فٹبال ورلڈ کپ: فاتح عالم کون ،فیصلہ آج ہوگا

Football World Cup Fateh Alaam Kon Faisla Aaj Ho Ga

یوروچیمپئن سپین عالمی چیمپئن بننے کیلئے بے تاب، ہالینڈ آکٹوپس کی پیشگوئی کو غلط ثابت کرنے کیلئے پرعزم طوطے ، زرافے اوراونٹ نے ہالینڈ کو فاتح قراردیدیا ،جرمنی کی تیسری پوزیشن میں کامیابی

اتوار جولائی

Football World Cup  Fateh Alaam Kon Faisla Aaj Ho Ga
اعجازوسیم باکھری: فٹبال کا نیا عالمی چیمپئن کون ہوگا اس کا فیصلہ آج جوہانسبرگ کے ساکرسٹی سٹیڈیم میں ہوگا جہاں سپین اور ہالینڈ کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ دونوں ٹیموں میں سے جوبھی فائنل جیتے گی وہ پہلی بار عالمی چیمپئن کا تاج پہنے گی۔ سپینش ٹیم تاریخ میں پہلی بار فائنل میں پہنچی ہے جبکہ ہالینڈ دوبارہ فائنل کھیل چکا ہے لیکن فیصلہ کن معرکے میں دونوں بار ڈچ ٹیم پٹ گئی۔

دونوں ٹیمیں بہت زیادہ محنت کرکے فائنل تک پہنچی ہیں اور دونوں ٹیموں نے ہارٹ فیورٹ ٹیموں کو ناک آؤٹ کرکے یہاں تک رسائی حاصل کی۔ ڈچ ٹیم نے برازیل جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دی تو سپین نے ہارٹ فیورٹ جرمنی کو مات دی اور سپین کو ماہرین کی جانب سے فیورٹ قرار دیا جارہا ہے لیکن ڈچ ٹیم جس کے کریڈٹ پر برازیل کو ورلڈکپ سے آؤٹ کرنا ہے سخت حریف ثابت ہوگی اور سپین کیلئے یہ ورلڈکپ جیتنا آسان نہیں ہے ۔

(جاری ہے)

رواں ورلڈکپ میں ہربار فیورٹ ٹیم کو شکست ہوئی اور فائنل سے قبل پوری دنیا میں سپین کو چیمپئن سمجھا جارہا ہے اور انسانوں اور جانوروں کی پیشگوئیاں بھی سپین کے حق میں جارہی ہیں لیکن گراؤنڈ میں وہی ٹیم فاتح ہوگی جو شاندار کھیل پیش کریگی۔ادھر دوسری جانب جرمنی نے یوروگوئے کو سخت مقابلے کے بعد تیسری پوزیشن میں شکست دیکر جرمن قوم کے غم کو کسی حد تک غلط ضرور کیا ہوگا مگردوسری جانب یوروگوئے کے عوام اور ٹیم اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور چوتھی پوزیشن میں شکست کھانے کے باوجود یوروگوئے کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی اور قسمت نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

موجودہ ورلڈکپ میں ٹیموں کی کارکردگی تو شاندار رہی ہی ہے ساتھ ساتھ نجومیوں کی بھی چاندی لگی رہی اور سب سے زیادہ شہرت جرمن آکٹوپس کے حصے میں آئی جس نے سپین کی جرمنی کے خلاف کامیابی کی پیشگوئی کی تھی جو کہ سچ ثابت ہوئی اور اب ایک بار پھر فائنل کیلئے آکٹوپس نے سپین کو چیمپئن قرار دیا ہے۔ایک طرف کو آکٹوپس نے دنیا کو آگے لگایا ہوا ہے تو دوسری جانب جانوروں کی پیش گوئیوں میں اختلاف بھی پیدا ہوگیا ہے۔

جرمن آکٹوپس کے بعد بھارتی چڑیا نے بھی سپین کے نام قرعہ فال نکالا ہے ۔ مگر سنگاپوری طوطے اور ڈچ زرافے ، لیمور اور اونٹ نے ہالینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔بھارت کے شہر الہ آباد میں شمع نامی چڑیا منی رام کی ملکیت ہے ۔ شمع نے بھی فائنل میں سپین کی جیت کی فال نکالی اور ایک بار نہیں بلکہ دو مرتبہ نکالی گئی قرعہ ہسپانوی ٹیم کے نام رہی۔ شمع نے سیکڑوں لفافوں کی موجودگی میں یہ پیش گوئی کی۔

مگر سنگاپور کے علاقے لِٹل انڈیا میں طوطے ’ مانی‘ کے سامنے جب ورلڈ کپ فائنل کی ٹیموں کے جھنڈوں پر مشتمل دو کارڈز رکھے گئے تو اس نے نیدرلینڈز کو منتخب کیا۔ مانی کی اس سے پہلے سیمی فائنل میں جرمنی کی اسپین کے ہاتھوں شکست کی پیش گوئی بھی درست ثابت ہوچکی ہے ۔اْدھر ہالینڈ کے جانور بھی پیش گوئیوں کے میدان میں کود پڑے ہیں۔ ایمسٹرڈیم چڑیا گھر کے ان مکینوں نے سپین کی شکست کو نوشتہ دیوار قرار دیا ہے ۔

ورلڈکپ کے فائنل کی اگر تاریخ پر نظردوڑائی جائے تو اب تک صرف دو بار 1930اور 1950میں ایسا ہوا کہ فائنل میں کوئی یورپی ٹیم نہیں تھی جبکہ یہ آٹھواں موقع ہے کہ فائنل دونوں یورپی ممالک کے درمیان کھیلا جائے گا۔ 1930 ء کے پہلے ورلڈکپ میں یورو گوئے نے ارجنٹائن دو کے مقابلے میں چارگول سے شکست دے کرکامیابی حاصل کی تھی ۔ چار برس بعد چیکوسلوواکیہ کو اٹلی نے ایکسٹرا ٹائم میں 2-1 سے ہرایا۔

1938 کا فائنل اٹلی نے ہنگری کو 4-2 سے ہرا کر جیتا، 1950 میں چوتھا ورلڈ کپ یوروگوئے نے برازیل کو 2 کے مقابلے میں ایک گول سے ہرا کر اپنے نام کیا، 54 میں مغربی جرمنی ہنگری کو تین ، دو سے ہرا کر عالمی چیمپئن بنا جبکہ 1958 میں سوئیڈن میں کھیلا گیا فیصلہ کن میچ برازیل نے سوئیڈن کو 5-2 کے بھاری مارجن سے زیر کرکے اپنے نام کیا۔ 1962 میں برازیلین ٹیم چیکوسلوواکیہ کو 2-1 سے ہرا کر اعزاز کا دفاع کرنے میں کامیاب رہی۔

1966 کے فائنل میں انگلینڈ نے جرمنی کو ایکسٹرا ٹائم میں 4-2 سے شکست دے کر ٹائٹل جیتا ۔ 1970 میں برازیل نے اٹلی کو 4-1 جبکہ 74 میں جرمن ٹیم نے ہالینڈ کو دو مقابلے میں ایک گول سے زیر کیا۔ 1978 میں ہالینڈ کی ٹیم پھر فائنل میں ارجنٹائن سے تین ایک سے ناکامی سے دوچار ہوئی ۔ 82 میں اٹلی نے جرمنی کو 3-1 سے ہرا کر تیسری بار ٹورنامنٹ جیتا ۔ 1986 کے فائنل میں ارجنٹائن کے سامنے جرمنی کو 3-2 سے ہتھیار ڈالنے پڑے ، البتہ1990 میں اس نے ارجنٹائن کو 1-0 سے ہرا کر بدلہ لے لیا،اگلا میگا ایونٹ برازیل نے پینلٹی ککس پر اٹلی کو پچھاڑ کر جیتا۔

1998 کا ٹورنامنٹ زیڈان کے نام رہا، ان کی کاوشوں سے فرانس نے فائنل میں برازیل کو 3-0 کی شرمناک شکست سے دوچار کردیا۔ 2002 میں برازیل پھر جرمنی سے مقابلے میں سرخر رو ہوا جبکہ 2006 میں اٹلی نے فرانس کو ڈھیر کرکے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔اس بار ہالینڈ اور سپین کا مقابلہ ہے جو بھی ٹیم عالمی چیمپئنز کی فہرست میں شامل ہوگی اُسے ٹرافی کے حصول کیلئے سخت محنت کرنا ہوگی ۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments