ورلڈ کپ کی بال…

Foot Ball World Cup Ki Ball

فٹبال ورلڈ کپ کا آفیشل گانا مشہور زمانہ خاتون گلوکارہ شکیرا نے گایا ہے وہاں بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ اس ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی آفیشل میچ بال بھی ایک ڈچ خاتون نے ڈیزائن کی ہے

ہفتہ جولائی

Foot Ball World Cup Ki Ball
سیف اللہ سیفی: فٹ بال ورلڈ کپ ۲۰۱۰ءء چار ہفتوں کی رونقوں کے بعد بالآخر گیارہ جولائی کو اسپین کی جیت پرمنتج ہوا۔کتنی دلچسپ بات ہے کہ جہاں پوری دنیا کویہ تو پتہ ہے کہ فٹبال ورلڈ کپ کا آفیشل گانا مشہور زمانہ خاتون گلوکارہ شکیرا نے گایا ہے وہاں بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ اس ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی آفیشل میچ بال بھی ایک ڈچ خاتون نے ڈیزائن کی ہے۔

”یانیکا فَن اَوراِسخوت“ (Janneke van Oorschot)نامی خاتون، کھیلوں کا سامان بنانے والی ایک مشہور عالمی کمپنی میں سینئر فُٹبا ل ڈیزائنر کے طور پر کام کرتی ہیں اور عالمی سطح پر انہیں ا علیٰ سطح کے کھیلوں کی بہترین ڈیزائنر کے نام سے جانا جاتا ہے۔یانیکا نے اس سے قبل اسی سال جرمنی کے کلب بائرن میونچن(بائرن میونخ) اور اٹلی کے انٹر نازیونالے میلانو (انٹر میلان) کے مابین ہونے والے یورپین چمپئنز لیگ کے فائنل کی گیند بھی ڈیزائن کی تھی۔

(جاری ہے)

یانیکا نے ہالینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے انڈسٹریل ڈیزائن انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا ہے۔انہیں اپنی مادری زبان ڈچ کے علاوہ جرمن،فرنچ اور انگریزی پر بھی عبور حاصل ہے۔ یانیکا کے مطابق عالمی فٹبال کپ کی بال ڈیزائن کرنا یقینا ایک اعزاز کی بات ہے جسے چار ہفتے پوری دنیا میں اربوں افراد نے براہ راست ٹی وی اسکرین پر فلیش ہوتے دیکھا۔

یانیکا کا کہنا تھا کہ ”اس خصوصی گیند کا ابتدائی خاکہ دو ہزار سات میں تیار کیا گیا اور اس کی پرو ڈکشن ٹیم نے متعدد بار ساوٴتھ افریقہ کا دورہ کیاتاکہ وہاں کے مقامی ماحول سے متعلق معلومات جمع کی جاسکیں۔فٹبال میں جتنے بھی رنگ موجود ہیں ان کا ساوٴتھ افریقہ سے خصوصی تعلق ہے۔اس میں موجود ہر انفرادی رنگ یا خاکہ افریقی ملک کے تخلیقی و روحانی تاثر کو اجاگر کرتا ہے۔

مثال کے طور پر گیند کا بنیادی سفید رنگ اور اس کے ساتھ پیلے رنگ کا استعمال سورج اور ساوٴتھ افریقہ کی چمک دمک کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔سنہرا رنگ نہ صرف گولڈن ٹرافی جسے حاصل کرنے کا خواب ہر ٹیم دیکھتی ہے بلکہ ساوٴتھ افریقہ کی سونے کی کان کی شہرت کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ڈیزائنگ کے عمل کے دوران گیارہ کے ہندسے کو بھی خاص اہمیت حاصل تھی، اس میں موجود گیارہ رنگ یہ بتانے کے لئے ہیں کے ہر ٹیم میں گیارہ کھلاڑی کھیلتے ہیں،ساوٴتھ افریقہ میں بولی جانے والی گیارہ زبانیں اور بالخصوص اس بال کو تیار کرنے والی کمپنی کو۱۹۷۰ءء سے لے کر اب تک گیارہویں بار فٹبال ورلڈ کپ کی گیند تیار کرنے کا عزاز بھی حاصل ہوا ہے“۔

ڈیزائنریانیکا کی نظر میں یہ بال ساری کی ساری خوشی اور تفریح سے متعلق ہے۔اس کانام جابولانی (Jabulani)ساوٴتھ افریقہ کی مشہور زبان زُولو سے لیا گیا ہے جسے اُردُو میں شادمانی، خوشی یا دھوم دھام اور انگریزی میں Celebration کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ خوشی اور تفریح سب ساوٴتھ افریقہ کی ثقافت کا خاصہ ہے۔”جابولانی“ ورلڈ کپ کے میچز کے دوران استعمال ہونے والی اسٹینڈرڈ بال ہے جبکہ اسی کی ایک خاص سفید اور سنہری” گولڈن بال“ گیارہ جولائی کے فائنل میں حصہ لینے والی ٹیموں کے لئے مخصوص تھی جسے” سٹی آف گولڈ“ جوہانسبرگ کی مناسبت سے ڈیزائن کیا گیا تھا اور اس کا نام”جوبولانی“ (Jobulani) تھا۔

جہاں کثیر تعداد میں اس گیند کی تعریف کی گئی ہے وہاں بعض کھلاڑیوں نے اس کی ساخت پر تنقید بھی کی ہے کہ یہ ہوا کے زور سے کچھ زیادہ ہی تیزی سے جھکتی ہوئی کسی بھی مخصوص سمت کی طرف چلی جاتی ہے۔مس یانیکا نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ورلڈ کپ کے شروع میں گیند پر اسی طرح کے اعتراضات کئے جاتے ہیں اور پھر کچھ دنوں کے بعد ہر کوئی اس موضوع کو بھول جاتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ” جابولانی“ کو وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزار کر بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ” ہم نے اسے کھلاڑیوں اور پروفیشنل ٹیموں کے ذریعے ٹیسٹ کیا ہے،ہم نے اسے ہوائی ٹنل میں ٹیسٹ کیا ہے اور اس کے اتنے زیادہ ٹیسٹ ہوئے ہیں کہ آپ اسے بلاشبہ، اس وقت مارکیٹ میں موجود سب سے بہترین فٹ بال کہہ سکتے ہیں۔اور آخر میں اسے ٹیموں نے کھیلنا ہے لہٰذا یہ کھیل سے متعلق ہے نا کہ بال سے۔کچھ ماہرین کا اس سلسلے میں یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ ساوٴتھ افریقہ میں زیادہ تر میچ اونچائی پر کھیلے گئے اس لئے ممکن ہے کہ گیند کی پرفارمنس ذرا مختلف ہوئی ہو اور کھلاڑی اس کے عادی نہ ہوں۔

آخر میں قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ بھی بتاتے چلیں کے۱۹۸۲ءء سے قائم فیفاکی روایات کے مطابق ورلڈ کپ کی گولڈن بال یورو گوائے کے ڈئیگو فورلان کو ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کے طور پر ملی جبکہ شارٹ لسٹ میں اسپین کے تین کھلاڑی جن میں آندرس اینی یستا،ڈیوڈ وِیا اور ژاوی، ہالینڈ کے دو کھلاڑی ویسلے اِسنائیدر اور آرین روبن،جرمنی کے مسعود اَوزِل اور باسٹےئن شوائین استائیخر، ارجنٹائن کے لیوئنل میسی اور گھانا کے آسا موواگیان بھی شامل تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کوچ ڈیل بوسکی کے مطابق ویسے تو ان کی ٹیم کے بھی کافی کھلاڑی گولڈن بال کے مستحق تھے لیکن اگر مجھے کہا جاتا تو میں یہ گولڈن بال ارجنٹائن کے لیوئنل میسی کو دیتا کیونکہ فورلان سے زیادہ میسی ہی اس گیند کے صحیح حقدار تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میسی نے ہر میچ میں اپنی مخالف ٹیموں کے خلاف خود یا اپنے ساتھیوں کے لئے تقریباً بیس کے قریب گول کرنے کے مواقع پیدا کئے۔

سب سے پہلے ۱۹۸۲ءء میں اٹلی کے پاوٴلو روسی،۱۹۸۶ءء میں ارجنٹائن کے ڈئیگو میراڈونا،۱۹۹۰ءء میں اٹلی کے سلوا تورے شیلاسی،۱۹۹۴ءء میں برازیل کے روماریو،۱۹۹۸ءء میں برازیل کے رونالڈو،۲۰۰۲ءء میں جرمنی کے گول کیپر اولیور کاہان اور۲۰۰۶ءء میں فرانس کے زین الدین زیدان یہ اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔ ورلڈ کپ ۲۰۱۰ئئکے بہترین نوجوان کھلاڑی اور گولڈن بُوٹ(سنہری جوتے) کے اعزازات جرمنی کے مِڈ فیلڈر تھومس مُولر کے حصے میں آئے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments