ہاکی ، سیریز پاکستان نے جیت لی دوستی ٹرافی چین کے نام

Hockey Series Pakistan Ne Jeet Li Dosti Trophy China K Naam

چینی حکومت نے مشکل حالات میں اپنی ہاکی ٹیم کو پاکستان بھیج کر ایک بار پھر پاک چین دوستی کو ثبوت پیش کردیا رواں سال پاکستان ہاکی ٹیم کیلئے مایوس کن اور فیڈریشن کیلئے معمول کے مطابق رہا

بدھ دسمبر

Hockey Series Pakistan Ne Jeet Li Dosti Trophy China K Naam
سجاد حسین: پاکستان اور چین کی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ یہ دوستی ایسی لازوال دوستی ہے جس میں کئی بار دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن ہر بار دشمنوں کو ناکامی پیش آئی۔سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان کے کھیلوں کے مید ان ویران ہوگئے تھے اور کوئی ٹیم پاکستان کا رخ کرنے کیلئے تیار نہیں تھی لیکن چینی حکومت نے پاکستان سے دوستی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنی ہاکی ٹیم کو پاکستان بھیج کر نہ صرف ویران پاکستانی گراؤنڈز کو آباد کیا بلکہ پاکستان میں غیر ملکی ٹیموں کیلئے سکیورٹی خدشات کو بھی دور کرنے میں پاکستان کی مدد کی جوکہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔

چینی ٹیم 19دسمبر کو پاکستان پہنچی اور ابتدا میں کراچی میں دو ٹیسٹ میچز کھیلے جہاں پاکستانی ٹیم نے کامیابی حاصل کی تیسرے میچ میں بھی پاکستان نے چین کو فیصل آباد کو میں شکست سے دوچار کیا ۔

(جاری ہے)

آخری میچ لاہور میں کھیلا گیا جہاں شائقین کی ایک بڑی تعداد نے دنیا کے سب سے بڑے ہاکی سٹیڈیم کا رخ کیا۔ آخری میچ میں بھی پاکستان نے چین کو ایک کے مقابلے میں دوگول سے شکست دیکر سیریز میں کلین سوئپ تو مکمل کیا لیکن حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو چینی ٹیم کامیاب ہوئی اور پاکستان اور چین کی دوستی نے فتح سمیٹی۔

سری لنکن کرکٹ ٹیم پر اٹیک کے بعد غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے اور پاکستانی گراؤنڈویران ہوکر رہ گئے ہیں ۔ چینی ٹیم کے آنے سے کسی حدتک میدان آبا د ہوئے ہیں اور اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی کپتان محمد عمران نے وننگ ٹرافی مہمان ٹیم کے کپتان سونگ یی کے حوالے کردی جو کہ وہ حق رکھتے ہیں کیونکہ چینی ٹیم کے آمد کے بعد کم از کم پاکستان کسی ٹیم کو بلانے سے پہلے یہ جواز تو پیش کرسکتا ہے کہ ہمارے ہاں غیر ملکی ٹیموں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور اس سلسلہ میں چینی ٹیم پاکستان آکر کھیل چکی ہے ۔

پاکستان ہاکی کے حوالے سے سال 2011 ء کی سب سے اچھی خبر اور بڑا کارنامہ ہی چینی ٹیم کا پاکستان آنا ہے جس کیلئے پی ایچ ایف مبارکباد کی مستحق ہے۔کارکردگی کے حوالے سے پاکستانی ٹیم کیلئے یہ سال مایوس کن رہا ۔ رواں سال پاکستان نے چیمپئنزٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں حصہ لیا جہاں آٹھ ٹیمیں کھیل رہی تھیں اور پاکستانی ٹیم ساتویں نمبر پر آئی۔2011ء پاکستان نے ہاکی میں زیادہ کامیابیاں حاصل نہیں کیں تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں کامیابی قدرے بہتر رہی۔

پاکستان نے سال میں 44 میچز کھیلے جن میں ٹیم نے 20میں کامیای حاصل کی اور16میں شکست ہوئی جبکہ آٹھ میچز ہار جیت کے بغیر ختم ہوئے۔ پاکستان نے سال میں سات ٹورنامنٹ کھیلیں جن میں سے آئرلینڈ میں چارملکی اور آسٹریلیا میں تین ملکی ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل جیتا جبکہ اذلان شاہ سمیت ٹیم دوسرے نمبر پررہی اور رابوٹرافی میں پاکستان کا تیسرا نمبر رہا۔

سال کے آخرمیں پاکستان نے نیوزی لینڈ ہونیوالی چیمپئنزٹرافی میں حصہ لیا جہاں پاکستان ٹیم آٹھ ٹیموں کے ایونٹ میں ساتویں نمبر پر آئی۔اس سال پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سینئر کھلاڑیوں اور سابق اولمپئنزکیساتھ آنکھ مچولی بھی جاری رہی۔ فیڈریشن نے سابق کپتان ریحان بٹ کی ٹیم سے چھٹی کرادی ہے جبکہ گول کیپر سلمان اکبر ان آؤٹ ہوتے رہے۔ سہیل عباس کو مکمل کھلایا گیا لیکن وہ بھی پاکستان کیلئے اس سال کوئی بڑا ٹائٹل نہ جیت سکے۔

سابق اولمپئنز کی جانب سے پی ایچ ایف انتظامیہ پر انسانی سمگلنگ کا الزام اور پھر صدر زرداری کو خط میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے ۔ فیڈریش نے تنقید کرنیوالے اولمپئنزکو نوٹس بھجوانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور توقع ہے کہ پی ایچ ایف اور سابق اولمپئنز کے مابین اب آخری معرکہ ہونے جارہا ہے تاہم دیکھنا ہو گا کہ اس میں سبقت کون لیتا ہے اورکامیابی کس کوملتی ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments