یوروفٹبال کپ2008کا میلہ عروج پر،اپ سیٹ کا تسلسل جاری

Euro 2008 Meela Urooj Per

برطانوی ٹیم ایونٹ کیلئے کوالیفائی نہ کرسکی ،پرتگال اورجرمنی فیورٹ میزبان سوئٹزر لینڈ کو ترکی کے ہاتھوں حیران کن شکست ،شائقین دھاڑیں مار مار کرروتے رہے

جمعہ 13 جون 2008

اعجاز وسیم باکھری : فٹبال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اوریہ واحد کھیل ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا اور کھیلا جاتا ہے ۔یوروکپ 2008ء کا آغاز ہوچکا ہے اور دنیا بھرمیں ایونٹ کا جادوسرچڑھ کر بول رہے ہیں ۔یورپ سمیت پوری دنیا کے شائقین اپنی روز مرہ کی مصروفیات کے شیڈول کو تبدیل کرکے ایونٹ کے سنسنی خیز مقابلوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ٹورنامنٹ کے آغازہی سے سنسنی خیزاور اعصاب شکن مقابلہ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور ہرروز بہت بڑے اپ سیٹ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

یورو کپ فٹبال ورلڈکپ کے بعد دوسرا بڑا ایونٹ ہے اور یورو کپ میں بھی شائقین کا جوش وخروش اور مقابلوں میں نظر آنے والی سنسنی خیزی دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی براعظم کی ٹیموں کے مابین ہونیوالا ٹورنامنٹ ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے فٹبال کا عالمی دنگل ہورہا ہے۔

(جاری ہے)

7جون سے آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہونیوالے 13ویں یورو کپ میں یورپ کی 16فٹبال طاقتیں حصہ لے رہی ہیں جس میں پہلی بار برطانوی ٹیم ایونٹ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکی۔

16ٹیموں کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں گروپ اے میں چیک ریپبلک ،پرتگال ،سوئٹرزلینڈ اورترکی کی ٹیمیں شامل ہیں ۔گروپ بی میں آسٹریا ، کروشیا،جرمنی اور پولینڈ ہیں جبکہ گروپ سی فرانس،ہالینڈ ،رومانیہ اور ورلڈچیمپئن اٹلی کی ٹیموں پر مشتمل ہے اور گروپ ڈی میں یونان ،روس ، سپین اور سوئیڈن کی ٹیمیں شامل ہیں۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے فاتح عالم اٹلی کے مقابلے میں جرمن اور پرتگالی ٹیم زیادہ مضبوط دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ اٹالین ٹیم کوآج بھی عالمی چیمپئن بننے کے بعد فٹبال کی سپر پاور ٹیم کہنا احمقانہ بات تصور کی جاتی ہے کیونکہ اٹلی کے ٹیم آج بھی یورپ کی ایوریج ٹیم کہلوائی جاتی ہے جس کے ثبوت کے طور پر ورلڈچیمپئن اٹلی کی ٹیم کوہالینڈ کے ہاتھوں یورو کپ کے پہلے میچ میں تین صفر کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کھانی پڑی جس سے ٹیم کی پاور کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

جبکہ ٹورنامنٹ کیلئے کوالیفائی نہ کرنے والی انگلش ٹیم ،فرانس ،جرمنی اور پرتگال کو یورپ کی مضبوط ٹیموں کی لسٹ میں سرفہرست رکھا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اٹالین ٹیم نے 2006ء کے ورلڈکپ کے فائنل میں فرانس کو شکست دیکر ماہرین کے تمام دعوئے غلط ثابت کردئیے تھے۔یوروکپ کیلئے جرمن ٹیم کی قیادت ایک بار پھر تجربہ کار مڈفیلڈر مائیکل بالاک کو سونپی گئی ہے اس سے قبل 2006ء کے ورلڈکپ میں بھی بالاک ٹیم کے کپتان تھے اور ہوم گراؤنڈزکا ایڈوانٹیج ہونے کے باوجود بالاک کی ٹیم سیمی فائنل سے آگے نہ بڑھ سکی۔

1999ء کے اوائل میں اپنا کیرئیر شروع ہونے والے مائیکل بالاک اب تک 80میچز میں 35گول سکور کرکے جرمنی کے ٹاپ گول سکورر میں شمار کیے جاتے ہیں۔ایونٹ کی دوسری فیورٹ ترین ٹیم فرانس کی ہے جس کی قیادت زین الدین زیدان کے قریبی دوست پیٹرک ویرا کے پاس ہے۔پیٹرک ویرا فرانسیسی ٹیم میں سب سے سینئر ترین رکن ہیں وہ 1998ء میں ورلڈکپ جیتنے والی فرنچ ٹیم میں شامل تھے اور 2002ء کے ورلڈکپ میں وہ فرانسیسی ٹیم کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔

پیٹرک ویرا نے سنٹر مڈفیلڈر کی پوزیشن پر کھیلتے ہوئے اب تک فرانس کی جانب سے105انٹرنیشنل میچز میں حصہ لیا ہے جہاں وہ 6گول سکور کرنے میں بھی کامیاب رہے اس کے علاوہ فرنچ ٹیم میں تھری آنری جیسے کہنہ مشق سٹرائیکر بھی شامل ہیں جو کسی بھی لمحے میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یورو کپ 2008ء میں پرتگالی ٹیم بھی ایک مضبوط ترین سائیڈ بن کر ابھری ہے اور اپنے دونوں میچز جیت کر کوارٹرفائنل کیلئے جگہ پکی کرلی ہے ۔

پرتگال کے پاس کرسٹیانو رونالڈو اور ڈیکو جیسے سٹار کھلاڑی ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی ٹیم حیران کن فتوحات دلائیں اور اس بار بھی رونالڈواپنا خوب رنگ دکھا رہے ہیں۔دوسری جانب ایونٹ کی شریک میزبان ٹیم سوئٹزرلینڈ اپنے ابتدائی دونوں میچز ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوچکی ہے ،ترکی کے خلاف میچ کے آخری میں منٹ میں شکست کھانے پر بازل سٹیڈیم شائقین کی آہوں اور سسکیوں سے گونج اٹھا اور تقربیاً پورا سوئٹزرلینڈ اپنی ٹیم کی شکست پر سکتے میں آگیا ۔

ٹورنامنٹ کے دلچسپ مقابلے جاری ہیں اور مزید اپ سیٹ متوقع ہیں ۔اب تک کھیلے گئے 12یورو کپ میں جرمنی نے تین بار ٹائٹل جیتا جبکہ فرانس نے دومرتبہ اورروس،چیک رپبلک ،اٹلی ، سپین ،ڈنمارک اور یونان نے ایک ایک بار یورو کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments