کوپا امریکہ کپ اورچیمپئین 2016 :چلی

Copa America Cup

فائنل میں میسی نے کھیل تو ایک دفعہ پھر اچھا پیش کیا لیکن چلی کے خلاف مقابلہ برابر رہنے پر جب پینلٹی شوٹز پر فیصلہ ہونا قرارپایا تو میسی سے پینلٹی کک ضائع ہو گئی جس کا دُکھ اُس کے چہرے پر ارجنٹائن کی شکست کے بعد واضح تھا۔کیونکہ وہ جانتا تھا

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر جون

Copa America Cup

فُٹ بال کی تاریخی اہمیت کا جہاں انکار نہیں کیا جا سکتا وہاں اس کھیل کو عروج پر لیکر جانے میں" جنوبی امریکہ" کے کردار سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔لہذا اس دفعہ امریکہ میں منعقد ہونے والے "کوپا امریکہ فُٹ بال کپ 2016 " کے مقابلوں کو جو پذئرائی حاصل ہو ئی اُسکی بھی ایک اہم وجہ جنوبی ا مریکہ کی اس کھیل کیلئے وہ خدمات ہیں جنکا آغاز 19ویں صدی کے وسط سے اُس خطے میں نظر آتا ہے ۔
کونمیں بول:
1904ء میں فیفا کے قیام کے ساتھ ہی جنوبی امریکہ کے10 ممالک نے ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے 19ِجولائی1916ء کو " کونمیں بول" (سابقہ نام) یعنی ساؤتھ امریکن فُٹ بال کنفیڈریشن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے ایک گورننگ باڈی کے تحت فُٹ بال کے مقابلوں کا انقعاد کروانا شروع کر دیا۔
 وقت گزرتا رہا اور فیفا کے زیر ِنگرانی رُکن ممالک ارجنٹائن ، چلی، کولمبیا ، پیراگوئے ، برازیل ، ایکواڈور، پیرو ،یوروگوائے،وینزویلا اور بولیویا کے درمیان شاندار مقابلے ہو تے رہے اور فُٹ بال کے شائقین کی تعداد میں اضافہ ہو تا چلا گیا۔

(جاری ہے)

اس دوران فُٹ بال کے 5 مزید اتحاد یوئیفا ،سی اے ایف ،اے ایف سی ،او ایف سی اور کونکا کاف بھی بن گئے جن کا مقصد فُٹ بال کے کھیل کا فیفا کی زیر ِنگرانی رہ کر مزید فروغ تھا۔ تاکہ فیفا کے تحت ہر چار سال بعد بین الاقومی سطح پر فُٹ بال کا ورلڈ کپ منعقد کروانے کے دوران بھی مختلف سطح و اوقات پر مختلف ممالک میں فُٹ بال کے بین الاقوامی مقابلے کروا کر شائقین کا اس کھیل میں جوش و خروش قائم رکھا جا سکے۔
کونکا کاف :
بہرحال اس سلسلے کی پہلی کڑی جنوبی امریکہ کا " کوپا امریکہ کپ" بنا۔کیونکہ فیفا فُٹ بال ورلڈ کپ کا پہلا ایونٹ بھی 1930ء میں منعقد ہوا۔ لہذا اُسکی مقبولیت پر بر ِاعظم شمالی امریکہ نے بھی قدم بڑھایا اور 18 ِستمبر1961ء کو41ممالک نے "کونکا کاف" کے نام سے دِی کنفیڈریشن آف نارتھ سینٹرل امریکہ اینڈ کیربین ایسوسی ایشن فُٹ بال قا ئم کر لی۔جس کے بعد 1993ء سے شمالی امریکہ کی بھی2ٹیمیں" کوپا کپ "کے ایونٹ میں شامل ہونی شروع ہو گئیں۔پہلی دفعہ امریکہ اور میکسیکو کو دعوت دی گئی۔ 1999ء میں پہلی دفعہ ایک غیر امریکی ملک جاپان نے بھی دعوت پر ایونٹ میں شرکت کی۔
 کوپا امریکہ سنٹناریو ۔۔۔یو ایس اے 2016ء۔۔۔
 کوپا امریکہ کپ ہر 4سال بعد منعقد ہوتا ہے ۔لہذا " 2016 ء کوپا امریکہ کپ" کا خصوصی ایونٹ اُسکی 100سالہ تقریب کا سال قرار پانے کی وجہ منعقد کیا گیا ۔ساتھ میں اس دفعہ جنوبی امریکہ کے ساتھ شمالی امریکہ کی 6 ٹیموں کو بھی کوپا کپ کھیلنے کیلئے منتخب کر لیا گیا جن میں یو ایس اے (امریکہ)،کوسٹ ریکا ،پاناما، ہیٹی،میکسیکو اور جمیکاکے نام سامنے آئے۔ اسطرح پہلی دفعہ12کی بجائے 16ٹیموں نے کوپا کپ کے 45ویں ایڈیشن میں حصہ لیا۔ دلچسپ یہ رہا کہ پہلی دفعہ کوپا کپ فُٹ بال کے یہ مقابلے جنوبی امریکہ سے باہر" امریکہ" میں منعقد کیئے گئے۔
یوایس اے میں منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں 16 ٹیموں کو ذیل کے چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا:
گروپ : اے
 امریکہ ، کولمبیا ، کوسٹاریکا ، پیراگوئے ،
گروپ : بی
 برازیل ، ایکواڈور ، ہیٹی ، پیرو ،
گروپ : سی
 میکسیکو ، یوروگوائے ، جمیکا ، وینزویلا ،
گروپ : ڈی
 ارجنٹائن ، چلی ، پاناما ، بولیویا ،
آغاز وپہلا مرحلہ:
 3ِجون 2106ء کو امریکہ اور کولمبیا کے افتتاحی میچ کے ساتھ فُٹ بال کے اس ایونٹ کا آغاز ہوا اور کولمبیا نے امریکہ کو 3۔0سے شکست دے کر پہلی کامیابی حاصل کر لی۔ اسکے بعد شیڈول کے مطابق تمام گروپس کی ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلوں کا آغاز ہو گیا اور ہر ٹیم کے کھلاڑیوں نے بڑھ چڑھ کر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
 اس راؤنڈ میں فُٹ بال کابڑا نام "برازیل" ناقص کارگردگی کی بنا پر پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو گیا۔اس سے پہلے1987ء میں بھی ایسی صورت ِحال پیش آئی تھی۔بہرحال دوران ایونٹ ہی ٹیم کے کوچ " ڈونگا "کو برطرف کر دیا گیا جس نے برازیل کو بحیثیت کپتان 1994ء کاورلڈ کپ جیتوایاتھا۔
ارجنٹائن کے شہرہ آفاق کھلاڑی لیونل میسی نے پاناما کے خلاف شاندار ہیٹرک کر کے ارجنٹائن کو کواٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کروایا تو تماشائی بھی اُسکے کھیل پر داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ ارجنٹائن کو0-5سے کامیابی حاصل ہوئی۔ابھی اُسکا راؤنڈ کا ایک میچ بولیویا کے ساتھ باقی تھا۔جس میں بھی میسی کی کارکردگی اعلیٰ ترین نظر آئی ۔
 کواٹر فائنل:
14ِ جون کو پہلے مرحلے کا اختتام ہوا تو پوائنٹس کی بنیاد پر ہر گروپ کی پہلے نمبر پر آنے والی ٹیم کا مقابلہ دوسرے گروپ کی دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم سے شروع ہوا ۔جسکی ترتیب کواٹر فائنل کیلئے کچھ ایسے تھی:
۱) یوایس اے بمقابلہ ایکواڈو : 16 ِجون کو ہوا جس میں یو ایس اے نے 1-2 سے کامیابی حاصل کر لی۔
۲)ارجنٹائن بمقابلہ وینزویلا : 18 ِجون کو ہوا اور کامیاب ٹھیرا ارجنٹائن 1-4سے مدِمقابل کو شکست دے کر۔
۳) پیرو بمقابلہ کولمبیا :17ِجون کو ہوا ۔کواٹرفائنلز کایہ واحد اعصاب شکن میچ رہا جسکا فیصلہ 4-2پنیلٹی شوٹزپر کولمبیا کے حق میں ہوا۔
 ۴) میکسیکو بمقابلہ چلی :18جون کو ہوا ار چلی نے0-7سے آسانی سے میکسیکو کا شکست دے دی۔
سیمی فائنل:
کیلئے مدِمقابل ٹیمیں آئیں:
(1 یوایس اے بمقابلہ ارجنٹائن
(2کولمبیا بمقابلہ چلی۔
پہلے سیمی فائنل کی ٹیموں میں یو ایس اے 21سال بعد سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر کے پہنچا تھااور ارجنٹائن 2015ء میں کوپا کپ کا رنراَپ رہ چکا تھا۔ اس کے برعکس کولمبیا 12سال بعد کوپا امریکہ کا فُٹ بال سیمی فائنل کھیلنے جارہا تھا۔جبکہ چلی اس ٹورنامٹ میں گزشتہ سال پہلی دفعہ فائنل جتنے کے بعد اس سال اپنے ٹائٹل کے دفاع کی جنگ لڑ رہا تھا۔
پہلا سیمی فائنل:
22ِجون2016ء کو پہلے سیمی فائنل میں یو ایس اے کو ارجنٹائن کا سب سے اہم کھلاڑی لیونل میسی لے بیٹھا اور اُسکے بہترین پاس سے پہلے ایک گول ہوا اور پھر اُسکی اپنی فری کک سے دوسر گول۔ وقفے کے بعد میسی کے پاس پھر کام آئے ارجنٹائن نے مزید 2گول کر کے مقابلہ 0-4سے جیت کر فائنل کے میدان میں قدم رکھ دیا۔
دوسرا سیمی فائنل:
23ِجون2016ء دوسرا سیمی فائنل چلی کے حق میں اُس وقت ہی ہوتے ہوئے نظر آیا جب 6ویں منٹ میں چلی کی گول کرنے کی ایک کوشش کے دوران کولمبیا کے ایک کھلاڑی کے سر سے بال لگ کر چلی کے فارورڈ کھلاڑی کے پاس آگیا اور اُس نے آسانی سے بال گول میں پھینک دیا۔ 10ویں منٹ میں دوسرا گول کر کے چلی نے سبقت حاصل کر لی ۔ پھر یہی 0-2کی برتری میچ کے آخر تک قائم رہی اور چلی پہنچ گیا فائنل میں۔
تھرڈ پوزیشن کا میچ:
یوایس اے بمقابلہ کولمبیا 25ِ جون2016ء کو کھیلا گیا جو کھیل کے 31ویں منٹ میں کولمبیا کے کھلاڑی کالوس بیکا کے واحد گول کرنے کے بعد یو ایس اے کی شکست کا باعث بن گیا ۔ تھرڈ پوزیشن کولمبیا اور چوتھی امریکہ کی رہی۔
 فائنل چلی بمقابلہ ارجنٹائن:
2015ء کے کوپا امریکہ کپ میں بھی یہی دونوں ٹیمیں فائنل میں مد ِمقابل تھیں۔ مقام چلی کا شہر سان تیانگو۔جہاں شائقین بھی اُنکے تھے اور ارجنٹائن کے کھلاڑی میسی اور اُسکی فیملی کے خلاف اُنکا منفی رویہ نفسیاتی دباؤ بھی ثابت ہو رہا تھا۔ مقابلہ تو برابر رہا لیکن پنیلٹی شوٹز پر چلی کو 1-4سے کامیابی حاصل ہو گئی۔ ارجنٹائن کی طرف سے واحد پینلٹی پر گول بھی میسی نے ہی کیا تھا۔ بہرحال چلی نے تاریخ میں پہلی دفعہ کوپا امریکہ کپ جیت لیا تھا حالانکہ 1916ء سے مقابلوں میں حصہ لے رہا تھا۔ اس کے برعکس ارجنٹائن نے گزشتہ 22سال سے زائد عرصے میں کوئی اہم انٹرنیشنل فُٹ بال مقابلہ نہیں جیتا تھا۔
2016ء کا فائنل چلی کے نام :
لہذا 26ِجون2016ء کو دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والا فائنل بہت اہمیت اختیار کر گیا تھا اور ارجنٹائن کے مشہور ِزمانہ سابق کھلاڑی میروڈونا نے کہہ دیا تھا کہ ارجنٹائن کی ٹیم فائنل جیت کر واپس آئے ورنہ نہ آئے۔دوسری طرف چلی نے ٹائٹل کا دفاع کر نا تھا۔
چلی اور ارجنٹائن کی ٹیمیں جب گراؤنڈ میں داخل ہوئیں تو اسٹیڈیم شائقین سے بھرا ہو اتھا اور آغاز میں ہی دونوں طر ف سے بہت جوش نظر آیا۔ مقصد تھا پہلا گول؟پہلا ہاف وزورں پر رہا اور ارجنٹائن بھاری نظر آیا کیونکہ چلی نے 10فاؤل کیئے اور 1ریڈ کارڈ کا سامنا بھی کیا۔ کورنر دونوں کو ایک ایک ملے۔دوسرے ہاف میں مقابلہ کانٹے دار لگا چھا یا پھر بھی ارجنٹائن ہی رہا۔ کیونکہ ارجنٹائن کو 7مزید کورنر ملے جبکہ چلی کو 3۔ لیکن گول پھر کوئی ٹیم نہ کر سکی اور اسطرح اضافی ٹائم میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ برابر رہا اور اسٹیڈیم میں تماشائیوں کا جوش و خروش اعصاب شکن کی شکل اختیار کر گیا۔
پینلٹی شوٹ کا مرحلہ آیا تو پہلی چلی سے ضائع ہو گئی اور دوسری ارجنٹائن کے میسی سے ۔پھر چلی نے اگلی چار پر 4گول کر دیئے جبکہ ارجنٹائن کی 8ویں کک ضائق ہو چکی تھی۔لہذا چلی پینلٹی شوٹز پر2-4سے کوپا امریکہ کپ کا دوسری دفعہ مسلسل فاتح بھی قرار پا گیا اور اپنے ٹائٹل کا دفاع بھی کر گیا۔ چلی کے شائقین نے خوشی میں بہت نعرے لگائے اور اُنکے اپنے ملک میں جشن کا سماں قائم ہو گیا۔
 لیونل میسی کا سحر :
ارجنٹائن فُٹ بال ٹیم کے وہ اہم کھلاڑی ہیں جنہیں 5مرتبہ سال کا بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے نے24ِجون 2016کو جب کوپا امریکہ ٹورنامنٹ کے دوران اپنی 29ویں سالگرہ منائی تو وہاں کے شائقین اُنکے سحر میں نظر آئے۔جسکی وجہ اارجنٹائن کی سیمی فائنل میں رسائی تک اُنکی بہترین کارکردگی رہی۔
 میسی کی ایونٹ میں خاص طور پر پاناما کے خلاف 19منٹ میں ہیٹرک، بولیویا کے خلاف اُنکے گول کیپر کی ٹانگوں کے درمیان میں سے بال کو کک مار کر گول کرنااور پھر سیمی فائنل میں یوایس اے کی سر ِزمین پر کم وبیش 70ہزار شائقین کے درمیان شاندار کھیل اور ایک ناقابل ِفراموش فری ہٹ سے گول کر دینا وہاں کے شائقین پر سکتہ طاری کر گیا۔اُس گول کے بعد وہ ارجنٹائن کی طرف سے اب تک کُل 55 انٹرنیشنل گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ۔اس سے پہلے ارجنٹائن کے گیبریل بیٹس ٹوٹاکا زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ تھا۔بہرحال فائنل میں میسی نے کھیل تو ایک دفعہ پھر اچھا پیش کیا لیکن چلی کے خلاف مقابلہ برابر رہنے پر جب پینلٹی شوٹز پر فیصلہ ہونا قرارپایا تو میسی سے پینلٹی کک ضائع ہو گئی جس کا دُکھ اُس کے چہرے پر ارجنٹائن کی شکست کے بعد واضح تھا۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فی الوقت ارجنٹائن کو بڑی فتح کیلئے ایک نیا انتظار کرنا پڑے گا ۔لیکن اُس میں اب اس شکست کے بعد سکت نہیں کے وہ مستقبل میں ارجنٹائن کیلئے بین الاقومی سطح پر فُٹ بال کے مقابلوں میں حصہ لے سکے ۔ لہذا اگلے چند لمحوں میں 29سالہ لیونل میسی نے ریٹائر منٹ کا اعلان کر دیا۔
 کونسا ملک کتنی دفعہ کوپا امریکہ کپ جیت چکا ہے 2016تک :
 یورگوائے 15، ارجنٹائن 14، برازیل 8 ، پیراگوئے 2 ، پیرو 2 ،چلی 2،کولمبیا 1، بولیویا 1

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments