فٹ بال عالمی کپ2018ء کا سلطان ”فرانس“

France Is The World Champion

فائنل میں کروشیا کو2کے مقابلے میں 4گولز سے شکست

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر جولائی

France Is The World Champion
روس میں 14ِجون2018ءکو فیفا فُٹ بال عالمی کپ کا 21واں ایڈیشن رنگا رنگ تقریب کے ساتھ شروع ہوا اور انتہائی دلچسپ مقابلوں کے بعد 15 ِ جولائی 2018ءکو فرانس اور کروشیاکے درمیان بھی ایک دلچسپ فائنل مقابلے کے ساتھ ختم ہوا۔جیتا کون یعنی اس دفعہ کس کا جھنڈا لہرایا اور کون بنا سلطان ؟ کروشیا کو2کے مقابلے میں 4 گول سے ہرا کر " فرانس"۔1998ءکے بعد دوسری دفعہ فرانس کو یہ اعزاز حاصل ہوا ۔

فرانس: کی یہ جیتنے والی فُٹبال ٹیم کہنے کو یورپین ہے لیکن اس میں بے شمار کھلاڑیوں کا تعلق افریقہ سے ہے۔بلکہ4میں سے آخری 2گول کرنے والے کھلاڑی پال پگبا اور کایلین امباپے کا تعلق بالترتیب گینہ اور کیمرون/ نائیجریاسے تھا۔پہلا گول (اون گول) تھا جو کروشیا کے اپنے کھلاڑی ماریو ماندوکیک کے سر سے لگ کر اپنے ہی گول میں چلا گیا اور فرانس کو فائدہ ہو گیا۔

(جاری ہے)

دوسرا گول پینلٹی کک سے انتھونیوگریز مین نے کیا۔اس دوران جو 2گول کروشیا کی طرف سے ہوئے اُن میں سے پہلا آئیون پراسک اور دوسرا ماریو ماندوکیک نے کیا۔ کروشیا: اس طرح 1998ءمیں سیمی فائنل میں رہ جانے والی کروشیا کی ٹیم اس دفعہ20سال بعد فائنل میں رہ گئی۔ دلچسپ یہ ہے کہ تب بھی مقابل فرانس تھا اور آج بھی شکست فرانس کے ہاتھوں ہو ئی ہے۔ تب بھی فائنل فرانس نے جیتا تھا اور 2018ءکا بھی فرانس نے ۔

فرق یہ ضرور تھا تب فرانس میزبان ملک تھا اس دفعہ روس کا مہمان ملک۔ کروشیا اُس دفعہ ہالینڈ سے ہار کر چوتھی پوزیشن پر آیا تھا اس دفعہ فرانس سے ہار کر دوسری پر۔ مختصر احوال روس میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2018ءکا: فیفا فُٹ بال ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں 32ٹیموں کے درمیان زوردار مقابلے کے بعد16ٹیمیں روس،میکسیکو،فرانس،ارجنٹائن فرانس،ارجنٹائن، برازیل،سپین،سویڈن،سوئزلینڈ،کروشیا،ڈنمارک، یوراگوائے ، پرتگال،کولمبیا، جاپان،انگلینڈاور بلجیم ناک آﺅٹ یا پری کواٹر فائنل مرحلے کیلئے کوالیفائی کرسکیں۔

جن کے درمیان مقابلہ کانٹے دار ہونے کی پیشن گوئی بھی کی گئی تھی۔کیونکہ غلطی کی گنجائش ختم ۔ہارنے پر بوریا بستر گول تھا۔ اٹلی تو اس2018ءکے ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہ کر سکا تھااور دفاعی چیمپئین جرمنی 1938ءکے بعد پہلی بار عالمی کپ کے پہلے راﺅنڈ سے ہی شکست کھا کر باہر ہو گیا۔لہذا ناک آﺅٹ مرحلے میں برازیل کے مقابل میسی کی وجہ سے ارجنٹائن اور رونالڈو کی وجہ سے پرتگال کو اہمیت حاصل تھی۔

جبکہ چند دوسرے ممالک انگلینڈ،بلجیم اور فرانس کے بہترین و باصلاحیت کھلاڑیوںکا امتزاج دیکھتے ہوئے اُن ممالک کو برازیل کے ساتھ مضبوط اُمیدوار تصور کیا جارہا تھا۔لیکن پہلا جھٹکا اُس وقت لگا جب اس مرحلے میں برازیل اور پرتگال کی ٹیمیں ہی شکست کھا کر باہر ہو گئیں۔ اسطرح 16ٹیموں کے مقابلوں میں کواٹر فائنل کیلئے جو8ٹیمیں کوالیفائی کر سکیں اُن میں شامل تھیں: یو رگوائے، فرانس۔

۔برازیل ، بلجیم۔۔سویڈن ،انگلینڈ۔۔روس ،کروشیا۔۔ کواٹر فائنل: میں مقابلہ بھی اس ہی ترتیب سے ہوا ہے جیسے ٹیموں کے نام لکھے گئے ہیں اور سیمی فائنل میں جیت کر پہنچیں فرانس ، بلجیم،انگلینڈ اور کروشیا کی ٹیمیں۔ برازیل کا ایونٹ سے باہر ہو جانااس عالمی کپ میں شائقین کیلئے ایک اور جھٹکا تھااور روس کی عوام کیلئے روس کی ٹیم کا کروشیا کے ہاتھوں شکست کھا نا کسی غم سے کم نہیں تھا۔

2014ءکے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل میں پہنچنے والی چاروں ٹیمیںبرازیل ، ارجنٹائن،جرمنی اور ہالینڈ اس دفعہ اپنا نام کھو چکی تھیں۔ سیمی فائنل: میں اُمید کی جارہی تھی کے فرانس اور انگلینڈ اپنے میچ جیت کر فائنل کھیلیں گے لیکن اس ایونٹ میں سب سے دِلچسپ کارکردگی دکھانے والی ٹیم کروشیا نے ایک دفعہ پھر کمال ہی کر دیا اور انگلینڈکو شکست دے کر فائنل میں رسائی حاصل کر لی۔

دوسری ٹیم پہنچی فائنل میں فرانس شکست دے کر بلجیم کو۔ تیسر ی پوزیشن : کیلئے مقابلہ ہوا بلجیم اور انگلینڈ کا جس میں بلجیم نے 0۔2 سے شکست دے کر انگلینڈ کی تیسری پوزیشن حاصل کرنے کی خواہش بھی پوری نہ ہونے دی ۔ کارٹون " سیمپسن" : دوسری طرف حیرت کُن ہے کہ امریکہ کے مشہور کارٹون " سیمپسن" کی پیشین گوئی کے تحت جن 6ممالک کا پہلے ذکر آچکا ہے اُن میں سے کوئی بھی فائنل نہیں کھیلے گی۔

بہرحال فرانس اُن 6ٹیموں میں تھی جو فائنل میں بھی پہنچی اور فائنل جیت بھی گئی۔پیشین گوئی رہ گئی پیشین گوئی۔ پاکستانی فٹبال : ناک آﺅٹ مرحلے میں بھی پاکستان کا تیار کردہ فُٹبال استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پہلے مرحلے میں استعمال ہونے والے فُٹ بال کا نام ©" تلستر "18 رکھا گیا تھا اور دوسرے مرحلے میں استعمال ہونے والے فُٹبال کا نام" تلستر مشتا" رکھا گیا ۔ ۔۔ روسی زبان میں "مشتا " کا مطلب" خواب یا امتیاز" ہے اور اس مرحلے کیلئے فُٹ بال کے ڈایزئن میں "سرخ رنگ" کا اضافہ کیا گیا ۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments