کرکٹ کے ادوار | مقبولیت

Cricket

ٹیسٹ کرکٹ کے فارمیٹ پر زیادہ تر سوال اُٹھایا جا رہاہے کہ کیا ایک روزہ اور ٹی 20 فارمیٹ میں نئی نسل ٹیسٹ میچ دیکھنے اور اسکے نتائج کو قبول کرنے کیلئے تیار ہو گی؟

Arif Jameel عارف‌جمیل ہفتہ ستمبر

Cricket
کرکٹ دنیا کے صرف چند ممالک کا مقبول ترین کھیل ہونے کے باوجود دنیا بھر میں فٹبال کے مدمقابل تصور کیا جاتا ہے ۔آج کرکٹ کی درجہ بندی3 حصوں میں کی جاتی ہے ٹیسٹ میچ،ون ڈے اور ٹی ٹونٹی۔لیکن اسکی تاریخی حیثیت ٹیسٹ میچ سے ہی منسلک ہے۔لہذا موجودہ دور کی کرکٹ پر تبصرات نے اس کھیل پر بہت سے فیصلہ کن سوالات اٹھا دیئے ہیں جنکا مختصر احاطہ کرنیکی کوشش کی جائے تو بہت سی ماضی کی یادیں تازہ ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

کرکٹ کے کھیل کا آغاز: نارمن قوم کی انگلستان میں آمد سے واضح ہوتا ہوا نظر آتا ہے ۔لیکن مختلف مراحل تہہ کرتے ہوئے 17ویں صدی سے اس کھیل کی مقبولیت سامنے آتی ہے۔چونکہ عالمی سطح پر وہ دور انگلستان کا تھا لہذا جہاں وہ گئے اپنے ساتھ اس کھیل کو لیکر گئے۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل سطح پر پہلا کرکٹ میچ امریکہ اور کینیڈا کے کے درمیان 1844ء میں نیویارک کی گراؤنڈ پر کھیلا گیا۔

(جاری ہے)

پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہوا تب نظر آیا جب 1877ء میں انگلستان کی کرکٹ ٹیم نے اَسٹریلیا جاکرمیلبورن میں پہلا افتتاحی ٹیسٹ میچ کھیلااور اُس میں انگلستان کو 45سکور سے شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ممالک کو ٹیسٹ ٹیم ک درجہ: اَسٹریلیا 1877 ء۔انگلینڈ1877ء۔ جنوبی افریقہ1889 ء۔ویسٹ انڈیز1928ء۔نیوزی لینڈ1930 ء۔اِنڈیا 1932 ء۔ پاکستان 1952 ء۔سری لنکا 1982 ء ۔

زمباوے 1992ء۔بنگلہ دیش 2000ء۔ آئر لینڈ2018ء۔افغانستان2018ء۔ دنو ں اور آوروں کی ترتیب: کرکٹ چونکہ انگریروں کا کھیل کہلایاگیا لہذا اُس میں تمام وہ ادب و آداب رکھے گئے جنکی وجہ سے وہ آج بھی مشہور ہیں۔ٹیسٹ میچ کیلئے پانچ روز رکھے گئے اور اس دوران کھیل کی 2اننگزرکھی گئیں۔ہر روز پہلے دو گھنٹے کے کھیل کے بعد 40منٹ کا کھانے کا وقفہ رکھا گیا اور اگلے دو گھنٹے بعد 20منٹ کی چائے کا وقفہ۔

بعدازاں دن کے اختتام کے مطابق مزید ڈیرھ یا دو گھنٹے کا کھیل کھیلا جاتا۔ساتھ میں ہر گھنٹے بعد پانی کا وقفہ بھی شامل کیا گیا۔پہلے تین دن کے بعد ایک دن میچ کی چھٹی ہوتی جس میں بیرون ِملک کی ٹیم اُس شہر کی سیر کرتی جہاں وہ میچ ہو رہا ہوتا۔پھر باقی دو روز کا کھیل ہوتا۔6گیندوں کا ایک آور رکھا گیا لیکن اَسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں میچوں کے دوران 8گیندوں کا اوو رکھ کر بھی کرکٹ کھیلی گئی۔

پھر70ء کی دہائی کے آخر میں تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں 6گیندوں کا ہی اوور مقرر کر دیا گیا۔ بڑے کھلاڑی : تو کرکٹ کے فروغ کے ساتھ ہی سامنے آنا شروع ہوگئے تھے لیکن اس کھیل کی شہرت کا ڈنکا باقاعدہ طور پر اُس وقت بجا جب دُنیا کرکٹ کے سب سے بڑے اَسٹریلین کھلاڑی بریڈ مین نے اپنے شاندار کھیل سے شائقین کو متاثر ہی نہ کیا بلکہ بحیثیت بلے بازنئے سے نئے ریکارڈ بنانے شروع کر دیئے۔

بلکہ1932-33ء کا وہ دور سامنے آیا جب اَسٹریلین بلے بازوں کے خلاف انگلش کرکٹ ٹیم نے پہلی دفعہ باڈی لائین باؤلنگ کا آغاز کیا۔یہ ایک نئی تبدیلی تھی جس نے کرکٹ کے کھیل میں انقلاب بر پا کردیا اور پھر جنگ ِعظیم دوم کے بعد جیسے جیسے دوسرے ممالک کو بھی ٹیسٹ ٹیموں کا درجہ ملتا گیا اس دوران بڑے سے بڑے کھلاڑی بھی سامنے آنا شروع ہوگئے۔جن میں اَسٹریلیا کے باب سمپسن انگلینڈ کے باؤلر ٹرو مین،کولن کاوڈرے، ویسٹ انڈیز کے سر گیری سوبرز، روہن کہنائی، باؤلر گیبز۔

بھارت کے لالہ امرناتھ،پاٹودی اور پاکستان کہ حنیف محمد ،فضل محمد وغیرہ شامل تھے۔ 70ء کی دہائی سے 90ء کی دہائی کے آغاز تک دُنیا کرکٹ کے ہر ملک سے اتنے انتے بڑے کھلاڑی آمنے سامنے مقابلہ کرتے ہوئے نظر آئے کہ اُس دور کو بہترین کرکٹ کے عروج کا دور کہا جائے تو مبالغہ آمیزی نہیں ہو گی۔آسٹریلیاکے چیپل برادران،ڈینس للی،جیف تھامسن، روڈنی مارش،ایلن بارڈر،سٹیو وا،میگرا،پونٹنگ، انگلینڈ کے ٹونی گریگ،ڈینس ایمس،ایلن نوٹ،انڈر وڈ، گوچ،گاور،بوتھم،ایلن لیمب،باب ولس،نیوزی لینڈ کے باؤلر رچرڈ ہیڈ لی،بھارت کے سنیل گواسکر،بیدی،چندر شیکر،سید کرمانی،مہندر امرناتھ،وشوا ناتھ،کیپل دیو،سچن ٹنڈولکر۔

پاکستان کے ماجد خان،ظہیر عباس،مشتاق محمد،آصف اقبال،وسیم باری، عمران خان،جاوید میاں داد،وسیم حسن راجہ، عبدالقادر ،انضام الحق،وسیم اکرم،وقار یونس اور ویسٹ انڈیز کے کلائیو لائیڈ،کالی چرن، گورڈن گرینج، ڈیوڈ مرے ،رابرٹز،مائیکل ہولڈنگ،کرافٹ،گارنر،کلارک،مارشل ،کوٹنی والش اور آخر میں دُنیا کرکٹ کا ایک بہت بڑا نام ویون رچرڈ جنکی طرز ِ بلا بازی ایک ایسی پہچان تھی کہ کوئی بھی محلے کی کرکٹ سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے والا کھلاڑی اُس طرز پر کھیلتا تو کمینٹری کرنے والا بھی کہے بغیر نہ رہتا "رچرڈ شارٹ"۔

ون ڈے کرکٹ کا آغاز پہلا ون ڈے 5 جنوری 1971 کو آسٹریلیا اور انگلینڈ کے مابین میلبورن کرکٹ گراوٴنڈ آسٹریلیا میں کھیلا گیا ۔ جب آسٹریلیا انگلینڈ ٹیسٹ سیریزکے تیسرے ٹیسٹ کے پہلے 3دِن بارش اور موسم کی خرابی کی نذر ہو گئے تو عہدیداروں نے میچ ترک کرنے کا فیصلہ کر کے8گیندوں پر مشتمل 40 اوورز کا ایک روزہ کرکٹ میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا ۔ آسٹریلیا نے پہلا تاریخی میچ 5 وکٹوں سے جیت لیا۔

جس کے بعد اس فارمیٹ کا آغاز بھی ہو گیا۔ شروع میں تو حسب ِروایت سفید رنگ کی کٹ میں سرخ رنگ کی گیند کے ساتھ ہی میچ کھیلے گئے۔ مختلف ممالک کی ٹیسٹ سیزیز کے ساتھ ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں کا شیڈول بھی جاری کیا جانے لگا اور پھر 1975ء میں آئی سی سی نے انگلینڈ میں پہلے ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ ورلڈ کپ کا انقعاد کروا دیاجو ویسٹ انڈیز نے جیتا اور پھر مزید اگلے دو ورلڈ کپ بھی انگلینڈ میں ہی منعقد ہوئے ۔

دوسرا والا بھی ویسٹ انڈیز نے جیتا اور تیسرا والا اِنڈیا نے دفاعی چیمپئین ویسٹ انڈیز کو ہرا کے جیت لیا۔اِنڈیا نے 2011ء میں بھی دوسری مرتبہ چیمپئین بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اس ایک روزہ کرکٹ کے فارمیٹ نے کرکٹ کو اُس وقت ایک نیا ہی رنگ دے دیا جب 1977ء میں آسٹریلیا کہ ہی معروف بزنس مین "کیری پیکر" نے دُنیا عالم کے مشہور کرکٹرز کو اپنے نام پر مبنی" کیری پیکر کرکٹ" سرکٹ آسٹریلیا میں اکٹھا کیا اور پہلی دفعہ مقابلوں کو " ورلڈ سیریز کرکٹ" کا نام دے کرنجی حیثیت میں ٹیمیں بناکر ایک روزہ میچ کروانے شروع کر دیئے ۔

اُنھوں نے ساتھ میں چند اہم تبدیلیاں بھی کیں جن میں کھلاڑیوں کے مختلف کٹ کے رنگ اور سفید بال متعارف کروایا گیا۔ نائٹ کرکٹ کا آغاز ہوا اور ہیلمٹ کا استعمال بھی نظر آیا۔ آئی سی سی کو کیری پیکر کے کھیل کے طریقہ انداز کو اپنانے میں کچھ مدت ضرور لگی لیکن 1987ء میں پاکستان اِنڈیا میں ہو نے والے چوتھے مشترکہ ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کی کٹ سمیت بہت سی وہ اہم تبدیلیاں ضرور نظر آئیں جنکا آغا ز کیری پیکر ورلڈ سیریز میں10 سال پہلے ہو چکا تھا ۔

1987 ء ہی وہ سال تھا جس میں 60 اوورز کو محددو کر کے50اوورز کر دیئے گئے اور پہلی دفعہ ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ ورلڈ کپ انگلینڈ سے باہراِنڈیا اور پاکستان میں منعقد ہوااور اَسٹریلیا پہلی دفعہ چیمپئین بنا۔2019 ء تک 12 کرکٹ ورلڈ کپ ہو چکے ہیں جن میں سے اَسٹریلیا نے7 دفعہ فائنل تک رسائی حاصل کی اوراُن میں سے5دفعہ فائنل جیت کر پہلے نمبر پر ہے۔

اِن میں سے3 دفعہ اَسٹریلیا لگاتار چیمپئین رہا تھا:1999ء ،2002ء اور2007 ء میں۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم 1992 ء میں اور 1996 ء میں سری لنکا بھی ایک ایک مرتبہ چیمپئین رہ چکی ہے۔2019 ء میں انگلینڈ نے اپنی ہوم گراؤنڈ پر ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد پہلی دفعہ ورلڈ کپ جیتا۔ 2019 ء تک ہی اِنڈیا کے سچن ٹنڈولکر 2278 رنز بنا کر پہلے نمبر پربلے باز ہیں اور اَسٹریلیا کے فاسٹ باؤلر گیلن میگرا71وکٹیں لیکر پہلے نمبر پر ۔

ابھی یہ سلسلہ جاری ہے اور2023 ء کا ورلڈ کپ اِنڈیا میں منعقد ہو گا۔ آئی سی سی ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ کا ہر ٹورنامنٹ یاد گار رہا لیکن 1979 ء کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان ویون رچرڈ کی بلے بازی اور سنچری اور 1983 ء کے فائنل میں اِنڈیا کی دفاعی چیمپئین ویسٹ انڈیز کو حیران کُن شکست آج تک تاریخی حیثیت میں ناقابل فراموش ہے۔ ٹی ٹونٹی کرکٹ کا آغاز: انگلینڈ میں کاوٴنٹیوں کے فرسٹ کلاس ایک روزہ کرکٹ مقابلوں کو 1972 ء تا2002ء تک کے طویل عرصہ میں مشہور تمباکو کمپنی "بنسن اینڈ ہیجز" سپانسر کرتی رہی لیکن پھر تمباکو کی تشہیر کی پابندی پر بنسن اینڈ ہیجز کپ ختم کر دیا گیا۔

جس پر انگلینڈ اورویلز کرکٹ بورڈ کو تشویش لاحق ہوئی کہ اب نوجوان نسل کیلئے کونسا ایسا کم وقتی دِلچسپ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کیا جائے کہ وہ اسٹیڈیم میں آکر کرکٹ کے مقابلے دیکھتے رہیں۔اس سارے معاملے کے دوران ای سی بی کے مارکیٹنگ منیجر اسٹوارٹ رابرٹسن کرکٹ کے پرموشنل معاملات کا جائز ہ لے رہے تھے۔ لہذا اُنھوں نے2001 ء میں ہی کاوٴنٹی چیئر مینوں کو ٹی20 کرکٹ کی تجویز دے دی تاکہ مختصر فارمیٹ کی کرکٹ کو مزید مختصر اور نئے انداز سے پیش کیاجا سکے۔

اُنکی تجویز کو سراہتے ہو ئے ووٹنگ کا فیصلہ کیا گیا جس میں 7 کے مقابلے میں11ووٹوں سے ٹی 20 کرکٹ کے نئے فارمیٹ کو قبول کرتے ہوئے کا ؤنٹیوں کے درمیان سرکاری سطح پر پہلا ٹی20 کرکٹ کپ 13 ِجون2003 ء میں کروا دیا گیا۔ ٹی 20 کے اس فارمیٹ کو جلد ہی مقبولیت حاصل ہو گئی گو کہ کچھ مایہ ناز کرکٹرز نے شدید تنقید بھی کی لیکن نئی نسل کی پُھرتیوں نے سپانسر کمپنیوں کا حوصلہ بڑھایا اور وہ ٹی20 کرکٹ کو مزید تقویت دینے کیلئے سامنے آگئے۔

جس پر ٹی20 کرکٹ کوانٹرنیشنل سطح پر بھی متعارف کروانے کیلئے پہلا ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میچ انگلینڈ اور نیوزی لینڈکی خواتین کی ٹیموں کو درمیان4اگست2004 ء میں کروایا گیا جو نیوزی لینڈ کی ٹیم9 رنز سے جیت گئی ۔اس کے بعد مردوں کا پہلا انٹرنیشنل ٹی20 کرکٹ میچ آکللینڈ ،نیوزی لینڈ میں 17ِ فروری2005 ء میں کھیلا گیا جس میں اَ سٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو شکست دے دی اور پھر یہاں سے اگلی کڑی تھی انٹرنیشنل ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ جو سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں ستمبر2007 ء کو کھیلا گیا اور فاتح ہوا اِنڈیا،رنر اَپ رہا پاکستان۔

لیکن 2009 ء میں انگلینڈ میں ہو نے والے کپ میں پاکستان سری لنکا کو فائنل میں ہرا کر چیمپئین بن گیا۔ 2016 ء تک 6 ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ کپ ہو چکے ہیں جن میں سے 2 دفعہ ویسٹ انڈیز جیت چکا ہے اور ایک ایک دفعہ اِنڈیا ،پاکستان،انگلینڈ اور سری لنکا۔2020 ء میں اِنڈیا میں ہو نا والا کپ دُنیا عالم میں پھیلی ہو ئی وباء کورونا کوویڈ19 کے باعث ملتوی کر کے 2021 ء میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لہذا گزشتہ چند سالوں سے ٹی20کے میچ اب ملکی سطح پر دوطرفہ میچوں کا حصہ بھی بن چکے ہیں اور تقریباً تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک نے ٹی 20 کے فارمیٹ کے مطابق صلاحیت رکھنے ولاے کھلاڑیوں کی ٹی20 کی ٹیمیں اور کپتان الگ منتخب کر لیئے ہوئے ہیں۔ کرکٹ کا مستقبل: اس لیئے زیر ِبحث ہے کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ کے فارمیٹ پر زیادہ تر سوال اُٹھایا جا رہاہے کہ کیا ایک روزہ اور اب ٹی 20 فارمیٹ میں نئی نسل ٹیسٹ میچ دیکھنے اور اُسکے نتائج کو قبول کرنے کیلئے تیار ہو گی؟ کرکٹ کا کھیل اپنے آغاز سے آج تک مقبولیت کے ریکارڈ ہی قائم کر رہا ہے اور موجودہ دور میں اسکے تینوں فارمیٹ ٹیسٹ کرکٹ ،ایک روزہ اور ٹی20 کو مزید پذیرائی مل رہی اور ملتی رہے گی۔

بات رہی خصوصاً ٹیسٹ میچ فارمیٹ کی تو اس کی تاریخی اہمیت کو مد ِنظر رکھتے ہوئے اسکے لئے بھی آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آغاز2019 ء سے کر دیا گیا ۔2021ء میں اسکا فائنل کھیلا جائے گا اور پہلی دفعہ کوئی ٹیسٹ ٹیم چیمپئن بننے کا اعزا ز حاصل کرے گی۔اُمید کی جارہی ہے کہ یہی اہم قدم ٹیسٹ کرکٹ کے فارمیٹ کی اہمیت کو مزید چار چاند لگا دے گا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments