دشمن کی کھلی دھمکی کے سامنے سکیورٹی فورسز ڈٹ گئیں

Dushman Ki Khuli Dhamki K Samne Forces Datt Gayeen

زمبابوے سیریز محض ایک کرکٹ سیریز نہیں، پاکستانیوں کی غیرت کی جنگ ہے۔۔۔۔۔ مہمان ٹیم یا سٹیڈیم پرحملے کے خوف میں آئے بغیر سکیورٹی فورسزنے دشمن کو چیلنج دیدیا

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری جمعرات 21 مئی 2015

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ جب سڑک پر کوئی پروٹوکول گزرتا ہے تو اس کے اوپر آرمی کے دو ہیلی کاپٹر عقاب کی طرح سرپہ پرواز کرتے ہیں۔ ملکی تاریخ میں اگر کسی نے پہلی باریہ منظر دیکھنا ہے تو زمبابوے ٹیم کی ہوٹل سے سٹیڈیم آمد کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ انوکھی سکیورٹی کوئی زمبابوین ٹیم کیلئے نہیں ہے، یہ ایک چیلنج ہے جو پاکستانی فورسز نے دشمن کودیا ہے کہ جو کرسکتے ہو کر لو، ہم تیار ہیں۔ لاہور پولیس کے چیف امین وینس تین دن پہلے قذافی سٹیڈیم میں جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھیں بھر آئیں، ان کے الفاظ تاریخی تھے کہ ہم کسی مہمان ٹیم کی حفاظت پر معمور نہیں بلکہ ہمیں پاکستان کی غیرت اور عزت کی حفاظت ملی ہے جسے دشمن نے کھلے عام چیلنج کیا ہے اور ہم نے یہ چیلنج قبول کرلیا ہے۔

(جاری ہے)

امین وینس نے کہاکہ ہمیں ڈرانے والے دیکھیں گے کہ ہم سیریز کو کامیاب کریں گے اور چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور ثابت کریں گے کہ ہم پر سامنے سے کوئی وار نہیں کرسکتا۔

زمبابوے پاکستان کے دورے پر آئی ہے تو بظاہریہی لگ رہا ہے کہ ملک میں چھ سال بعد کرکٹ بحال ہورہی ہے ، بنیادی طور پر یہ سیریز پاکستان کی عزت کی حفاظت کا ٹیسٹ ہے، دشمن نے چیلنج دیا کہ وہ زمبابوین ٹیم پر حملہ کریں گے یا کروائیں گے لیکن سکیورٹی فورسز اس پر ڈٹ گئیں کہ ہم مہمان ٹیم اور سٹیڈیم کی حفاظت کریں گے جس نے جو کرنا ہے کرکے دکھا دے۔ یہ سیریز کرکٹ سیریز ہی نہیں بلکہ خوف کی زنجیر توڑنے کیلئے ایک آخری کوشش ہے کیونکہ اب وقت آگیا ہے کہ آخر کب تک گھروں میں محصور ہوکر بیٹھے رہیں گے۔ فورسز کے حوصلے بلند ہیں اور ان کی بات یہ سچ ہے کہ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی گھر میں چپ کر نہیں رہ سکتے، دشمن کا مقابلہ کیا جائیگا اور اب جب جو دل چاہئے گا کیا جائیگا، کسی کے خوف یا دھمکیوں میں نہیں آیا جائیگا۔ زمبابوے ٹیم گراؤنڈ میں پریکٹس کرتی ہے تو سٹیڈیم کے اوپر سکیورٹی ہیلی کاپٹرز عقاب کی طرح پرواز کرتے رہتے ہیں، پولیس ہائی الرٹ رہتی ہے تو رینجرز کے شیر جوان سینے چوڑے کرکے سڑک پر ٹہل رہے ہوتے ہیں کیونکہ دشمن نے چیلنج کیا اور پاک فورسز نے قبول کرکے انہیں چیلنج کردیا ہے کہ ہم سیریز کروا رہے ہیں اور تم لوگ دیکھتے رہ جاؤ گے۔

 2009میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان کے کر کٹ میدان ویران ہو گئے تھے ۔6سال بعد زمبابوے کر کٹ ٹیم کے دورہ پاکستان سے ملک میں سونے میدان ایک بار پھر سے آباد ہو رہے ہیں ۔ 6سال بعد پہلا انٹر نیشنل میچ کل کھیلا جائے گا،پاکستان اور زمبابوے کی کر کٹ ٹیمیں قذافی سٹیڈیم میں پہلے ٹی ٹونٹی میچ میں آمنے سامنے ہوں گی۔ پہلے ٹی ٹونٹی میچ میں احسن رضا اور شوزب رضا امپائرنگ کے فرائض سرانجام دیں گے ،میچ شام 7بجے شروع ہو گا ۔پی سی بی نے اس حوالے سے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔جبکہ سکیورٹی کے حولے سے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں  چھ ہزار پولیس اہلکارتعینات کر دیئے گئے  24گھنٹے نگرانی کی جائیگی۔ وقفے وقفے سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کا عمل بھی جاری ہے کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی حکومت کی جانب سے فوری اِنخلا کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے اور اِس مقصد کیلئے ہیلی کاپٹر لینڈنگ کی ریہرسل بھی کی گئی لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے ملحقہ نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس کے آس پاس 100 سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جہاں سے 24 گھنٹے صورتحال کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔کرکٹ میچ دیکھنے کیلئے آنے والے شائقین صرف دو دروازوں سے ہی سٹیڈیم کے اندر داخل ہو سکیں گے، گاڑیوں کی پارکنگ کو بھی سٹیڈیم سے دور رکھا گیا ہے جہاں سے شائقین کو پیدل چل کر سٹیڈیم میں داخل ہونا ہوگا۔لاہور میں پولیس اور رینجرز کے دستے پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں اور سٹیڈیم کے آس پاس تمام کاروباری مراکز اور ریستورانوں کو دو ہفتوں کیلئے بند کر دیاگیا ۔زمبابوے کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد، دہشت گردی خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس پرہنگامی بی پلان مرتب کرتے ہوئے اعلی حکام کو تجاویز دیدی گئیں۔ ہوٹل سے نز دیکی اہم عما ر ت سے خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے قذافی سٹیڈیم میں ٹیم کو لایا جائے ،اسکے علا و ہ ہو ٹل سے قذافی سٹیڈیم اور اس سے ملحقہ علا قو ں میں مو با ئل فو ن سر و س بند اور ڈبل سو ار ی پر پا بند ی عا ئد کر د ی جا ئے۔باوثوق ذرائع کے مطابق پولیس سمیت خفیہ ایجنسیوں کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں محکمہ داخلہ و دیگر افسران کی جانب سے زمبابوے ٹیم کے روٹس کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،جس میں بتایا گیا کہ پلان ون اور ٹو کے تحت منصوبہ بندی میں دہشت گردی کے خدشے کو مد نظر ر کھا جا ر ہا ہے۔ جبکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے تین اہم تجاویز رکھی گئی ہیں ، ان تجا و یز کے حوالے سے اہم فیصلے پہلے میچ سے قبل کئے جائیں گے ،تجاویز میں مہمان ٹیم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے قذافی سٹیڈیم میں پہنچایا جائے گا جبکہ ہوٹل سے قذافی سٹیڈیم اور اس سے ملحقہ علاقوں میں موبائل فون سروس بند کر نا اور ڈبل سوری پر پابندی عائد کر نا شامل ہے ۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments