انگلینڈ کی جوروٹ الیون نے ٹیسٹ سیریز میں پروٹیز کا میدان مار لیا

Eng Won 3-1

آئی سی سی ورلڈ چیمپئن شپ میں پوائنٹس ٹیبل پر انگلینڈ 9 میچ کھیل کر 146پوائنٹس کیساتھ تیسرے ،جنوبی افریقہ 24پوائنٹس کیساتھ7ویں نمبر پر براجمان

Arif Jameel عارف‌جمیل منگل جنوری

Eng Won 3-1
پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن: آئی سی سی ورلڈ چیمپئین شپ میں جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے درمیان اس کرکٹ ٹیسٹ سیریز کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر انگلینڈ 9 میچ کھیل کر 146پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے اورجنوبی افریقہ 24پوائنٹس کے ساتھ7ویں نمبر پر۔ حالانکہ اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ جیت کر اسکو30 پوائنٹس ملے تھے لیکن آخری ٹیسٹ میں باؤلنگ ریٹ آہستہ ہو نے پر وقت کے مطابق 3 اوورز کم پھینکے گئے جسکی وجہ سے6 پوائنٹس جرمانے میں کاٹ لیئے گئے۔

اب تک دونوں ممالک چیمپئین شپ میں دو دو سیریز کھیل چکے ہیں۔ فاف ڈو پلیسی: جنوبی افریقہ بمقابلہ انگلینڈ کے بارے میں جیسا لکھا تھا کہ پہلے دونوں ٹیسٹ میچوں میں کھیل اور نتائج کے بعد سب سے زیادہ حرف ِتنقید بن رہے تھے جنوبی افریقہ کے35 سالہ کپتان فاف ڈو پلیسی ۔

(جاری ہے)

جنہیں آخری ٹیسٹ سنچری بنائے ہو ئے ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو چکاتھا اور کپتانی پر ایک الگ سوال تھاکہ کیا وہ اگلے2ٹیسٹ میچ جیت کر یا سیریز جیت کر دے سکیں گے ؟ سیریز کے آخر میں جواب آیا نہیں دے سکے ۔

لیکن دوسری طرف انگلینڈ کی جو روٹ الیون نے پروٹیز کی ہوم گراؤنڈ پر1913 ء کے بعد تاریخ لکھ دی۔ آخری ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم اپنے کپتان ڈوپلیسی کی قیادت میں مہمان ٹیم انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز بچانے کیلئے پُر امید نظر آرہی تھی ۔اگر جنوبی افریقہ جیت جاتا تو ٹیسٹ سیریز برابر ہو جاتی ورنہ دونوں صورتوں میں سیریز ا انگلینڈ کے حق میں جانی تھی اور پھر لاٹری انگلینڈ کی نکلی۔

مختصر تجزیہ: آخری ٹیسٹ میچ 24ِجنوری2020 ء کو جو جنوبی افریقہ کے صوبہ گاؤٹینگ،شہر ہانسبرگ کے دِی ونڈررز اسٹیڈیم میں کھیلا گیا اور حیران کُن رہا کہ اس ٹیسٹ میں بھی انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے مسلسل چوتھی دفعہ ٹاس جیت لیا اور سوائے پہلے ٹیسٹ میچ میں جس میں انگلینڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا باقی تینوں میچوں میں پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی اور تینوں میچوں میں کامیابی حاصل کر کے سیریز 3 ۔

1 سے جیت کر ثابت کر دیا کہ ایک اچھی ٹیم کہیں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہے اور خصوصاًٹیم موریل کے ساتھ۔جسکی بھرپور کارکردگی تیسرے ٹیسٹ میں بھی نظر آئی جسکی کڑی آخری ٹیسٹ بھی بن گئی۔ حالانکہ پہلے دو ٹیسٹ میچوں کے بعد سیریز1۔1سے برابر تھی اور جنوبی افریقہ کو اپنے ہوم گراؤنڈ اور شائقین کا فائدہ ہو سکتا تھا ۔ واہ! انگلینڈ کے آل راؤنڈ بین اسٹوکس جنہوں نے کہا تھا جنوبی افریقہ میں سیریز جیتنے کیلئے ایک ٹہم ورک کی ضرورت ہو گی اور پھر اُنکے کپتان جوروٹ نے اپنے آل راؤنڈ ر کے جملے کو اپنی قیادت میں ٹیم پر ایسا چسپاں کیا کہ میزبان دیکھتے رہ گئے اور اسطرح ان دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی باسل ڈی اولیویرا ٹرافی کا 2019-20 ء کا 7 واں ایڈیشن انگلینڈ اُنکے ملک سے لے اُڑا ۔

جنوبی افریقہ کے کرکٹ بوڑد کیلء یہ لمحہ فکریہ ہو گا کہ وہ جنوبی افریقہ کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم جو 2008ء اور2012ء میں انگلینڈ میں کھیلتے ہوئے یہ ٹرافی جیت چکی ہے اُسکی کارکردگی کے معیار کے کھلاڑی کہاں سے لائیں؟کیونکہ جنوبی افریقہ اب تک2ہی دفعہ ٹرافی جیت سکا ہے اور وہ بھی انگلینڈ میں۔جبکہ انگلینڈ یہ ٹرافی اب تک4دفعہ جیت چکا ہے جن میں سے 3دفعہ جنوبی افریقہ کے ہوم گراؤنڈ پر جیتا۔

تیسرے و چوتھے ٹیسٹ کی چند اہم خبریں: ﴾ پروٹیز کے دیس میں 1913 ء کے بعد مسلسل 3ٹیسٹ میچ جیتنے والی انگلینڈ کی یہ ٹیم "روٹ الیون" بن گئی۔ ﴾ تیسرے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے فاسٹ باؤلر ڈین پٹرسن نے ڈبیو کیا۔ ﴾ تیسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے بلے باز اولے پوپ نے اپنی ٹیسٹ کیرئیر کی پہلی سنچری بنائی۔ ﴾ چوتھے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے ڈبیو کرنے والے بائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ باؤلر بیورین ہینڈرکس رہے۔

﴾ میں آف دی سیریز آل راؤنڈ کارکردگی پر انگلینڈ کے بین اسٹوکس ہوئے ۔ساتھ میں چوتھے میچ کی پہلی اننگز میں آؤٹ ہونے کے بعدایک شائق سے اُلجھنے پر اُنھیں میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ بھی کیا گیا۔ ﴾ جنوبی افریقہ کے فاسٹ باؤلر ویرون فیلنڈرر نے انگلینڈ کے وکٹ کیپر جوش بٹلر کو آؤٹ کر کے سخت الفاظ کہے اور اس اُنکو بھی میچ فیس کا15فیصد جرمانہ کر دیا گیا۔

اس سے پہلے اس ہی سیریز میں انگلینڈ کے بٹلر اور رابادا بھی گرما گرمی کی وجہ سے اپنے اوپر جرمانے عائد کروا چکے تھے۔ ﴾ جنوبی افریقہ کے فاسٹ باؤلر ویرون فیلنڈر نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا۔ لیکن اُنکو افسوس رہا کہ اُنکی آخری سیریز کا نتیجہ ناکامی کی صور ت میں رہا۔ ﴾ جنوبی افریقہ کے کپتان ڈوپلیسی کی کارکردگی پر تنقید کہیں اُنکی ریٹائر منٹ کا بھی باعث نہ بن جائے۔

ایک خبر۔ آخری 2ٹیسٹ میچ: آخری 2ٹیسٹ میچوں میں کس دن کہاں کیا صورت ِحال رہی اور کس کھلاڑی نے اپنی ٹیم کیلئے جان لڑائی اور کارکردگی میں بازی کون لے گیا؟ تیسراٹیسٹ میچ : جنوبی افریقہ کے صوبہ مشرقی کیپ کے الگووا خلیج پر واقع شہر پورٹ الزبتھ کے سینٹ جارج پارک کرکٹ گراؤنڈ میں16 ِجنوری 2020 ء کو کھیلا گیا ۔ٹاس انگلینڈ نے جیت کو بیٹنگ کی اور پھر جنوبی افریقہ کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کو اُنکے ہوم گراؤنڈ پر نڈھا ل کر دیا۔

جنوبی افریقہ کے باؤلرز نے پہلے تو کچھ کامیابی حاصل کرلی اور انگلینڈ کے پہلے چار کھلاڑسی 148 رنز پر آوٴٹ کر کے میچ پر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی ۔لیکن اس کے بعد بین اسٹوکس کے ساتھ جب اولے پوپ نے آہستہ آہستہ اسکور میں اضافہ کرنا شروع کیا تو وہ ایک بہترین شراکت کی شکل اختیار کر گئی اور5ویں وکٹ351کے مجموعی اسکور پر بین اسٹوکس کی گری جنہوں نے اپنی ذمہداری پوری کرتے120 رنز بنائے ۔

اولو پوپ جو بنیادی طور پر وکٹ کیپر ہیں اور اپنے6ویں ٹیسٹ میچ کی9ویں اننگز کھیل رہے تھے ۔اُنھوں نے بھی نئے آنے والے بلے بازوں کے تعاون سے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری بنا ڈالی اور جب وہ چائے کے وقفے کے بعد 135 کے انفرادی اسکور پر کھیل رہے تھے تو انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے 9 کھلاڑی آؤٹ499 رنز پر اننگز ڈکلیئر کر دی۔ ٹیسٹ میچ کا دوسرا روز تھا اور دن کے آغاز سے ہی میچ کے دوران وقفے وقفے سے بارش ہو رہی تھی جسکی وجہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی کو دُشواری بھی ہورہی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ وکٹ کی صورت ِحال جنوبی افریقہ کیلئے کچھ اچھی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔

کیونکہ جنوبی افریقہ کی طرف سے سپین باؤلر کیشیو مہاراج نے جو 5وکٹیں حاصل کیں اُن میں سے4 دوسرے دن تھیں۔پھر وہی ہوا کہ انگلینڈ کی طرف سے اپنا چوتھا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے سپین باؤلر ڈوم بیس نے دن کے اختتام پر جنوبی افریقہ کے2کھلاڑی آؤٹ کر دیئے اور اگلے دن مزید 3کھلاڑی ۔تیسرے روز بھی بارش کی رم جھم ہوتی رہی ۔ اس دوران جنوبی افریقہ 6کھلاڑی آؤٹ پر208 رنز بنا سکا اور چوتھا روز جنوبی افریقہ کیلئے اچھا ثابت نہ ہوا کیونکہ اس ہی اسکور پر جنوبی افریقہ کی مزید3وکٹیں گر گئیں جسکے بعد انگلینڈ نے اُنکی آل ٹیم 209 رنز پر آؤٹ کر کے اُنھیں فالو آن کر دیا۔

جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر ڈی کوک نے صر ف کوشش کی کہ ٹیم مشکل سے نکل سکے لیکن پہلے 6ناکام رہے اور پھر آخری 4۔وہ خود63رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور انگلینڈ کے ڈوم بیس نے 5 اور اسٹورٹ براڈ نے 3 وکٹیں لیں۔ جنوبی افریقہ کے فالو آن شکار بلے باز ایک اور کوشش کرنے آئے لیکن اس دفعہ وہ انگلینڈ کے کپتان جوروٹ کا شکار ہو گئے جنہوں نے وکٹ کی حالت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے 4کھلاڑی آؤٹ کر دیئے اور اُنکا ساتھ دیا فاسٹ باؤلر مارک وُڈ نے3 کھلاڑی آؤٹ کر کے۔

جنوبی افریقہ کے بلے باز دوسری اننگز میں بھی وکٹ پر قدم نہ جما سکے اور74 رنز پر آدھی ٹیم پویلین لوٹ گئی۔ اور237رنز پر آل ٹیم آؤٹ ہو گئی۔اس اننگز میں نمایاں رہے کیشیو مہاراج۔وہ 71 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اوراُنکا ساتھ دیا اپنا ڈبیو ٹیسٹ میچ کھیلنے والے فاسٹ باؤلر ڈین پیٹرسن نے ناقابل شکست 39 ر نز بنا کر۔دونوں کے درمیان آخری وکٹ پر99رنز کی شراکت ہوئی ۔

ایک مدت بعد کپتان فاف پلیسی نے30کا ہندسہ عبور کرتے ہوئے36رنز کیئے لیکن اُنکی ٹیم ایک اننگز اور53 رنز سے شکست کھا گئی۔مین آف دی میچ ہوئے انگلینڈ کے بلے باز اولے پوپ۔ تیسرے ٹیسٹ کا مختصر تجزیہ: انگلینڈ کیلئے یہ واقعی بڑی کامیابی تھی کہ دوسرے ملک کی ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسرا ٹیسٹ جیت کر4ٹیسٹ میچوں کی سیریز فی الوقت 2۔1 سے اپنے حق میں کر لی تھی۔

جن بین اسٹوکس کا کردار سب سے اہم رہا۔ دوسرے ٹیسٹ میں اُنکے ساتھ دو نئے کھلاڑی اولے پوپ اور سپن باؤلر ڈوم بیس جنکے متعلق میچ سے پہلے ہی خبر آگئی تھی کہ وہ اس ٹیم کا حصہ نہیں تھے تجربہ کار باؤلر جیک لیچ فٹ نہیں تھے لہذاڈوم بیس کو کیپ ٹاؤن میں بُلا کر ٹیم میں شامل کیا گیا۔دوسرا اس ٹیسٹ میں فاسٹ باؤلر جیمز اینڈرسن بھی فٹنس مسائل کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے۔

لیکن پھر بھی انگلینڈ نے ایک ٹیم ورک دکھایا اور کامیابی حاصل کر لی۔ جنوبی افریقہ کا آئی سی سی ورلڈ چیمپئین شپ کا یہ 6 واں میچ تھا اور اب تک اُسکے30پوائنٹ ہیں۔ چوتھا ٹیسٹ میچ: انگلینڈ کی ٹیم نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے پہلے دن4 کھلاڑی آؤٹ پر 192رنز بنائے جسکی وجہ بارش کی وجہ سے میچ کھانے کے وقفے کے بعد شروع ہوا تھا۔دوسرے روز انگلینڈ چائے کے وقفے سے کچھ دیر پہلے انگلینڈ کی آل ٹیم400رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

دونوں دن گراؤنڈ اور وکٹ بارش کی وجہ سے متاثر ہوئی لہذا اوپنر زیک کرولے نے66،کپتان جوروٹ نے59 اور اولے پوپ نے 56 رنز بنائے ۔جنوبی افریقہ کی طرف سے فاسٹ باؤلر اینرچ نورٹیج 5 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن اس ٹیسٹ میچ میں بھی ایک مرتبہ پھر پھسل گئی اور دوسرے دن کے چائے کے وقفے اور دن کے اختتام کے دوران 88رنز پر 6وکٹیں کھو بیٹھی۔

انگلینڈ کے باؤلرز کو اگلے دن بھی کوئی مشکل پیش نہ آئی اور 183 رنز پر جنوبی افریقہ کی ٹیم ڈھیر کر دی۔اس ٹیسٹ میچ کی بھی پہلی اننگز میں وکٹ کیپر ڈی کوک ایک دفعہ پھر ذمہداری سے بیٹنگ کرتے ہوئے76 رنز کی انفرادی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے اور اس دوران اپنے ساتھی بلے بازوں کو حیرانگی سے آؤٹ ہو تے دیکھتے رہے۔ انگلینڈ کے نوجوان باؤلر مارک وُڈ نے46 رنز دیکر اُنکے 5 کھلاڑی آؤٹ کیئے۔

موسم اور وکٹ کی صورت ِحال دیکھتے ہوئے انگلینڈ نے فالو آن کرنے کی بجائے بیٹنگ کی اور دوسری اننگز میں تیسرے دن کے اختتام سے چند منٹ پہلے 248رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔صرف کپتان جو روٹ نصف سنچری بنا نے میں کامیاب ہوئے اور اس دفعہ جنوبی افریقہ کی طرف سے ٹیسٹ ڈبیو کرنے والے بائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ باؤلر بیورین ہینڈرکس نے64رنز کے عوض 5کھلاڑی آؤٹ کر دیئے۔

انگلینڈ کی پہلی اننگز کی برتری 217 رنز اور دوسری اننگز کا اسکور 248 رنز مجموعی اسکور بنا 465 رنز۔ جنوبی افریقہ المعروف پروٹیز کو سیریز بچانے کے لیے 466 رنز کا مشکل ہدف ملا اور اُس دن گراؤند میں گرمی کی بھی بہت شدید تھی جس میں دونوں ٹیموں نے جیت کا میدان لگانا تھا ۔ لیکن دوسری اننگزمیں وین ڈرڈوسن کی 98رنز کی شاندار اننگز کے باوجود جنوبی افریقہ کی ٹیم نے مایوس کُن کارکردگی دکھائی اور 274 رنز بنا کر ٹیسٹ کے چوتھے دن کے آخری منٹوں میں پویلن لوٹ گئی۔

کوئی بھی پروٹیز بلے باز اُن کا ساتھ نہ دے سکا ۔ کپتان ڈو پلیسی اور کچھ دیر کیلئے ایک دفعہ پھر وکٹ کیپر ڈی کوک نے کوشش کی لیکن دونوں بالترتیب 35اور39رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔کپتان ڈوپلیسی بین اسٹوکس کی گیند پر بلے اور پیڈ لگنے کے بیٹن پیڈ بولڈ ہو گئے۔ جب تک وہ وین ڈوڈوسن کے ساتھ وکٹ پر موجود رہے اور2کھلاڑی آؤٹ پر 181کا مجموعی اسکور ہو گیا تو چند لمحے اُمید کے سائے نظر آئے۔

اُنکے آؤٹ ہو تے ہی وین ڈوڈوسن بھی نروس90 کا شکار ہو کر باؤلر مارک وُڈ کی ایک گیند کو میڈ آف کی طرف ہٹ ماری جہاں کھڑے ہوئے فیلڈر براڈ نے اُنکاآسان کیچ پکڑلیا۔ انگلینڈ نے میچ میں191 رنز سے فتح کی بدولت سیریز بھی جیت لی ۔ دوسرے اننگز میں انگلینڈ کے باؤلر مارک وُد نے 4 وکٹوں سمیت میچ میں 9 وکٹیں حاصل کیں اور اس معرکے پر اُنھیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ بہترین آل راوٴنڈر کی حیثیت میں کھیل پیش کرنے پر بین اسٹروک کو اس سیریز کا بہترین کھلاڑی چنا گیا ۔ "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments