ایجبسٹن میں500 ویں ٹیسٹ کی میزبانی بمعہ کامیابی

Edgbaston Tests Main England Kamyab

پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ ایک دفعہ پھر ناکا م ہوگئی اور برمنگھم ٹیسٹ بھی ہار گیا۔ کپتان مصباح الحق کے مطابق آخری دِن کھانے کے وقفے کے بعد انگلینڈ کے باؤلروں کی ریورس سوئنگ نے حیران کر کے رکھ دیا ۔ پاکستان کے بلے باز ریورس سوئنگ کا مقابلہ نہ کر سکے اور بے بس ہو کر رہ گئے

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر اگست

Edgbaston Tests Main England Kamyab
پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ ایک دفعہ پھر ناکا م ہوگئی اور برمنگھم ٹیسٹ بھی ہار گیا۔ کپتان مصباح الحق کے مطابق آخری دِن کھانے کے وقفے کے بعد انگلینڈ کے باؤلروں کی ریورس سوئنگ نے حیران کر کے رکھ دیا ۔ پاکستان کے بلے باز ریورس سوئنگ کا مقابلہ نہ کر سکے اور بے بس ہو کر رہ گئے۔
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سیریز 2016ء کا تیسرا کرکٹ ٹیسٹ :
3ِ اگست تا7ِ اگست2016 تک برمنگم کے گراؤنڈ ایجبسٹن میں ہونے والے تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میں پاکستان کی طرف سے دو تبدیلیوں کے ساتھ جن 11کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا اُن میں (کپتان) مصباح الحق سمیت محمد حفیظ،سمیع اسلم،اظہر علی،یونس خان،اسد شفیق،سرفراز احمد،سہیل خان،محمد عامر ،یاسر شاہ اور راحت علی ۔


انگلینڈ کی ٹیم میں ایلسٹر کک (کپتان) ، ایلکس ہیلز،جوروٹ،جمیز وینس،گرے بالانس،جونی بیئر سٹو،معین علی،کرس ووکس ویگن،سٹورٹ براڈ، جیمز اینڈریسن اور سٹیفن فِن۔

(جاری ہے)


پاکستان کی طرف سے اوپنر شان مسعود اور فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کی جگہ اوپنر سمیع اسلم اور فاسٹ باؤلر سہیل خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا اور انگلینڈ کے فاسٹ باؤلر بین سٹوکس جن کو دوسرے ٹیسٹ میں انجیری ہو گئی تھی کی جگہ سٹیفن فِن کو شامل کیا گیا جنہوں نے پاکستان کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں حصہ لیا تھا اور گزشتہ سال اس گراؤنڈ میں اَسٹریلیا کے خلاف 8وکٹیں حاصل کر کے میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے تھے۔


موسم کی صورت ِحال کے مطابق پیر و منگل کو بارش کے بعد بھی بُدھ کو پیچ کی صورت ِ حال بیٹنگ کیلئے ساز گار نظر آرہی تھی یعنی رنگت میں مٹی(براؤن)۔ لیکن پاکستانی اُس وقت حیران رہ گئے جب پاکستان کے کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک کو بیٹنگ کی دعوت دے دی۔ کیونکہ مصباح الحق کے مطابق اولڈ ٹریفرڈ میں شکست کی ایک اہم وجہ ٹاس ہار کر باؤلنگ کرناتھا۔


ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈمیں انگلینڈ کے اوپنرز ایلسٹر کک (کپتان) و ایلکس ہیلز نے بیٹنگ کا آغاز کیا ۔ پھر اگلے چند لمحوں میں ہی واضح ہونا شروع ہو گیا کہ کپتان مصباح الحق کا فیصلہ سب کیلئے چاہے حیران کُن تھا لیکن کہیں اُنکو پیچ پر ہلکی نوعیت کا سبز گھاس بھی نظر آگیا تھا جسکی بنا پر اُنھوں نے اپنے باؤلرز پر اعتماد کرتے ہوئے اُن سے بہترین منصوبہ بندی سے باؤلنگ کر وائی ۔


نتیجہ پہلے دِن کے اختتام پر انگلینڈ کی ٹیم کو 297 رنز پر آؤٹ کر دیا۔اگر اُنکی طرف سے گرے بالانس78اور معین علی63رنز نہ بناتے تو پاکستان باؤلر اُنھیں مزید کم کے مجموعی اسکور پر آؤٹ کر سکتے تھے۔لہذا اُنکی بیٹنگ کی وجہ سے انگلینڈ میچ میں فی الوقت واپس آگیا ۔لیکن دوسری طرف اُنکی بیٹنگ کی ناکامی کا باعث پاکستان کا فاسٹ باؤلر سہیل خان بنا جسکو 5سال بعد اس تیسرے ٹیسٹ میں شامل کیا گیا اور اُسکی طوفانی واپسی تباہ کُن باؤلنگ کا باعث بنی ۔

5اہم کھلاڑی اُسکا شکار ہو گئے ۔باقی 5 بلے بازوں میں سے 2کو محمد عامر،2کو راحت علی اورایک کو یاسر شاہ نے آؤٹ کیا۔
دوسرے دِن کھیل کا آغاز پاکستان کی بیٹنگ سے ہوا اور اوپنر محمد حفیظ کے ساتھ اُلٹے ہاتھ سے کھیلنے والے 20سالہ نوجوان سمیع اسلم اوپنگ کیلئے آئے۔تاہم حفیظ پہلے ہی اَوور میں بغیر کو ئی رَن بنائے جیمز اینڈریسن کے ہاتھوں آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

اگلے کھلاڑی تھے اظہر علی جنہوں نے ٹیم میں شامل نئے اوپنر کے ساتھ ٹیم کا مجموعی اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کی تاکہ حفیظ کے آؤٹ ہو جانے کے بعد دباؤ نہ بڑھ جائے۔ اس دوران پہلے اظہر علی کے اپنے اسکور 38 اور پھر 68پر دو دفعہ کیچ بھی ڈراپ ہوئے۔پہلا اینڈریسن کی بال پر سلپ میں روٹ نے بائیں طرف سے کیچ پکڑنے کی کوشش میں گِرا دیا اور دوسرا معین علی نے اپنی گیند پر چھوڑا۔


سمیع اسلم جو دوسری طرف ایک بڑی ٹیم کے خلاف پہلی دفعہ کھیلتے ہوئے انتہائی محتاظ نظر آرہے تھے۔ اپنے اسکور کے ساتھ ٹیم کے بھی مجموعی رنز میں اضافہ کر تے ہوئے اُس وقت رَن آؤٹ ہو گئے جب اظہر علی کی جانب سے رَن بنانے کی کال پر سمیع اسلم نے دوڑ لگائی جو مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو سکی اور قریب کھڑے وینس نے وکٹیں اُڑا دیں۔پاکستان کا اسکور 181رنز تھا جو دونوں کی پارٹنر شپ بھی تھی۔

سمیع اسلم نے 9چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 82رنز ۔اگلے بلے باز یونس خان آئے تو اظہر علی نے دو چانسوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے کیرئیر کی10ویں اور ایشیا سے باہر پہلی سنچری کر ڈالی۔لیکن دِن کے اختتام کی آخری گیند پر اظہر علی 139رنز بنا کر ووکس کا شکار ہو گئے۔
تیسرے دِن پاکستان کی اننگز کا آغاز257زنز 3کھلاڑی آؤٹ سے ہوا اور کپتان مصباح الحق نے ایک دفعہ پھر اسکور آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالی۔

لیکن دوسری طرف سے یونس خان 31اور اسد شفیق کے صفر پر آؤٹ ہو جانے کے بعد اُنھیں بھی 56رنز بنانے کے بعد اینڈریسن نے بولڈ کر دیا۔جسکے بعد ساری ٹیم 400کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئی اور وکٹ کیپر سرفراز46کر کے ناٹ آؤٹ رہے۔ووکس اور براڈ نے 3،3کھلاڑی آؤٹ کیئے اور جیمز اینڈریسن نے 2۔ سمیع اسلم اور یاسر شاہ رَن آؤٹ ہو ئے۔
پاکستان کے پاس 103رنز کی برتری تھی اور اگرباؤلرز دِن کے آخری چند گھنٹوں میں انگلینڈ کی دوسری اننگز میں بلے بازوں کی ابتدائی وکٹیں گرانے میں کامیاب ہو جاتے تو پاکستان کا پہلے دِ ن سے ہی اُن پر جو دباؤ تھا قائم رہتا۔

لیکن ہوم گراؤنڈ کا فائدہ اور کپتان ایلسٹر کک اور ایلکس ہیلز کی محتاط انداز میں نصف سنچریوں نے کھیل کسی حد تک اُنکے حق میں کر دیا اور دِن کے اختتام پر بغیر کسی نقصان کے120رنز بنا لیئے۔ اسطرح اُنھوں نے پاکستان کے 103رنز کی برتری کا دباؤ ختم کر کے17اضافی رنز کے ساتھ میچ میں واپسی حاصل کر لی تھی۔
چوتھے دِن کے آغاز میں پاکستان باؤلرز نے ایک دفعہ پھر زور لگایا تو دونوں اوپنرز جلد ہی آؤٹ ہو گئے ۔

جس پر پاکستان کو کچھ اُمید ہوئی لیکن پھر مزید ِ3وکٹیں ہی حاصل ہو سکیں اور دِ ن کے اختتام پر 5کھلاڑی آؤٹ 414رنز اور 311رنز کی مجموعی برتری کے ساتھ انگلینڈ کے بلے بازوں نے میچ کو اپنی گرفت میں کر کے بر منگھم ٹیسٹ میں پاکستانی فتح نظروں سے اوجھل کر دی۔دلچسپ یہ رہا کہ ایک تو جوروٹ نے بھی 62رنز بنائے اور دوسرا 282رنز پر 5وکٹیں گرنے کے بعد مزید رنز کرنے والے اُنکے وکٹ کیپر جونی بیئر سٹو اور معین علی تھے ۔


پانچویں دِن کے آغاز میں جونی بیئر سٹو تو 83رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے لیکن معین علی 86رنز بنا کر ناٹ آؤٹ واپس گئے کیونکہ کپتان ایلسٹر کک نے 6کھلاڑی آؤٹ 445مجموعی اسکور پر دوسری اننگز ڈِکلئیر کر دی۔ پاکستان کی طرف سے محمد عامر نے2 ، سہیل خان نے2 اور یاسر شاہ نے بھی2کھلاڑی آؤٹ کیئے۔
انگلینڈ نے برتری اُتا ر کر پاکستان کو چوتھی اننگز میں 343رنز کا ٹارگٹ دیا تھااور وہ جانتے تھے کے ہوم گراؤنڈ کا فائدہ اُٹھا کر میچ اپنے نام کر سکتے ہیں ۔

اُنھوں نے ایک دفعہ پھر محمد حفیظ کو آغاز میں ہی آؤٹ کر کے کامیابی حاصل بھی کر لی۔ جسکے بعد صرف اظہر علی نے سمیع اسلم کے ساتھ مل کر اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ لیکن پھر وہ بھی جب 38رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئے تو سوائے سمیع اسلم کے جو ایک دفعہ پھر اُس ہی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں بھی نصف سنچری کرتے ہوئے70رنز بنا کر آؤٹ ہو ئے پاکستان کے بلے بازانگلینڈ کے باؤلرز کے آگے قدم جما نہ سکے اور میچ کے آخری دِن کے اگلے چند گھنٹوں میں 201 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئے۔


آخری کھلاڑیوں سہیل خان جنہوں نے36رنز اور راحت علی نے 15رنز بنائے نے بھی ایک شراکت قائم کرنے کی کوشش کی لیکن فتح کا جھنڈا انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک اور اُسکی ٹیم کے ہاتھ میں تھا۔ یعنی 141رنز سے فتح کا۔اینڈریسن، ووکس،براڈ، فِن اور معین علی سب نے دو2وکٹیں لیں۔مین آف دِی میچ اَل راونڈر پرفارمنس پر معین علی کہالائے جنہوں دونوں اننگز میں نصف سنچریاں بھی کیں اور میچ میں2وکٹیں بھی لیں۔


کپتان ایلسٹر کک نے میچ میں کامیابی کے بعد کہا کہ یہ فتح اُنکی کپتانی میں جیتے ہوئے اہم میچوں میں سے ایک ہے۔کیونکہ میچ میں کم بیک کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔
میچ پاکستان کے ہاتھ سے کیوں نکلا؟
ٹیسٹ کرکٹ کی ترتیب کے مطابق ایک مکمل میچ ہوا یعنی بالترتیب 4اننگز اور معیاد کے مطابق اس سیریز کا پہلا میچ جو 5دِن جاری رہا ۔

نتیجہ بھی انگلینڈ کی کامیابی کی شکل میں سامنے آیا۔پاکستان کی طرف سے ٹا س جیت کر میزبان ملک کو بیٹنگ دینے کا فیصلہ تو وقت نے ٹھیک ثابت کیا اور پہلی اننگز میں103رنز کی برتری بھی کم نہ تھی۔ لیکن دوسری اننگز میں پاکستان ٹیم کے باؤلرز اور بعدازاں آخری دِن چوتھی اننگز میں بیٹنگ کے دوران حکمت ِ عملی کا فقدان نظر آیا۔
اس کے برعکس انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک نے اپنے ہوم گراؤنڈ کا بہترین فائدہ اُٹھاتے ہو ئے دوسری اننگز میں نہ کہ صرف شاندار کم بیک کیا بلکہ وہ پاکستان کی ٹیم کو چوتھی اننگز کی مناسبت سے آؤٹ کرنے کی بھی منصوبہ بندی میں بھرپور نظر آیا۔

یعنی گزشتہ ڈیڑ ھ دِ ن اُنکے بلے بازوں نے جس وکٹ کو بیٹنگ وکٹ ثابت کرنے کی کوشش میں بہترین 445 کا مجموعی اسکور کر ڈالااُس ہی وکٹ کو پاکستان کی بیٹنگ کے خلاف باؤلنگ وکٹ بنا دیا اور پاکستان ٹیم پہلے3دِن کا کھیل اپنے حق میں سمجھنے کے بعد انگلینڈ کی حکمت ِعملی کا مقابلہ نہ کر سکی اور کہیں مایوسی کے سائے میں صرف جیتنے کی خواہش میں میچ برابر کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم نظر آئی۔

انگلینڈ کی طرف سے دوسری اننگز میں 5کھلاڑیوں نے نصف سنچریوں بنائیں اور پاکستان کے 5کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہوسکے۔ ساتھ میں ماضی کے پاکستانی باؤلرز کے ریورس سوئنگ کے فن کا استعمال انگلینڈ کے باؤلرز نے آخری دِن کر کے پاکستانی ٹیم کیلئے ایک نیا باب کھول دیا۔
بہرحال تیسرے ٹیسٹ میں شکست کی وجہ خصوصی طور پر محمد حفیظ کے نام آئی جنہوں نے اس ٹیسٹ تک6اننگز میں 102رنز بنائے ہیں اور کسی حد تک یونس خان جنہوں نے6اننگز میں 122رنز۔

اسد شفیق کا میچ کی دونوں اننگز میں صفر حیران کُن رہا۔ یاسر شاہ نے اس ٹیسٹ کو ملا کر گو کہ 15ٹیسٹ میچوں میں90وکٹیں لیکر ایک نیا ریکارڈ بنا دیا لیکن مجموعی طور پر ناکام باؤلر ہی نظر آئے ۔
بہر حال ایک اُمید سمیع اسلم کی شکل میں نیا اوپنر ملنے کی نظر آئی ۔ ساتھ میں سہیل خان کی فاسٹ باؤلنگ نے اُنکے لیئے ایک دفعہ پھر ٹیم میں شامل ہونے کیلئے راہ ہموار کر دی ہے۔

لیکن اس دوران پہلے ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور شکست کے بعد کپتان مصباح الحق نے ٹیم میں آل راؤنڈر کی کمی کو شدت سے محسوس کیا۔
اظہر علی کی پہلی اننگز میں سنچری کے بعد پُش اَپز لگانا اور اس سے پہلے سہیل خان کا پہلی اننگز میں 5وکٹیں لینے کے بعد پُش اَپز لگانا زیر ِبحث رہا اور ایلسٹرکک کے بعد اس دفعہ اینڈریسن نے بھی اس رویئے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ قوم پُش اَپز کیلئے نہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت کیلئے دُعا گو ہے ۔لہذ اُس پر زور دیں ۔مصباح الحق نے بحیثیت کپتان اپنی ذمہ داری بخوبی نبھانے کی کوشش کی ہے۔لہذا اُمید رکھتے ہیں کہ آخری ٹیسٹ میں سیریز برابر کرنے کی کوشش کریں گے۔
اہم واقعا ت اوریکارڈز:
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم اپنی سر زمین کے گراؤنڈ ایجبسٹن میں تاریخ کے 500ویں کرکٹ ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔

ساتھ میں پاکستانی ٹیم کو شکست دے کر کامیابی بھی حاصل کر لی۔ 1880ء میں پہلے ٹیسٹ کی میزبانی اوول میں اَسٹریلیا کی گئی تھی۔
پاکستان کے لیگ سپنر باؤلر یاسر شاہ نے 15ٹیسٹ میچوں میں 90وکٹیں حاصل کر کے 139سالہ کرکٹ تاریخ میں 120سال پہلے1896ء میں جارج الفرڈ لوہمین کا 15ٹیسٹ میچوں میں 89وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ توڑ دیا۔
پہلی اننگز میں جیمز اینڈریسن کو وکٹ پر آکر باؤلنگ کرنے کی وجہ سے دو وارننگ دی گئیں لیکن تیسری دفعہ ویسا ہی کرنے پر ایمپائر نے پہلی اننگز میں مزید باؤلنگ کرنے سے روک دیا۔


ٹیسٹ کے چوتھے دِ ن ملالہ یوسف زئی نے میچ بھی دیکھا اور کپتان مصباح الحق نے اُنھیں ایک چھوٹے بلے پر اپنے دستخط بھی کر کے دیئے۔
ایجبسٹن کے اس تیسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد ماضی میں بھی دیکھا جائے تواس گراؤنڈ میں پاکستان کا ریکارڈ انتہائی محسوس کن رہا ہے۔ اس گراؤنڈ میں پاکستان کا زیادہ سے زیادہ اسکور608اورکم سے کم 72ہے۔ لہذا اس ٹیسٹ کو ملا کر پاکستان کے خلاف 8ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ نے 5میں کامیابی حاصل کی ہے اور 3برابر رہے ہیں۔ چار ٹیسٹ کی اس سیریز میں انگلینڈ کو2۔1 سے ۔برتری حاصل ہو گئی ہے۔ آخری ٹیسٹ کا انتظار رہے گا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments