کرس بینوا کی خودکشی …ریسلنگ کے ایک عہد کا خاتمہ

Chris Benoit Ki Khud Khushee

ڈبلیو ڈبلیو ای کے سپر سٹار نے ہفتے والے دن بیوی اور اتوار کے روز سات سالہ بیٹے کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کرلی کرس بینوا تاریخ کے واحد ریسلر تھے جنہوں نے ریسلنگ سے منسلک ہراعزاز جیت رکھا تھا

منگل جون

Chris Benoit Ki Khud Khushee
اعجاز وسیم باکھری : ڈبلیو ڈڈبلیو ای کے سپر سٹار اور سابق ورلڈہیوی ویٹ چیمپئن کرس بینوا نے اپنی بیوی نینسی کو ہفتے والے دن اور سات سالہ بیٹے ڈینیل کو اتوار والے دن قتل کرنے کے بعد پیر کے خود بھی خود کشی کرلی ہے۔پولیس کے مطابق پروفیشنل ریسلر نے خود کشی کرنے سے دوروز قبل اپنی بیوی ااور ایک روز پہلے بیٹے کو قتل کیا تاہم ا بھی تحقیقات جاری ہیں۔

کرس بینوا حال ہی میں یوایس چیمپئن شپ میں شکست کھانے کے بعد ای سی ڈبلیوورلڈٹائٹل کی فائٹ کیلئے کوالیفائی کرچکے تھے اور گزشتہ اتوار کو ہوسٹن میں ہونے والے ”ویگانس “مقابلو ں میں بینوا نے آخری وقت پر گھریلومصروفیات کی وجہ سے مقابلہ لڑنے سے انکار کردیا اور اپنے گھر روانہ ہوگئے تھے۔پولیس اور تحقیقاتی ٹیمیں اس لزرخیز واردات کی تحقیقات میں مشغول ہیں اور ڈبلیو ڈبلیو ای نے پیر کو ہونے والے ”را“کے شیڈول مقابلے کینسل کردیے۔

(جاری ہے)

بینوا کی موت کی خبر ملتے ہی ڈبلیو ڈبلیو ای کے تمام ریسلر ڈبلیو ڈبلیو ای کے صدر دفتر پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جہاں رنگ میں کھڑے ہوکر دہشت پھیلانے والے پہلوان اپنے محبوب ساتھی کی موت پر دھاڑیں مارتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ میں ایسا دوسری بار ہوا ہے جب کوئی پہلوان اچانک دنیا سے چلا گیا اس سے قبل کرس بینوا کے جگری دوست ایڈی گوریرو بھی اچانک چل بسے تھے جس نے بینوا کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔

40سالہ کرس بینوا کا شمار ڈبلیو ڈبلیوای کے عظیم ترین ریسلر میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم عرصے میں بڑے بڑے اعزاز جیتے۔کرس بینوا ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ کا واحد ریسلر تھا جس نے ادارے سے منسلک تمام بیلٹیں جیتیں۔ 5 فٹ 11 انچ قد اور 220 پاؤنڈ وزن کے حامل کرس بینوا نے اپنے ریسلنگ کیریئر کا آغاز سٹیٹ ریسلنگ سکول سے کیا۔ کرس بینوا کا تعلق کینیڈا کے شہر البرٹا سے ہے۔

ریسلنگ میں آنے سے قبل کرس بینوا البرٹا کالج کے طالب علم تھے اور شروع سے ہی یہ ریسلنگ کے بہت بڑے دلدادہ تھے۔ کرس بینوا کے اندر شروع ہی سے ایک کامیاب ریسلر کی خوبیاں جھلکتی تھیں۔ کرس بینوا نے ریسلنگ کی باقاعدہ تربیت برٹ ہارٹ اور اوون ہارٹ کے باپ سٹوہارٹ سے حاصل کی۔ سٹو ہارٹ نے بینوا کے اندر چھپے ہوئے ایک کامیاب ریسلر کو پہلی ہی نظر میں جانچ لیا اور پھر اپنی زیر نگرانی اس کو ریسلنگ کے داؤ پیچ سکھاتے رہے۔

بینوا ریسلنگ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد جاپان چلے گئے جہاں انہوں نے نوکی سانو کے ہمراہ ایک ٹیم بنائی۔ کرس بینوا تین سال کے عرصے تک جاپان میں جونیئر ریسلنگ مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کرس بینوا تین مختلف ناموں سے ریسلنگ مقابلوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ 1990ء میں کرس بینوا نے ”پیگاسیس کڈ“ کے نام سے JWGP ریسلنگ ادارے میں شمولیت اختیار کرلی۔

یہی وہ وقت تھا جب بینوا نے سنجیدگی سے اپنے کیریئر کو سنوارنے کی کوشش کی اور اس وقت کے جونیئر ورلڈ ہیوی ویٹ جوشن لیگر جو جونیئر سطح کا سب سے بڑا اور طاقتور پہلوان تھا، سے مقابلہ لڑنے کا اعلان کیا۔ اس میچ میں پیگاسیس کڈ (بنیوا) نے بڑی بے جگری سے جوشن لیگر کا مقابلہ کیا اور خونریز مقابلے کے بعد جونیئر ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

اس کے تین ماہ بعد بینوا نے دوبارہ جوشن لیگر کو شکست دے کر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا۔ 4 سال تک کرس بینوا نے جونیئر سطح پر پیگاسیس کڈ کے نام سے رنگ میں راج کرتے ہوئے جاپان میں بے شمار کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد اس کینیڈین پہلوان نے امریکہ میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ کرس بینوا کے ساتھ اور کئی جونیئر ریسلروں نے بھی امریکہ میں لڑنے کا فیصلہ کیا۔

یہ لوگ ایک گروپ کی صورت میں WCW کی رنگ میں اترے۔ کرس بینوا کا گروپ تین ریسلروں پر مشتمل تھا۔ ایک خود کرس بینوا جو اس دفعہ ”وائلڈ پیگاسیس“ کے نام سے رنگ میں اترے، دوسرا ایڈی گوریرو اور تیسرے ڈین میلینکو شامل تھے۔ ڈین میلینکو اور ایڈی گوریرو نے امریکہ آکر WCW میں اپنے شاندار کھیل کی وجہ سے مستقل جگہ بنالی مگر بینوا WCW میں کامیاب نہیں ہو سکے اور واپس جاپان کی راہ لی۔

دو سال بعد کرس بینوا نے سب کچھ چھوڑ کر WCW میں شمولیت اختیار کرلی۔ WCW میں آنے کے فوری بعد بینوا نے ٹی وی ٹورنامنٹ میں بوکرٹی کو شکست دے کر دیگر تمام ریسلروں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ WCW میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے کے بعد بینوا نے WWF موجودہ نام WWE کی رنگ میں طبع آزمائی کا فیصلہ کیا جو بروقت اور درست تھا۔ WWE میں بینوا کی آمد کسی دھماکے سے کم نہیں تھی۔

بینوا نے ڈبلیو ڈبلیو ای میں اپنے کیریئر کی تیسرے مہینے ہی نامور پہلوانوں کرٹ اینگل اور کرس جریکو کو ٹرپل ٹریٹ میچ میں شکست دے کر انٹرکانٹینل چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ کرس بینوا کو اپنے کیریئر میں کئی خطرناک چوٹوں کا سامنا کرنا پڑا مگر اس بلند حوصلہ جوان نے ہر مرتبہ اپنی چوٹوں پر قابو پاکر رنگ میں آیا اور نامور پہلوانوں کو چت کرکے شائقین سے بے پناہ داد وصول پائی۔

ایک ایسی ہی خطرناک چوٹ نے بینوا کے کیریئر کو اختتام کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ دسمبر 2002ء میں بینوا کی گردن میں موجود نالیوں کا اس وقت شدید نقصان ہوا جب بینوا ایک میچ میں اپنا داؤ ”پاور بم“ کا استعمال کرتے ہوئے رنگ پر چڑھ کر چھلانگ لگائی تو حریف پہلوان جو رنگ میں بے سدھ پڑا تھا، نے اپنے گھٹنے اوپر کی طرف کھڑے کرلئے تو بینوا کی گردن عین اس کے گھٹنے پر جا لگی۔

چوٹ اتنی شدید تھی کہ بینوا گرتے ہی مچھلی کی طرح تڑپنے لگے، منہ اور ناک سے خون ندی کے پانی کی طرح بہنے لگا۔ کرس بینوا کی حالت کو دیکھ کر ناقدین کا خیال تھا کہ بینوا اب شاید دوبارہ رنگ میں کبھی نہ آسکے مگر بینوا نے ناقدین کے خیالات کو غلط ثابت کرتے ہوئے ایک سال کے عرصے کے بعد دوبارہ رنگ اترے تو شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بینوا نے اپنی آمد کے پہلے ہی مہینے میں کرس جریکو کے ساتھ مل کر دنیائے ریسلنگ کے دو نامور پہلوانوں اسٹون کولڈ اسیٹو آسٹن اور ٹرپل ایچ کو عبرتناک شکست دے کر ورلڈ ٹیگ ٹیم چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

اس سے اگلے مہینے بینوا نے رائل رمبل 2004ء میں کامیابی حاصل کرکے ٹرپل ایچ کے خلاف ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ مقابلہ لڑنے کا اعلان کیا۔ پھر آگے چل کر بینوا نے ٹرپل ایچ کو مات دیکر ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس سے اگلے مہینے کرس بینوا نے اپنے ریسلنگ کیریئر کا سب سے بڑا اور اہم میچ جیت کر یہ ثابت کردیا کہ وہ کوئی معمولی ریسلر نہیں ہے۔

اس مقابلے میں بینوا کو سابق عالمی چیمپئن شان مائیکل اور ٹرپل ایچ کے خلاف اپنے اعزاز کا دفاع کرنا تھا۔ کرس بینوا نے جس طرح تن تنہا دو چیمپئنز سے مقابلہ کیا اس طرح کے مقابلے بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک گھنٹے کے قریب وقت میں لڑی جانے والی اس فائیٹ میں بینوا نے پہلے شان مائیکل کو اور بعد میں ٹرپل ایچ کو زیر کرکے اپنے اعزاز کا عمدہ دفاع کیا۔

بدقسمتی سے کچھ دنوں بعد بینوا رینڈی اورٹن سے عالمی چیمپئن کی بیلٹ ہار گئے۔ پھر اپنے ہم وطن ”ایج“ کے ہمراہ ایک ٹیم بنائی اور دو مرتبہ ورلڈ ٹیگ ٹیم چیمپئن شپ کا اعزاز جیتنے میں کامیاب رہے۔ بینوا گزشتہ برس ”را“ چھوڑ کر ”اسمیک ڈاؤن“ سے وابستہ ہوگئے تھے۔ اسمیک ڈاؤن میں آکر بینوا ایک مرتبہ پھر کامیابیوں کی طرف چل پڑے اور جے بی ایل کے ساتھی یو ایس اے چیمپئن اورلینڈو جورڈن کو صرف 17 سیکنڈوں میں تاریخی شکست دے کر پہلی مرتبہ ڈبلیو ڈبلیو ای یو ایس اے چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرکے ریسلنگ کی تاریخ میں سب سے کم وقت میں بیلٹ جیتنے عالمی ریکارڈ بھی قائم کیاتھا۔

گزشتہ ہفتے وہ بوبی لایشلے کی جانب سے واپس کی گئی ای سی ڈبلیو عالمی چیمپئن شپ کی بیلٹ کے مقابلے کیلئے کوالیفائی کرچکے تھے اور اتوار کے روز ہوسٹن میں ہونے والے سالانہ ”ویگانس“مقابلوں میں اس نے اچانک دستبرداری کا اعلان کرکے اپنے گھر کی راہ لی جہاں یہ اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ موجودہ دور میں کرس بینوا کا شمار ان چند گنے چنے ریسلرز ہوتا تھا جنہیں شائقین کی طرف سے ان کی ایک ایک حرکت پر داد ملتی تھی ۔ کرس بینوا صحیح معنوں میں ایک چیمپئن تھے ۔اس کی سب سے بڑی صفت اس کی غیر متنازعہ اور صاف ستھری فائیٹ تھی ۔کرس بینواکی یوں اچانک موت ریسلنگ کے شائقین کیلئے بہت بڑا صدمہ ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments