فرنچ اوپن 2016ء چوکووچ اور موگوروزا کے نام

French Open 2016

چوکووچ کا پہلا چانس ہاتھ سے گیا تو ڈیوس کے اصول پر پھر کوشش کی اور اینڈی کی شاٹ پر گیند نیٹ سے ٹکرانے کی دیر تھی کہ نوواک چوکووچ بھی کمر کے بَل کلے کورٹ پر گر گئے کیونکہ وہ جیت چکے تھے۔بعد میں اُنھوں نے اپنے ریکٹ سے کورٹ میں ایک دائرہ کھینچا

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر جون

French Open 2016
 رولینڈ گاروس 2016ء کے چند اہم لمحات
آسڑیلین اوپن کی چیمپئین انجلیق کربر جنکا تعلق جرمنی سے ہے فرنچ اوپن کے پہلے ہی راؤنڈ میں نیدر لینڈ کی کیکی برٹنیزسے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔
اٹلی سے تعلق رکھنے والی فرانسیسکا شیاوون کی ریٹائر منٹ کی خبر پر جب تماشائیوں نے کھڑے ہو کر اُنھیں خیر باد کہنے کی کوشش کی تو اُنھوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اُنکی طرف سے نہیں بلکہ فرنچ اوپن کی انتظامیہ کی طرف سے اعلان ہے۔

بہرحال اُنھیں بھی فرانس کی کرسٹینا ملاڈینوک سے شکست ہو گئی تھی۔
 کروشیا کے کھلاڑی 37سالہ آئیو کا ر لووک )سیڈ 27) اس سال فرنچ اوپن کے تیسرے مرحلے میں پہنچنے والے معمر ترین کھلاڑی بنے۔

(جاری ہے)

اس سے پہلے امریکہ کے کھلاڑی جمی کونر نے 1991ء میں 38سال کی عمر میں فرنچ اوپن اور یو ایس اوپن کے تیسرے مرحلے میں میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔جو تا حال ایک ریکارڈ ہے۔


خواتین میں ٹینس کی ورلڈ نمبر 1 کھلاڑی سرینا ولیم کی بہن 36 سالہ وینس ولیم جو بذات ِ خود بھی نمبر 1 پر رہ چکی ہیں فرنچ اوپن کے چوتھے راونڈ میں سوئیز لینڈ کی ٹیمیا بیسنز کی سے ا سٹیٹ سیٹس میں شکست کھا کر کواٹر فائنل کیلئے کوالیفائی نہیں کر سکیں۔
سیڈ نمبر 2 سکاٹ لینڈ کے اینڈی مرے فرنچ اوپن ٹینس کے دوسرے مرحلے میں شکست سے بال بال بچے تھے ۔

5سیٹ تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں مخالف کھلاڑی متھالیس بورگیو ناتجربہ کاری کی وجہ سے ہارے تھے۔ورنہ مقابلہ سخت تھا۔
ڈوپ ٹیسٹ کی ناکامی پر پابندی کی شکار 28 سالہ روسی ٹینس کھلاڑی شراپوا فرنچ اوپن سے تو باہر رہیں لیکن ٹورنامنٹ کے دوران وہ خبروں کی زینت رہیں۔ اُنکے متعلق پہلے دلچسپ خبر چاکلیٹ بیچنے کے متعلق یہ آئی کہ وہ کھیل سے الگ ہو کر اس میں دلچسپی لے رہی ہیں اور پھر ایک اچھی خبر یہ آئی کہ اُنھیں ریو اولمپک کیلئے روسی فیڈریشن نے منتخب کر لیا ہے۔


امریکہ کی کھلاڑی شلبی راجرز نے فر نچ اوپن ٹینس میں جب رومانیہ سے تعلق رکھنے والی ارینا بیگو کو شکست دیکر کواٹر فائنل میں پہنچیں تو وہ بذات ِخود بھی حیران تھیں اور اُنکا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اس ایونٹ میں اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر مظاہرہ کیا ہے۔کیونکہ اُس سے پہلے کے راؤنڈ میں وہ ومبلڈن کی دو مرتبہ چیمپئین پیٹرا کویٹواکو بھی ناک آؤٹ کر چکی تھیں۔


سیڈ نمبر 1 سربیا کے 28سا لہ نو واک جوکووچ نے چوتھے راؤنڈ میں جہاں ایک طرف سپین کے روبرٹو بوٹسٹا اگٹ کو شکست دے کر کواٹر فائنل میں جگہ بنائی وہاں وہ دُنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے ٹینس میں اب تک 100 ملین ڈالر مجموعی اضافی رقم جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔
فرنچ اوپن میں اس دفعہ تقریباً دو دِن بارش کی نظر ہونے پر کھیل میں خلل پڑا اُس پر ایونٹ کی انتظامیہ تنقید کی نوک پر رہی اور کھلاڑیوں و تماشائیوں کی طرف سے یہاں تک کہا گیا کہ یہ انتظامیہ کی نااہلی کے مترادف معاملہ یاد گار حیثیت اختیار کرے گا۔


ٹینس کے ٹورنامنٹ میں کھلا ڑیوں کے کھیل سے متعلقہ ملبوسات ہمیشہ زیر ِبحث رہتے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے زیادہ تر کھلاڑی اپنی مرضی کا منتخب لباس پہن کر میدان میں اُترتے ہیں۔جس کو جو کھیل میں آسانی دے رہا اور سج رہا ہے اُس ہی میں وہ نظر آتے ہیں لیکن اس دفعہ دو کھلاڑیوں مرد جو ویلفرد سونگا اور خاتون عینا ایوانووچ نے ایونٹ کے دوران ایڈی ڈاس کا متنازعہ " زیبرا ڈیزائن " کٹس کا لباس پہن کر مقابلے میں شرکت کی تو وہ ایک نئی ہی پہچان بنا گئے اور اُن دونوں نے مختلف انٹریوز میں کہا کہ وہ کھیل کے دوران مطمئین رہے۔


رافیل نڈال:
کلے کورٹ کے بادشاہ سپین کے رافیل نڈال نے کلائی انجیری کے سبب فرنچ اوپن کے تیسرے راؤنڈ سے ایک دن پہلے ہی ایونٹ سے علحیدگی کا اعلان کر دیا ۔9مرتبہ فرنچ اوپن ٹورنامنٹ جتنے والے(2005-8 ء چار مرتبہ(اور) 2010-14ء پانچ مرتبہ ( کی دستبرداری سے شائقین کو بہت مایوسی ہوئی کیونکہ اس دفعہ اُنکی نظر یں اس پر تھیں کہ کیا رافیل نڈال اس دفعہ کامیابی حاصل کرکے فرنچ اوپن کا وہ پہلا واحد کھلاڑی بن سکتا ہے جو ڈبل ڈیجیٹ میں داخل ہو جائے گا۔

افسوس یہ بھی رہا کہ 17مرتبہ گرینڈ سلام جتنے والے راجر فیڈر نے ایونٹ سے پہلے ہی کمر درد کے باعث معذرت کر لی تھی۔
 کواٹر فائنل کے مقابلے:
۱) مردو ں میں:
 سربیا کے نوواک جوکووچ نے ا سٹیٹ سیٹس میں جمہویہ چیک کے ٹامس برڈیخ کوناک آؤٹ کر دیا۔
اَسٹریلیا کے ڈومینک تھیم بمقابلہ بلجیئم کے ڈیوڈ گوفن میں ہوا تو کامیابی تھیم کے حصے میں آئی۔


سوئس کے سٹین واورنیکا کا مقابلہ سپین کے ریموس وینولوسے تھا۔جو سٹیٹ سیٹس کی وجہ سے واوونیکاکے حق میں ہوا۔
سکاٹ لینڈ کے اینڈی مرے(انڈریو بیرن) نے ایک اچھے مقابلے کے بعد فرنس کے اَر گیا سگے کو ایونٹ سے باہر کر دیا۔
 ۲) خواتین میں:
 ہالینڈ کی ککی برٹنز نے آسٹریلیا کی ٹیمیا بیسنزکے خلاف کامیابی حاصل کی۔


آسٹریلیا کی سمانتھا سٹوسر بمقابلہ ٹی ۔بلغاریہ کی پیرونکوف تھا۔سمانتھا اعلیٰ کھیل بعد سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر گئی۔
امریکہ کی سرینا ولیم بمقابلہ قزاقستان کی پولیا پیٹوینسی ایواہوا ۔ سرینا نے ا سٹیٹ سیٹس سے کامیابی حاصل کی لیکن ایک سیٹ سخت رہا۔
سپین کی گاربائن موگوروزا سیمی فائنل میں امریکہ کی شلبی راجرزکو شکست دے کر پہنچیں۔


 سیمی فائنل میں کامیاب کھلاڑی:
 مردوں کے سنگلز میں: ایک مقابلے میں آمنے سامنے آئے سربیا کے نوواک جوکووچ اور اَسٹریلیا کے ڈومینک تھیم جس میں نوواک جوکووچ نے 6-2,6-1,6-4سے شکست دے کر فائنل میں رسائی حاصل کر لی۔
دوسرے سیمی فائنل میں: سکاٹ لینڈ کے اینڈی مرے اور سوئس کے سٹین واورنیکا کے درمیان مقابلہ سخت تھا کیونکہ واورنیکا اپنے ٹائٹل کا دفاع کر رہے تھے۔

لیکن اینڈی مرے نے اپنی زندگی کے تجربے کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے چار سیٹ تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں کامیابی حاصل کرلی۔ تیسرا سیٹ وہ ہار گئے تھے۔ 6-4,6-2,4-6,6-2
خواتین کے سنگلز میں: پہلا مقابلہ ہوا امریکہ کی سرینا ولیم اور ہالینڈ کی ککی برٹنز کے درمیان ۔پہلا سیٹ طول پکڑ گیا اور فیصلہ اگلے ایکسٹرا پوئنٹس پر ہوا۔ یعنی7-6 سے سرینا جیتی 9-7پر اور دوسرا سیٹ سرینا نے 6-4سے جیت کر فرنچ اوپن کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔


دوسرا سیمی فائنل : سپین کی گاربائن موگوروزابمقابلہ آسٹریلیا کی سمانتھا سٹوسر میں ہواجو موگوروزا نے اپنے حریف سے 6-4,6-2سے جیت لیااور فرنچ اوپن کے فائنل میں پہنچ گئی۔
فائنل سنگلز مقابلہ خواتین میں کامیاب موگوروزا :
22سالہ سپین کی سیڈ4 گاربائن موگوروزاکا مقابلہ تھا دُنیا کی نمبر 1سرینا ولیم سے ۔

جسکو 2014ء میں فرنچ اوپن کے ٹائٹل کے دفاع کیلئے جب کواٹر فائنل میں سپین کی گاربائن موگوروزا سے مقابلہ کرنا پڑا تو وہ 20سالہ لڑکی سے6-2,6-2سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی ۔338مقابلے جتنے والی سرینا کیلئے یہ شکست آج بھی یادگار ہے۔لیکن وہ 2015کے ومبلڈن فائنل میں پہلی دفعہ پہنچنے والی اُس ہی موگوروزاکو شکست دے کر کامیابی حاصل کر چکی تھی ۔


سرینا ولیم کی یہی اُمید مقابلے پر حاوی تھی اور انجیری کے باوجود مسلسل ایونٹ کھیلتے ہوئے وہ موگوروزا کے سامنے۔لیکن وینیزویلا میں پیدا ہونے والی6فٹ کی سپین کی کھلاڑی موگوروزا نے سرینا ولیم کو ایک شاندار مقابلے کے بعد7-5,6-4سے شکست دے کر پہلی دفعہ بڑھا سلام ٹورنامنٹ جیت لیا۔
1998ء میں ارانکسٹا سانچیز وکاریو کے بعدموگوروزا سپین کی پہلی کھلاڑی کہلائیں جنہیں یہ کامیابی حاصل ہوئی۔

میچ کے آخر میں ولیم نے چار دفعہ اُسکے میچ پوائنٹ ناکام بنائے لیکن جونہی ولیم نے کورٹ کے اندر گرنے والی گیند کو یہ سمجھتے ہوئے چھوڑ دیا کہ وہ باہر گرے گی موگوروزاکی کامیابی اعلا ن ہو گیا ۔ وہ جذباتی انداز میں کمر کے بَل کلے کورٹ پر لیٹ گئی اور انتہائی خوشی کا اظہار کر کے واپس اُٹھی۔اس کے برعکس ولیم دُکھی نظر آئی کیونکہ اگر وہ یہ ٹورنامنٹ جیت لیتی تو وہ 22واں گرینڈ سلام جیت کر ٹینس کھلاڑی سٹیفی گراف کے برابر ہو جاتی۔


فائنل سنگلز جتنے والے کھلاڑی چوکووچ :
سیڈ 2 اینڈی مرے 1937ء کے بعد پہلے مرد برٹش کھلاڑی بنے جنہیں فرنچ اوپن کا فائنل کھیلنے کا موقع میسر آیا۔ مقابلہ تھا سربیا کے نمبر1 کھلاڑی نوواک چوکووچ۔پہلے 2سیٹ میں دونوں کو ایک ایک سے کا میابی ہو گئی لیکن تیسرے سیٹ میں دو بڑے کھلاڑیوں کا بہترین کھیل دیکھنے کو ملا۔

سیٹ تو نوواک جیت گئے لیکن تماشائیوں نے داد اینڈی کو بھی خوب دی۔چوتھے سیٹ میں نوواک حاوی نظر آئے لیکن اینڈی نے بھی بھر پر کوشش کی کہ سیٹ جیت کر میچ برابر کر لیں اور 5ویں میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔لیکن میچ پوائنٹ نوواک کے پاس آہی گیا۔
چوکووچ کا پہلا چانس ہاتھ سے گیا تو ڈیوس کے اصول پر پھر کوشش کی اور اینڈی کی شاٹ پر گیند نیٹ سے ٹکرانے کی دیر تھی کہ نوواک چوکووچ بھی کمر کے بَل کلے کورٹ پر گر گئے کیونکہ وہ جیت چکے تھے۔

بعد میں اُنھوں نے اپنے ریکٹ سے کورٹ میں ایک دائرہ کھینچا اور ایک دفعہ پھر اُس میں لیٹ کر خوشی کا اظہار کیا۔اس دوران اینڈی مرے نے اُنھیں مبارک بھی دی ۔
نوواک چوکووچ نے3-6,6-1,6-2,6-4سے فرنچ اوپن کا ٹائٹل پہلی دفعہ جیت کر اپنا 12واں گرینڈ سلام جیت لیا ۔ اس سے پہلے آسٹریلین اوپن6دفعہ،ومبلڈن3دفعہ اور یوایس2دفعہ جیت چکے ہیں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments