فٹبال ورلڈکپ ، ہارٹ فیورٹ ٹاپ چھ ٹیموں کی قوت پر ایک نظر

Football Worldcup 2010 Hot Fav 6 Teams

رونالڈینیوکے بغیر برازیل کاکا، روبینو،فابیانواورعلانو کی موجودگی میں ٹائٹل جیتنے کیلئے پرعزم انگلش ٹیم بیکھم اور جرمنی مائیکل بالاک کی عدم موجودگی میں بھی عمدہ کارکردگی کا خواہاں

جمعرات 10 جون 2010

اعجازوسیم باکھری: فٹبال کے کھیل کی یہ خوبی ہے کہ یہاں ہراُس کھلاڑی کو موقع دیا جاتا ہے جوڈومیسٹک سطح پر عمدہ کھیل پیش کرے یہاں کرکٹ کی طرح معمولی کارکردگی کے کھلاڑیوں کو موقع دینا فاش غلطی کے زمرے میں آتا ہے ۔گزشتہ ورلڈکپ کی چاروں سیمی فائنلسٹ ٹیمیں جن میں فاتح عالم اٹلی ، رنراپ فرانس ، اٹلی اور پرتگال سمیت سیمی فائنل میں فرانس کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست کھانے والی پانچ بار کی ورلڈچیمپئن برازیل اور سب سے بڑے فٹبال سٹراکچر کی مالک برطانوی ٹیم ورلڈکپ میں بھر پورتیاری کے ساتھ شرکت کررہی ہے اور ماہرین ان میں سے کسی ایک ٹیم کو فیورٹ قرار دینے سے گریز کررہے ہیں کیونکہ تمام ٹیموں کی قوت یکساں ہے۔

ورلڈکپ میں اگر ٹاپ چھ ٹیموں کی قوت پر نظردوڑائی جائے تو انگلش ٹیم ایونٹ میں زیادہ تر انحصاراپنے سینئر کھلاڑیوں پر کرے گی۔

(جاری ہے)

جن میں کپتان سٹیون جیراڈ 80میچ 16گول ، فرینک لمپارڈ78میچ 20گول ،، وائن رونی 60میچ 25گول، پیٹر کورچ 38میچ 21گول، ایملی ہوسکی 58میچ 7گول اور جوئے کول 54میچز میں 10گول شامل ہیں۔ برازیلین ٹیم میں بھی کافی دم خم اور سپارک نظر آرہا ہے جس کا عملی مظاہرہ چند ماہ قبل کنفیڈریشن کپ میں بھی نظر آیا جہاں برازیل نے ناقابل شکست رہتے ہوئے لگاتار دوسری مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

موجودہ ورلڈکپ میں برازیل جن کھلاڑیوں پر انحصار کریگا ان میں کاکا 77میچز 26گول ،فابیانو37میچز 25گول ، روبینو74 میچز 21 گول، علانو 7 گول 42میچز، بیٹسٹا 46میچز 5گول اور نیلمرجوکہ 16میچزمیں 8گول کرچکے ہیں اپنی ٹیم کو عالمی چیمپئن بنوانے کی بھر پورصلاحیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ ورلڈکپ کی فاتح ٹیم اٹلی کی قوت پراگر نظردوڑائی جائے تو لوکا ٹونی کی عدم شمولیت سے دفاعی چیمپئن ٹیم کو مسائل ہوسکتے ہیں لیکن البراٹو جوکہ41میچزمیں 16گول کرچکے ہیں اپنی ٹیم کیلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

گزشتہ ورلڈکپ کی رنراپ ٹیم فرانس کیلئے موجودہ ورلڈکپ انتہائی مشکل ٹورنامنٹ کے طور پر دیکھا جارہے کیونکہ ٹیم میں اس وقت نمایاں سینئر سٹرائیکر محض تھری ہنری ہی ہے کیونکہ زیدان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سمیر ناصری اور پیٹرک ویرا جیسے کھلاڑی بھی اپنی فارم برقرار نہیں رکھ سکے جس کی وجہ سے ان سمیت چند اور سینئرکھلاڑیوں کوورلڈکپ سے ڈراپ کردیا گیا ۔

تھری ہنری اب تک 121میچز میں 51گول کرچکے ہیں جبکہ دوسرا بڑا سٹرائیکر نیکلوس اینکلا ہے جو67میچز میں 14گول کرنے کا اعزاز رکھتا ہے جبکہ دیگر سٹرائیکر میں سڈنی گووو10اور ڈجیبرل 9گول کرچکے ہیں ۔ مڈفیلڈرز میں فرینک ربری جو کہ اپنے ملک کیلئے اب تک 7کرچکے ہیں اس بارفرنچ ٹیم کیلئے کافی اہم کھلاڑی قرار دئیے جارہے ہیں ، گزشتہ ہفتے ربری چیمپئنزلیگ کے فائنل میں پابندی کی وجہ سے اپنے کلب بائرن میونخ کی نمائندگی سے محرم رہے تھے جس کا خمیازیہ بائرن میونخ کو انٹرمیلان کے ہاتھوں شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا ۔

ربری کا شمار فٹبال کے تیزترین میڈفیلڈرز میں ہوتا ہے اور توقع ہے کہ وہ شائقین کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔گزشتہ ورلڈکپ کی تیسری سیمی فائنلسٹ ٹیم پرتگال سب سے زیادہ انحصار سٹار فٹبالر کپتان کرسٹیانو رونالڈو پر کریگی۔ رونالڈو اب تک 71میچز میں 22گول کرچکے ہیں لیکن گزشتہ چھ میچز میں وہ اپنی ٹیم کیلئے ایک گول بھی نہیں کرسکے لیکن ریال میڈرڈ کی جانب سے ان کی شاندار کارکردگی کو مدنظررکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ رونالڈو اس وقت اپنی فارم کے عروج پر ہیں اور وہ ورلڈکپ میں اپنے پورے جوبن پر نظرآئیں گے۔

ورلڈکپ میں رونالڈوکا ساتھ دینے کیلئے 18گول کرنے والے سیماؤجوکہ ٹیم کے دوسرے کپتان بھی ہیں جبکہ ان کے ساتھ ساتھ پانچ پانچ گول کرنے والے ڈیگو اور نانی کے ہمراہ ہوگو المیدا اور لیڈسن سے بھی بہت توقعات وابستہ ہیں۔تجربہ کار فارورڈگومیز جوکہ اپنے ملک کیلئے 29گول کرچکے ہیں اورسات گول کرنے والے مناکی ورلڈکپ سکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے، اب دیکھنا ہوگا کہ نئے کھلاڑی کیا نتائج دیتے ہیں۔

پرتگال ٹیم کی سب سے بڑی قوت ان کے گول کیپر ریکارڈو ہیں جنہیں اولیور کاہن کے بعد فٹبال کی دنیا میں دوسرا بڑا اور حریف ٹیموں کی کوششیں ناکام بنانے والے گول کیپر کہا جاتا ہے ، موجودہ ورلڈکپ بھی ریکارڈو کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔ گزشتہ ورلڈکپ کی چوتھی سیمی فائنلسٹ جرمن ٹیم موجودہ ایونٹ میں اپنے سینئرکھلاڑیوں کی انجری کی وجہ سے نوجوان کھلاڑیوں پر انحصار کررہی ہے۔

ٹیم کے کپتان شہرہ آفاق فٹبالر مائیکل بالاک زخمی ہونے کی وجہ سے آخری ٹائم پر ٹیم سے باہر ہوگئے جبکہ ان کے ہمراہ تھامس اور رابرٹ ٹیم بھی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس وقت ٹیم کی تمام ترذمہ داری فارورڈ میں لوکس پوڈوسکی جو کہ 73 میچز میں38گول کرچکے ہیں پر عائد ہے جبکہ ان کے ہمراہ کلوسے 96میچز میں 48گول داغ چکے ہیں وہ بھی اپنی ٹیم کیلئے اہم ہتھیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

12گول کرنے والے ماریو اورصرف دو میچز کا تجربہ رکھنے والے تھامس ملر بھی بہترین سٹرائیکرز کے طورپر ٹیم کا حصہ ہیں۔موجودہ ورلڈکپ کی سپرفیورٹ ٹیم ارجٹنائن کی قوت پر اگر نظردوڑائی جائے تو سٹار سٹرائیکر لیوئنل میسی سب سے نمایاں نظرآتے ہیں۔ میسی اب تک 44میچز میں 13گول کرچکے ہیں ، گوکہ ان کے گولوں کی تعداد کم ہے لیکن انتہائی کم عرصے میں جس طرح میسی نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ورلڈکپ میں ارجنٹائن کے عوام اورعظیم کوچ میراڈونامیسی پر بہت زیادہ انحصار کررہے ہیں جبکہ میسی کیساتھ ساتھ کارلوس تاویز،آگویرو،گنزالو اور میکسی بھی اپنی ٹیم کو عالمی چیمپئن بنوانے کا بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ سپین ، ہالینڈ ، ڈنمارک، امریکہ ، کیمرون اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں بھی بھرپورتیاری اور قوت کے ساتھ ورلڈکپ میں شرکت کررہی ہیں تاہم فاتح عالم کا تاج کس کے سرسجے گا اس کافیصلہ فائنل معرکے کی شام گیارہ جولائی کو جوہانسبرگ میں ہوگا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments