5بلے باز پویلین واپس لوٹ چکے تھے، ایسے میں کیون اوبرائن میدان میں آئے اور چھا گئے۔

(جاری ہے)

25 گیندوں پر 50 رنز اور 37 گیندوں پر 72 رنز کی پارٹنرشپ قائم کرکے متحدہ عرب امارات کے گیندبازوں کے ہوش اڑا دئیے ۔گیری ولسن نے اس میچ میں سنجیدہ کرکٹ کھیلی اور وہ 80رنز بناکر مین آف دی میچ رہے لیکن اوبرائن کا بلے جس تیزی کے ساتھ رنز اگلتا رہا اس سے آئرش ٹیم فتح کے قریب پہنچی۔اعصاب شکن مرحلے میں آئرلینڈ نے آخری اوور میں 8 وکٹوں کے نقصان پر ہدف کو حاصل کرکے کوارٹرفائنل تک رسائی کیلئے اپنی امیدوں کو مزید مضبوط کرلیا ۔اس میچ میں یواے ای ٹیم کے پاس بھی کامیابی کیلئے بہترین موقع تھا لیکن ناتجربہ کاری یا پھر آئرش ٹیم کی جذباتی کرکٹ غالب آگئی اور یواے ای بہترین چانس کے باوجود میچ نہ جیت سکا لیکن یواے ای ٹیم کی شاندار کارکردگی پر شائقین اور ماہرین خوش ہوئے کہ ان کی ٹیم نے شاندار کھیل پیش کیا اور ثابت کیا کہ ہمت اور جذبے سے کھیلا جائے تو شکست کے باوجود بھی سرفخر سے بلندکرکے گراؤنڈ سے باہر آنے کا موقع ملتا ہے۔

آئرلینڈ نے یو اے ای کا 279 کا ہدف آخری اوور میں 8 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا،مین آف دی میچ آئرلینڈ کے گیری ولسن کو قرار دیا گیا انھوں نے 100سے زائد کے سڑائیک ریٹ سے 80 رنز بنا کر ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا،آئرلینڈ کے کیون اوبرائن نے 50 رنز کی اننگرز کھیلی،یوی اے ای کی جانب سے شیمان انور نے اپنے کیرئر کی پہلی سنچری اسکور کی انھوں نے 106 رنز بنائے۔ برسبین کرکٹ گراوٴنڈ میں کھیلے گئے میگاایونٹ کے گروپ بی کے میچ میں آئرلینڈ نے ٹاس جیت کر متحدہ عرب امارات کو بیٹنگ کی دعوت دی جس کے جواب میں یو اے ای نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 278 رنز بنائے، اوپنرز امجد علی اور اندری بیرینجر نے ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا تاہم 49 کے مجموعے پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد یو اے ای کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور 125 کے مجموعی اسکور پر اس کی آدھی ٹیم پویلین لوٹ گئی، امجد علی 45، اندری بیرینجر 13، کرشنا چندرن صفر، خرم خان 36 اور سواپنی پٹیل 2 رنز بنا کر آوٴٹ ہوئے۔متحدہ عرب امارات کی چھٹی وکٹ 131 کے مجموعی اسکور پر گری اور روہان مصطفیٰ بھی 2 کے انفرادی اسکور پر آوٴٹ ہوگئے جس کے بعد شیمان انور اور امجد جاوید نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 107 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کے اسکور کو 238 تک پہنچایا جس کے بعد امجد جاوید 42 رنز بنا کر کیچ آوٴٹ ہوگئے تاہم شیمان انور نے جارحانہ بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے 106 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔متحدہ عرب امارات نے ورلڈ کپ میں ساتویں وکٹ کی سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈقائم کردیا۔ شیمان انورنے 83گیندوں پر10چوکوں اور ایک چھکے کی مددسے 106رنز کی شانداراننگز کھیلی اور ورلڈکپ مقابلوں میں سنچری بنانے والے متحدہ عرب امارات کے پہلے کھلاڑی بن گئے۔آئرلینڈ کی جانب سے میکس سورینسن، الیکس کوسیک، پال اسٹرلنگ اور کیون اوبرائن نے 2،2 جب کہ جارج ڈوکریل نے ایک وکٹ حاصل کی۔جواب میں آئرلینڈ کی ٹیم نے مقررہ ہدف 49 ویں اوور میں 8 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا۔مین آف دی میچ آئرلینڈ کے گیری ولسن کو قرار دیا گیا انھوں نے 100سے زائد کے سڑائیک ریٹ سے 80 رنز بنا کر ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا،آئرلینڈ کے کیون اوبرائن نے 50 رنز کی اننگز کھیلی۔ آئرلینڈ گروپ 'بی' میں تیسرے نمبر پر ہے۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کی طرح اس کے بھی چار پوائنٹس ہیں، صرف رن ریٹ کی وجہ سے وہ پیچھے ہے۔ اب آگے آئرلینڈ کو زمبابوے، بھارت، جنوبی افریقہ اور پاکستان کے خلاف اہم مقابلے کھیلنے ہیں، جہاں دو مقابلوں میں کامیابی اسے کوارٹر فائنل میں پہنچا سکتی ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments