”بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے “

Geoff Lawson Return Back Home

قومی کرکٹ ٹیم کے برطرف کوچ جیف لاسن آسٹریلیا لوٹ گئے چودہ ماہ کوچنگ ،تنخواہ ہزاروں ڈالرز، کارکردگی صفرسے بھی کم تر،صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی معمول رہا

پیر 3 نومبر 2008

اعجاز وسیم باکھری : ”بڑے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے “کی تصویربنے قومی کرکٹ ٹیم کے برطرف کوچ جیف لاسن اپنے آبائی وطن آسٹریلیا روانہ ہوگئے ۔ جیف لاسن ہفتہ کو لاہور سے براستہ دبئی سڈنی کے لئے روانہ ہوئے۔ 14ماہ تک قومی ٹیم کی کوچنگ کے فرائض سرانجام دینے والے دراز قد آسٹریلوی کوچ جب علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچے تو ان کا چہرہ اترا ہوا تھا اور وہ انتہائی پریشان دکھائی دے رہے تھے۔

ائیرپورٹ پر موجودہ میڈیا کے نمائندگان نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن مایوسی میں ڈوبے ہوئے لاسن نے پاکستان سے جاتے وقت الوادعی بات چیت کرنے سے گریز کیا اور پھیکی سی مسکراہٹ سے ہاتھ ہلا کر الوادع کہا۔ جیف لاسن جاتے وقت غیر متوقع طورپر انتہائی رنجیدہ لگ رہے تھے اور ناکامی اورمایوسی ان کے چہرے سے عیاں تھی حالانکہ انہیں سابق چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے قومی کھلاڑیوں کی مشاورت پر تجربہ کار کوچ ڈیو واٹمور پر ترجیح دیتے ہوئے پاکستان ٹیم کا کوچ مقرر کیا تھا۔

(جاری ہے)

لاسن کی کوچنگ میں پاکستانی ٹیم نے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز تو حاصل کیا لیکن بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ اور ایک روزہ میچز پر مشتمل سیریز، کینیڈا ٹونٹی ٹوٹنی کپ اور ہوم گراؤنڈ ز پر کھیلے جانیوالے ایشیا ء کپ میں ان کی موجودگی پاکستانی ٹیم کیلئے نیک شگون ثابت نہ ہوسکی۔انتہائی سخت لب و لہجے کے مالک جیف لاسن جہاں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے میں یکسر ناکام رہے وہیں ان کو پاکستان لانے کا اولین مقصد کہ” پاکستان ایک محفوظ ملک ہے “بھی پورانہ ہوسکا ۔

کیونکہ لاسن کی پاکستان موجودگی کے باوجود آسٹریلوی کھلاڑی پاکستان آنے پر راضی نہ ہوئے اور ہاکی کے بعد کرکٹ کی چیمپئنزٹرافی سے بھی پاکستان کو ہاتھ دھونے پڑے۔پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہونیوالی بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے بعد لاسن کی چھٹی یقینی لگ رہی تھی اور کینیڈا میں ٹونٹی ٹونٹی کپ میں قومی ٹیم کی ناکامی کے بعد لاسن کو فارغ کرتے وقت نئے چیئرمین اعجاز بٹ کے سامنے برطرف کوچ کا کوئی ایسا بڑا کارنامہ نہیں تھا جو انہیں لاسن کو برطرف کرنے سے روکتا۔

جیف لاسن کا معاہدہ پی سی بی سے ایک آجر اور اجیر کا تھا جو کسی بھی فریق کی مرضی سے ختم کیا جا سکتا تھا ۔نسیم اشرف کے چلے جانے کے بعد لاسن کو خود سے چلے جانا چاہیے تھا لیکن وہ کسی چمتکار کے انتظار میں رہا کہ شاید بچ جاؤں ۔لیکن ایسا نہیں ہوسکا اور کرکٹ بورڈ نے اسے تین ماہ کی ایڈونس تنخواہ دیکر گھر کی راہ دکھا دی ۔واضح رہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے لاسن کی برطرفی کو رائی کا پہاڑ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

غور طلب بات یہ ہے کہ جیف لاسن ایک اوسط درجے سے بھی کمتر حیثیت کا کوچ تھااسلئے اس کی بر طرفی پر دنیا تو درکنار خود آسٹریلیا سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔جہاں تک اس رائے کا تعلق ہے کہ آسٹریلیا میں چہروں پر شکن کی بجائے مسکراہٹوں اور شکریے کے ساتھ افراد کو رخصت کیا جاتا ہے ۔کم از کم دل کے بہلانے کو تو یہ خیال اچھا ہو سکتا ہے مگر حقیقت بہت تلخ ہے،حقیقت وہی لوگ جانتے ہیں جو آسٹریلیا میں تلخ تجربات کرکے آئے ہیں۔

لاسن سے ہمدردی کرنے والے اور جذبات کی قدر کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد آسٹریلیا ہی وہ ملک تھا جس کی منافقت اور دوہرے معیار کے باعث پاکستان میں کھیلوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ۔جیف لاسن کے ہم وطن آسٹریلوی کرکٹرز ہر طرح کی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کر چکے ہیں ۔2002میں جب پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال پر کوئی سوالیہ نشان نہ تھاتب آسٹریلوی کرکٹرز کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان کی کرکٹ شارجہ کے صحراوں اور سری لنکا اور کینیا کے ویران میدانوں میں رل گئی تھی ۔

جبکہ امسال بھارت میں دھماکوں کے باوجود لاسن کے ہم وطنوں کو وہاں کھیلنے پر اعتراض نہیں ہے ۔ پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی سے محروم کرنے میں بھی آسٹریلیا ہی پیش پیش تھا ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ آسٹریلیا کی ہاکی ٹیم کے انکار کے باعث پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ آسٹریلیا والے مسلسل پاکستانی عوام اور کھیل کے کرڑوں پرستاروں کے جذبات کا قتل عام کر رہے ہیں ۔

تو پھر ہمیں غیروں پہ کرم کی پالیسی جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے اور خاص طور پر جب لاسن کو پاکستان لانے کا بڑا مقصد بھی آسٹریلوی کرکٹرز کو باور کرانا تھا کہ پاکستان کھیلوں کے لئے محفوظ ملک ہے مگر بر طرف اس ضمن میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکے۔جہاں تک جیف لاسن کے رویے کا تعلق ہے تو موصوف نے میری آنکھوں کے سامنے کراچی میں ایشیا کپ کے دوران بھارتی صحافیوں کی موجودگی میں پاکستانی میڈیا کا جس طرح سے مذاق اڑایا اسکی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جیف لاسن جس ملک سے لاکھوں ڈالرز کمارہا تھا اسی ملک کے صحافیوں سے سیدھے منہ بات کرنا بھی گوارہ نہیں کرتا تھا بلکہ اس کے بیانات ہمیشہ مغربی میڈیا کے توسط سے پاکستان پہنچتے تھے۔ اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں 46 میچزکھیلنے والے جیف لاسن کو ایک باصلاحیت آوٴٹ سوئنگ بالر سمجھا جاتا تھا لیکن بطور کوچ وہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔

لاسن نے اپنے کیرئیر کے دوران180وکٹیں حاصل کیں اور 1989 میں آسٹریلیا کو ایشز سیریز جتوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔پاکستان آنے سے قبل سڈنی میں دیئے گئے بیان میں جیف لاسن نے کہا تھاکہ’ ’میں بے وقوفیاں برداشت نہیں کرتا اور نہ ہی میرے پاس بہترین سے کم کسی چیز کی گنجائش ہے “لیکن پاکستان آنے کے بعدوہ خود تو بے وقوف نہیں بناالبتہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ضرور بے وقوف بنایا ۔

میرے پاس بہترین سے کم کسی چیز کی گنجائش نہیں ہے کے دعوے دار نے 14ماہ میں نہ تو خود بہترین کام کیا اور نہ ہی ٹیم کو بہتری کا راستہ دکھایا۔پاکستان چھوڑنے سے کچھ گھنٹے قبل لاسن نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی اندرونی اور بیرونی سیاست میں ملوث ہیں،ایسے حالات میں ٹیم کو غیر ملکی کوچ ہی بہتر انداز سے چلاسکتا ہے ۔لیکن محترم شایدیہ بھول چکے ہیں کہ وہ خود پاکستانی نہیں آسٹریلین تھے جنہیں ہزاروں ڈالرز دیکر پاکستان لایا گیا تھا وہ چودہ ماہ میں کیا کرتے رہے؟۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments