انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ سیریز جیت لی

Eng Vs Wi

3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز انگلینڈ نے 2۔1 سے جیت کر " وز ڈن ٹرافی" حاصل کر لی اور 40 پوائنٹس ملے، سیریز میں انگلینڈ نے 80 پوائنٹس اورویسٹ انڈیز نے40 پوائنٹس حاصل کیے

Arif Jameel عارف‌جمیل جمعرات جولائی

Eng Vs Wi
انگلینڈ کے مایہ ناز 34 سالہ فاسٹ باؤلر اسٹورٹ براڈ نے تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز کے اوپنر بلے باز کریگ بریتھویٹ کو آؤٹ کرکے اپنے114ویں ٹیسٹ میچ میں 500وکٹیں مکمل کر لیں۔دِلچسپ یہ رہا کہ اسی ٹیسٹ میں کھیلنے والے اُنکے ساتھی38سالہ فاسٹ باؤلر جیمز اینڈرسن نے جب 3سال پہلے لارڈز میں اپنی 500 وکٹیں مکمل کی تھیں تو اُس وقت بھی ویسٹ انڈیز کے یہی اوپنر کریگ بریتھویٹ اُنکا 500واں شکار ہوئے تھے۔

اسٹورٹ براڈ دُنیا کے 7ویں باؤلرہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں500وکٹیں مکمل کیں،چوتھے فاسٹ باؤلر اور دوسر ے انگلینڈ کے باؤلرجن کو یہ اعزا ز حاصل ہوا۔دوسرا اعزاز انگلینڈ کو حاصل ہو اکہ اُنکے دونوں فاسٹ باؤلر جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ نے 2008 ء سے اکٹھے ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے اس ٹیسٹ میچ کے آخر تک کُل 895 وکٹیں لیں۔

(جاری ہے)

جن میں سے جیمز اینڈرسن کی 473اور اسٹورٹ براڈ کی 422 وکٹیں ہیں۔

مختصر تجزیہ: # ریز دِی بیٹ ٹیسٹ سیریز انگلینڈ بمقابلہ ویسٹ انڈیز جولائی2020 ء میں کھیلی گئی ۔3ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز نے جیت کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس دفعہ وہ انگلینڈ کا مقابلہ کرنے آئی ہے لیکن جیسے ہی دوسرے ٹیسٹ میچ میں کپتان جوروٹ کی واپسی ہو ئی اور ٹیم میں فاسٹ اسٹورٹ براڈ کو شامل کیا گیا تو سیریز کا نہ ہی صرف پانسہ پلٹا بلکہ ویسٹ انڈیز کی انتہائی مایوس کُن کارکردگی دیکھنے کو ملی۔

پہلے ٹیسٹ میچ میں کارکردگی دکھانے والے ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہو لڈر اور فاسٹ باؤلر شنین گیبرئیل جیسے اگلے 2ٹیسٹ میچوں میں سو ہی گئے۔ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے تو کوشش ہی نہیں کی کہ ایک بہترین اننگز کھیل کر میچ کو دِلچسپ ہی بنا دیا جائے۔انگلینڈ کی وکٹیں اور وہاں کا موسم ہمیشہ سے مہمان ٹیموں کیلئے مشکلات پیدا کرتا ہے اور اُوپر سے اسٹیڈیم میں دیکھنے والے اُنکے تماشائی۔

لیکن اس دفعہ تماشائی تو ہے ہی نہیں تھے ۔پھر گھبراہٹ کی بات کیوں؟ دوسری طرف انگلینڈ کے آل راؤنڈر بین اسٹوکس کی شاندار کارکردگی ، انگلینڈ کی باؤلنگ لائن اور جوروٹ کی کپتانی میں ٹیم موریل نے سیریز کا فیصلہ اُنکے حق میں کر دیا۔ فاسٹ باؤلر اسٹورٹ براڈ نے جب پہلے ٹیسٹ میچ میں شامل نہ کرنے پر آواز اُٹھائی تو اُنکے فوراً اگلے ٹیسٹ میچ میں موقع فراہم کر دیا جسکے بعد وہ باقی2 ٹیسٹ میچوں میں نہ کہ صرف 16 وکٹیں لینے میں کامیاب ہو گئے۔

بلکہ اُنھوں نے اپنی500ٹیسٹ وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔ انگلینڈ کے فاسٹ باؤلر جیمز اینڈرسن جیسے تجربہ کار اگر پہلے ٹیسٹ میچ میں وکٹیں لینے میں کامیاب ہو جاتے تو وہ ٹیسٹ میچ بھی انگلینڈ کے حق میں ہوتا۔ لہذا کہہ سکتے ہیں ایک عرصہ بعد انگلینڈ کی ٹیم ایک مکمل ٹیم بن کر اُبھرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اگلی ٹیسٹ سیریز 5ِاگست2020ء سے انگلینڈ کے ہوم گراؤنڈ پر انگلینڈ بمقابلہ پاکستان شروع ہو رہی ہے۔

جس میں پاکستان کو ویسٹ انڈیز کی کمزوریوں پر نظر رکھتے ہو ئے میدان میں اُترنا پڑے گا۔ دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ کی اہم خبریں: ﴾ کوروناوباء کی احتیاطی تدابیر کے باوجود اگر پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹاس کے بعددونوں کپتان ہاتھ ملانے کی غلطی کرنے لگے تھے تو دوسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے کھلاڑی ڈوم سیبلی نے فیلڈنگ کے دوران غلطی سے گیند کو تھوک لگا دیا جس پر فوراً امپائرز نے توجہ لیتے ہوئے گیند کو کپڑے سے پکڑ کر جراثیم کُش دوائی سے صاف کیا۔

﴾ اس سے پہلے انگلینڈ کے باؤلر جوفرا آرچر جب پہلاٹیسٹ میچ کھیل کر ٹیم کے ساتھ ساؤتھمپٹن سے مانچسٹر آرہے تھے تو وہ بائیو سیکیورٹی پروٹوکول توڑ کر راستے میں اپنے گھر چلے گئے ۔کرکٹ انتظامیہ نے اس خلاف ورزی پر پہلے اُنھیں دوسرے ٹیسٹ میچ سے باہر کر دیا اور ساتھ میں5 دِن کیلئے آئسو لیشن میں رہنے کا حُکم دیا ۔پھر15 ہزار پاؤنڈ جرمانہ کر کے تیسرے ٹیسٹ میچ میں کھیلنے کی اجازت دی۔

جوفرا آرچر کا انتظامی سطح پر تو مسئلہ حل ہو گیا لیکن اُنکوزیادہ افسوس سوشل میڈیا پر انتہائی درجے کی اُس تنقید پر ہوا جس میں نسل پرستی سے متعلقہ نامناسب الفاظ کی بھرمار تھی۔ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے بھی اُنکے خلاف اس رویئے پر احتجاج کیا۔ ﴾ کوررنا وباء کے بعد سب سے پہلی ٹیسٹ سنچری ڈوم سیبلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں بنا ئی۔

﴾ دوسرے ٹیسٹ میچ میں بین اسٹوکس کی شاندار کارکردگی ۔پہلی اننگز میں سنچری دوسری اننگز میں انگلینڈ کی طرف سے36 گیندوں پر تیز ترین نصف سنچری اور میچ میں 3وکٹوں نے اُنھیں انگلینڈ کے آل راؤنڈر فلنٹوف اور آئن بوتھم کی صف میں لا کھڑا کر دیا ہے۔ ﴾ انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے بین اسٹوکس کی آل راؤنڈ کی سطح پر بہترین کا رکردگی پر اُنھیں " مسٹر انکریڈیبل"کا خطاب دیا۔

﴾ تیسرے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز کے باؤلر کیما روچ نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 200وکٹیں مکمل کیں۔ ﴾ اسٹورٹ براڈ تیسرے ٹیسٹ میچ میں اپنی ٹیسٹ کیرئیر کی500وکٹیں مکمل کر کے انگلینڈ کے دوسرے باؤلر بن گئے ۔اُن سے پہلے یہ اعزاز اُنکے ساتھی باؤلرجیمز اینڈرسن حاصل کر چکے ہیں جنکی اس وقت 589وکٹیں ہیں اوراُنکو مزید11وکٹیں چاہیئں 600 کرنے کیلئے۔ ﴾ 1888ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اپنی ہوم گراؤنڈ پر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے پہلا ٹیسٹ میچ ہار کر ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔

﴾ دوسرے ٹیسٹ میچ میں تیسرے دِن کا کھیل اور تیسرے ٹیسٹ میچ میں چوتھے دِن کا کھیل بارش کی وجہ سے نہ ہو سکا۔ دوسرا و تیسرا ٹیسٹ میچ: انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا و تیسرا ا ٹیسٹ میچ امارات اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ ،مانچسٹرمیں کھیلا گیا ۔2013 ء سے امارات کی ائیر لائن کے ساتھ کفالت کے بعد یہ گراؤنڈ امارات اولڈ ٹریفورڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

دوسرا ٹیسٹ میچ 16 ِجولائی2020ء کو شروع ہوا۔ ا نگلینڈ کی ٹیم کے کپتان جوروٹ جو بچے کی پیدائش کی وجہ سے پہلے ٹیسٹ میچ میں حصہ نہیں لے سکے تھے اور اُنکی جگہ بین اسٹوکس نے یہ ذمہداری نبھائی تھی دوسرے ٹیسٹ میں واپس آگئے اورپہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کو مد ِنظر رکھتے ہوئے انگلینڈ نے اپنی ٹیم میں 4تبدیلیا ں کیں۔ بلے بازجو ڈینلی،اور باؤلرز جوفرا آرچر،مارک وُڈ اور جیمز اینڈریسن کی جگہ کپتان جو روٹ ،آل راؤنڈرز کر س ووکز ، سیم کرن اور فاسٹ باؤلرز اسٹورٹ براڈ کو شامل کیا۔

اس کے برعکس ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے پہلے ٹیسٹ میچ والی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ تیسرا ٹیسٹ میچ 24 ِجولائی 2020 ء کو کھیلا گیا ۔ دوسرا ٹیسٹ میچ جیت کر سیریز برابر کرنے کے باوجود انگلینڈ کی طرف سے ایک دفعہ پھر ٹیم میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ بلے باز زیک کراولے اور آل راؤنڈ ر سیم کرن کی جگہ دو فاسٹ باؤلرز جیمز اینڈرسن اور جوفرا آرچر کوشامل کیا گیا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی میڈیم فاسٹ باؤلرالزاری جوزف کی جگہ آل راؤنڈرہکم کورنوال کو موقع فراہم کیا گیا۔ دوسرا ٹیسٹ میچ: پہلے دِن بارش کی وجہ کچھ دیر بعد شروع ہوا۔ دونوں ٹیموں کے کپتان ٹاس کیلئے گراؤنڈ میں آئے۔موسم اور وکٹ دونوں باؤلنگ کیلئے سازگار نظر آئی تو ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے ٹاس جیت کر بلے بازی کی دعوت انگلینڈ کے کپتان جو روٹ کو دی۔

پہلی کامیابی تو ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کواُس وقت حاصل ہو گئی جب انگلینڈ کی29 کے اسکور پر یکے بعد دیگرے 2وکٹیں گر گئیں اور پھر81 کے مجموعی اسکور پر کپتان جو روٹ بھی23 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے ۔ اوپنر ڈوم سیبلی جو بہت احتیاط سے کھیل رہے تھے اُنکے ساتھ آکر ملے آل راؤنڈر بین اسٹوکس اور پھر دونوں نے ذمہدارانہ بلے بازی کرتے ہوئے پہلے دن کے ختم ہو نے تک 3وکٹوں پر ہی مجموعی اسکور 207بنا ڈالا۔

ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر شنین گیبرئیل معمولی انجری کے باعث گراؤنڈ سے باہر چلے گئے تھے۔ اگلے روز دونوں بلے بازوں نے ویسٹ انڈیز کا زور توڑ دیا اور ڈوم سبیلی اپنے8ویں ٹیسٹ میچ میں دوسری سنچری بنا کر 120کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوگئے ۔ بین اسٹوکس نے بھی ایک دفعہ پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہو ئے176 رنز بنائے۔وہ وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو ئے۔

اُس وقت انگلینڈ کا مجموعی اسکور395تھا جسکے بعد 9کھلاڑی آؤٹ پر جب 469 رنز ہو گئے تو کپتان جو روٹ نے پہلی اننگز ڈکلیئر کر دی۔ویسٹ انڈیز کی طرف سے آل راؤنڈر روسٹن چیز نے5کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ دِن کے اختتام سے چند منٹ پہلے ویسٹ اندیز نے اپنی پہلی اننگز کا آغا زکیا اور32 رنز پر ۱یک وکٹ گنوا ڈالی۔اوپنر جون کیمپل 12رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔تیسرا دِن بارش کی نذر ہو گیا لہذا اب دودِن باقی تھے اور ٹیسٹ میچ کی تین اننگز ۔

انگلینڈ کے کپتان جوروٹ ویسٹ انڈیز کو فالو آن کروانے کے خواہش مند تھے۔ لہذا باؤلنگ لائن کو ایسا اعلیٰ انداز میں استعمال کیا کہ تمام باؤلرز نے وکٹ ضرور حاصل کی سوائے بذات ِخود کپتان جو روٹ کے لیکن ویسٹ انڈیز کو فالو آن کرنے میں ناکام رہے ۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے آل آؤٹ پر 287رنز بنا ئے اور اُنکی طرف سے اوپنر کریگ بریتھویٹ 75رنز بنا کر نمایاں رہے۔

انگلینڈ کی طرف سے پہلے اننگز میں اسٹورٹ براڈ اور کرس ووکز نے 3،3 کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ انگلینڈکے پاس پہلے اننگز میں 182رنز کی برتری تھی لہذاکپتان جوروٹ کہ پاس وقت کم تھا اور جیت کا جوش زیادہ۔لہذا اُنھوں نے اوپنگ جوڑی ہی بدل ڈالی اور یہ ذمہداری سونپی بین اسٹوکس اور وکٹ کیپر جوس بٹلر کو۔دِن کا اختتام ہو نے والا تھا لہذا ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر کیمار روچ نے وکٹ کی حالت اور ہوا کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے جوس بٹلر کو صفر اور زک کرولے کو11رنز پر آؤٹ کر دیا ۔

اگلی صبح32 اسکور 2 کھلاڑی آؤٹ پر آخری دن کا کھیل شروع ہوا اور بین اسٹوکس اور کپتان جو روٹ نے تیز کھیلنا شروع کیا تاکہ جلد ازجلد اسکور میں اضافہ کر کے ویسٹ انڈیز کو بیٹنگ کروائی جائے۔اس کوشش میں کپتان جو روٹ 22 رنز بنا کررَن آؤٹ ہو گئے لیکن بین اسٹوکس نے پہلے36گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور پھر جب انگلینڈ کا 3کھلاڑی آؤٹ پر مجموعی اسکور 129 ہوا تو کپتان جو روٹ نے اننگز ڈکلیئر کر دی۔

بین اسٹوکس نے 78رنز بنائے اور اُنکے ساتھ اولے پوپ12 رنز بنائے اور دونوں ناٹ آؤٹ پویلین واپس آئے ۔ ویسٹ انڈیز کیلئے جیت کا ہدف تھا312 رنز۔انگلینڈ نے باؤلنگ شروع کی اور لنچ سے پہلے ہی25رنز پرویسٹ انڈیز کے3 کھلاڑی پویلین بھیج دیئے اور ٹیسٹ میچ کے آخری دِن کے اختتام سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے باقی 7 کھلاڑی بھی 198 کے مجموعی اسکور پر ڈھیر ہو گئے ۔

انگلینڈ کے اسٹورٹ براڈ نے3 ،ووکز ،بیس ،اسٹوکس نے2،2 اور کیرن نے ایک وکٹ حاصل کی۔ویسٹ انڈیز کی طرف سے شامار بروکس اور جرمین بلیک وُڈ نے مزاحمت کی لیکن وہ بھی بالترتیب62اور55کے اسکور پر آؤٹ ہوگئے۔7 کھلاڑی دوہرے ہندسے میں ہی نہ داخل ہو سکے۔ جو روٹ کی مدابرانہ قیادت ،بین اسٹوکس کی شاندار آل راؤنڈ پرفارمنس اور ٹیم ورک سے انگلینڈ نے دوسرا ٹیسٹ میچ 113 رنز سے جیت کر 3 ٹیسٹ میچوں کی سیر یز 1۔

1سے بر ابر کر لی تھی۔مین آف دِمیچ قرار پائے:بین اسٹوکس ٹیسٹ میچ میں 254 رنز اور 3وکٹیں لینے پر۔ انگلینڈکو جیت پر40 پوائنٹس ملے۔ تیسرا ٹیسٹ میچ: بہت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ سیریز 1۔1 برابر تھی اور انگلینڈ کو اپنی ہوم گراؤنڈ کا فائدہ تھا ۔لہذا جیسے ہی ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کر نے کا فیصلہ کیا اُسی وقت پیشن گوئی سامنے آگئی کہ انگلینڈ کا میچ جیتنے کا چانس55فیصد ،برابر ہونے کا 35فیصد اور ویسٹ انڈیز کے جیتنے کا صرف 8فیصد ہے۔

پھر کچھ ایسا ہی ہوا ۔انگلینڈ کے پہلے4اہم بلے باز 122کے مجموعی اسکور پرآؤٹ ہو گئے ۔ کپتان جو روٹ گزشتہ ٹیسٹ کی دوسری اننگز کی طرح اس ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی رَن آؤٹ ہو گئے اور بین اسٹوکس کو 20 کے انفرادی اسکور پر کیمار روچ نے کلین بولڈ کر دیا۔ اس دوران اوپنررورے برنز نے احتیاط سے کھیلتے ہو ئے اپنی نصف سنچری مکمل کی اور57 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

وکٹ ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کے حق میں تھی اور ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ دُرست لگ رہا تھا کہ پہلے اولے پوپ نے91 اور وکٹ کیپر جوس بٹلر نے 67 رنز بنا کر اُنکو گھبراہٹ میں ڈال دیا اور پھر فاسٹ باؤلر اسٹورٹ براڈ نے اُنکے باؤلرز کی پٹائی کرتے ہوئے تیز ترین62 رنز بنا ڈالے۔ بہر حال ویسٹ انڈیز کے باؤلرز نے اپنی کوشش جاری رکھی اور انگلینڈ کی آل ٹیم کو 369 رنز پر آؤٹ کر دی۔

32 سالہ کیمار روچ نے 4 کھلاڑی آؤٹ کیئے اور ساتھ میں اپنے59 کرکٹ ٹیسٹ میچ میں اپنی200وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔ ویسٹ انڈیز کے اگر دو یا تین بلے باز ذمہداری سے کھیلنے کی کوشش کرتے تو اتنا اسکور ضرور کر لیتے کہ میچ مقابلے کا ہوجاتا ۔لیکن اُنکی باڈی لینگویج میں ایک عجیب سا خوف نظر آرہا تھا جیسے باؤلرز کی سمجھ آرہی ہے اور نہ ہی وکٹ پر گیند کی باؤنس کی۔

اس کا فائدہ اُٹھایا انگلینڈ کے باؤلر اسٹورٹ براڈ نے اور اُنکے 6بلے باز وں کو ڈھیر کر دیا بلکہ ویسٹ انڈیز کی آل ٹیم ہی197کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئی۔بلکہ بڑی مشکل سے فالو آن سے بچے جس میں اہم کردار تھا اُنکے کپتان جیسن ہولڈر کا جو سب سے زیادہ 46 رنز بنا کر آؤٹ ہو ئے۔ انگلینڈ کو پہلی اننگز میں 172 رنز کی برتری حاصل ہو گئی اور ابھی ٹیسٹ میچ کے تیسرے دِ ن کا پہلا ہی سیشن چل رہا تھا۔

کپتان جو روٹ کے پاس وقت بھی تھا اور ایک بڑا ہدف دینے کا موقع بھی۔لہذا اُنکی ہدایت کے مطابق اوپنرز نے ہی پہلی شراکت داری میں114 رنز بنا ڈالے جب ڈوم سیبلی 56 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔پھر رورے برنز نے90 کی اننگز کھیل کر نروس90s میں آؤٹ ہو گئے۔پہلی اننگز میں انگلینڈ کے اولے پوپ بھی نروس90s کا شکار ہوئے تھے۔جب مجموعی اسکور226 پر پہنچا تو ابھی دِن کے ختم ہو نے میں چند منٹ باقی تھے کہ کپتان جوروٹ نے اُس لمحے 2کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کرکے سب کو حیران کر دیا ۔

حالانکہ وہ خود بھی68 رنز بنا کر کھیل رہے تھے۔ ویسٹ انڈیز کیلئے جیت کا ہدف تھا 399 رنز اور تیسرے دِن کے اختتام پر اُنکے 10 اسکور پر 2 کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔چوتھا پورا دِن بارش ہو تی رہی لہذا 5ویں دِن 129 کے مجموعی اسکور پر ویسٹ انڈیز کی ساری ٹیم ہی ڈھیر ہو گئی اور انگلینڈ نے 269 رنز سے تیسرا ٹیسٹ میچ بھی جیت لیا۔ حالانکہ اُس دِن بھی وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی اور میچ کو درمیان میں روکنا پڑا ۔

لیکن جب کھیل دوبارہ شروع ہوتا تو انگلینڈ کے آل راؤنڈر کر س ووکس اُنکے بلے بازوں کو اپنی نپی تُلی باؤلنگ سے آؤٹ کر دیتے۔اُنھوں نے 5 کھلاڑی آؤٹ کیئے اور اسٹورٹ براڈ نے پہلے تو اوپنر کریگ بریتھویٹ کو آؤٹ کر کے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 500وکٹیں مکمل کیں اور اس اننگز میں 4 کھلاڑی آؤٹ کر کے ٹیسٹ میچ میں تیسری دفعہ 10 وکٹیں بھی حاصل کر لیں۔ اُنھوں نے پہلی اننگز میں62 رنز بھی بنائے تھے لہذا مین آف دِی میچ :اسٹورٹ براڈ ہو ئے اور میں آف دِی سیریز :انگلینڈ کے اسٹورٹ براڈ اور ویسٹ انڈیز کے روسٹن چیز ہو ئے۔

تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز انگلینڈ نے 2۔1 سے جیت کر " ویز ڈن ٹرافی" حاصل کر لی اور 40 پوائنٹس ملے۔لہذا سیریز میں انگلینڈ نے کُل80 پوائنٹس اورویسٹ انڈیز نے40 پوائنٹس حاصل کیئے۔ "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments