کرسٹیانو رونالڈو کا فلاپ شو، سپین نے پرتگال کو روند ڈالا

Cristiano Ronaldo Ka Show Flop

عصر حاضر کا بہترین سٹرائیکر وائن رونی کی طرح اپنی ٹیم کیلئے رحمت کی بجائے زحمت ثابت ہوا پیراگوئے نے پنالٹی شوٹ آؤٹ پر جاپان کوہرادیا ، برازیل اور ارجنٹائن فاتح عالم کیلئے مضبوط امید وار بن گئے

بدھ جون

Cristiano Ronaldo Ka Show Flop
اعجازوسیم باکھری: فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2010ء اپنے عروج پرپہنچاچکا ہے اورٹورنامنٹ جوں جوں اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اُسی طرح ایونٹ میں سنسنی خیزی اور دلچسپی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ عالمی کپ کا پری کوارٹرفائنل مرحلہ گزشتہ رات سنسنی خیزانداز میں اپنے اختتام کو پہنچا جہاں آخری معرکے میں یورپیئن چیمپئن سپین نے پرتگال کو شکست دیکر نہ صرف ایک بار پھر خود کو فیورٹ ٹیموں میں لاکھڑا کیا بلکہ پرتگال جیسی بظاہرمضبوط نظرآنے والی ٹیم کی بھی ایونٹ سے چھٹی کرا کر ماہرین کو دعوؤں کو بھی غلط ثابت کردیا۔

اس سے پہلے گزشتہ رات کھیلے گئے پہلے میچ میں پیراگوئے نے ایشین چیمپئن جاپان کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر شکست دیکر کوارٹرفائنل تک رسائی حاصل کی۔پیراگوئے نے پنالٹی شوٹ آؤٹ مرحلے میں جاپان کو پانچ کے مقابلے میں تین گول سے شکست دیکر تاریخ میں پہلی بار کوارٹرفائنل میں جگہ بنائی جہاں اس کا مقابلہ سپین سے ہوگا۔

(جاری ہے)

گزشتہ رات کھیلے گئے سپین اور پرتگال کے میچ کو انگلینڈ اور جرمنی کے میچ کے بعد دوسرا بڑا میچ قر ار دیا جارہا تھا لیکن سپین نے پرتگال کو آؤٹ کلاس کرکے ٹورنامنٹ میں اپنی سب سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

کرسٹیانو رونالڈو جس پر پرتگال کی پوری ٹیم انحصار کرتی ہے وہ ٹورنامنٹ میں مکمل طور پر فلاپ رہے اور آخری اہم میچ میں بھی اپنی ٹیم کیلئے نہ صرف کو ئی گول کرنے میں ناکام رہے بلکہ ساتھی کھلاڑیوں کو بھی گول کرنے کا کوئی سنہری موقع نہیں دیا ۔ کرسٹیانو رونالڈوکے مقابلے میں برازیلین سٹار کاکا نے خود تو کوئی گول سکور نہیں کیا لیکن ہرمیچ میں کاکا کے پاس پر ساتھی کھلاڑیوں نے گول کرکے اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

رونالڈو یورپ کے سب سے بڑے کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں لیکن سپین کے خلاف وہ بالکل آف کلر نظرآئے اور انگلش سٹرائیکر وائن رونی کی طرح اُن کیلئے بھی یہ ورلڈ کپ بھیانک خواب ثابت ہوا۔کوریا کے خلاف سات صفر اور بعد ازاں برازیل کیخلاف پہلے راؤنڈ میں صفرسے صفر سے برابر کھیلنے کے بعد پرتگال سے بہتر کارکردگی کی امید کی جارہی تھی لیکن سپین کے ڈیفنس میں کوئی بھی پرتگالی کھلاڑی شگاف ڈالنے میں ناکام رہا اور اُن کی تمام تر توقعات اور خواہشات سپینشن سٹار ڈیوڈ ویلا کے گول سے خاک میں مل گئیں۔

ڈیوڈ ویلا ورلڈکپ تاریخ میں سپین کی جانب سے سب سے زیادہ گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔پورے میچ ڈیوڈ ویلا اور ان کے ساتھی سٹرائیکر پرتگال کے گول پوسٹ پر تابڑ توڑ حملے کرتے رہے لیکن جواب میں پرتگالی سٹرائیکر ز کی جانب سے چند ایک حملے کیے گئے جو سپینش گول کیپر ناکام بنا دئیے ۔ ورلڈکپ میں شریک 32ٹیموں میں سے پہلے راؤنڈ سے 16ٹیمیں باہرہوئیں ان میں گزشتہ ورلڈکپ کا فائنل کھیلنے والی فرانس اور دفاعی چیمپئن اٹلی کی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔

دوسرے راؤنڈ یعنی پری کوارٹرفائنل مرحلے سے بھی آٹھ ٹیموں کا انخلاء ہوا جن میں پرتگال ، انگلینڈ ، جاپان او رامریکہ کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے سے محروم رہے۔کوارٹرفائنل مرحلے میں سپین پیراگوئے کا مقابلہ کریگا جبکہ ہالینڈ کا مقابلہ پانچ مرتبہ کی عالمی چیمپئن اور موجود ہ ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم برازیل سے ہوگا۔ انگلینڈکو بدترین شکست سے دوچار کرنے والی جرمن ٹیم کوارٹرفائنل میں فیورٹ ارجنٹائن کا مقابلہ کریگی جبکہ امریکہ کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کرنیوالے گھاناکی ٹیم یوراگوئے کا مقابلہ کریگی۔

کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی تمام ٹیموں کو خطرناک کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ 32ٹیموں میں سے جو آٹھ ٹیمیں کوارٹر فائنل تک پہنچی ہیں یقیناً باقی ٹیموں سے یہ مضبوط اور فیورٹ ٹیمیں ہیں تاہم اگر نمایاں ٹیموں پر نظردوڑائی جائے تو برازیل ، ارجنٹائن ، سپین اور جرمنی کو دوسروں پر فوقیت حاصل ہے البتہ ارجنٹائن اور جرمنی کے مابین ہونیوالا کوارٹر فائنل ایک بڑا مقابلہ ہوگا اور یہاں سے ایک ہی ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل کریگی تاہم دونوں کے جیت کے یکساں امکانات ہیں۔

ہالینڈ پر برازیل کو واضع برتری حاصل ہوگی جبکہ پیراگوئے کے مقابلے میں سپین فیورٹ کی حیثیت سے میدان میں اترے گی۔ البتہ گھانا اور یورا گوئے کے بارے میں کوئی رائے دینا مناسب نہیں ہے کیونکہ دونوں ٹیمیں اپ سیٹ کرکے اوپر آئی ہیں اور یقینی طور پر ان کے مابین سیمی فائنل تک رسائی کیلئے سخت مقابلہ ہوگا۔مجموعی طور پر ٹورنامنٹ میں برازیل اور اجنٹائن کی ٹیمیں چھائی ہوئی ہیں اور ان کے تمام بڑے کھلاڑی بھرپور فارم میں ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ ٹورنامنٹ کا فائنل ارجنٹائن اور برازیل کے مابین ہوگا تاہم یہ اُس وقت ممکن ہے جبکہ برازیل ہالینڈ اور ارجنٹائن جرمنی کو شکست دیکر سیمی فائنل میں بھی کامیابی حاصل کرے ۔

فی الحال کسی بھی ٹیم کیلئے حتمی رائے دینا قابل از وقت ہے لیکن ٹورنامنٹ کی دلچسپی اور شائقین کا جنون قابل دید ہے۔ پاکستان فٹبال کی دنیا میں بہت پیچھے ہے لیکن پاکستان میں فٹبال کے شائقین کی کمی نہیں ہے اور اسی اہتمام سے پاکستان میں شائقین فٹبال میچز دیکھ رہے ہیں جیسے ایونٹ میں شریک ٹیموں کے شائقین دلچسپی سے ایونٹ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔بہرحال :عالمی کپ کا تاج کسی بھی ٹیم کے سر پر سجے پاکستانی شائقین کی ایک ہی خواہش ہے کہ کاش کرکٹ کی طرح فٹبال میں بھی پاکستانی ٹیم کا ایک مقام ہونا چاہئے اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جب پاکستان میں فٹبال چلانے والے اس کھیل سے سنجیدہ ہونگے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments