پولیو کا شکار حیدرعلی نے پیرا اولمپکس تاریخ رقم کردی

Hyder Ali Paralympics

چاندی کا تمغہ جیت کر بیجنگ اولمپکس کے 35رکنی صحت مند قومی دستے کو مات دیدی

ہفتہ 13 ستمبر 2008

اعجاز وسیم باکھری : بیجنگ میں ہونے والے معذوروں کے اولمپکس میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا تمغہ جیتنے والے ایتھلیٹ حیدر علی کا کہنا ہے کہ پیرالمپکس میں تمغہ حاصل کرنا ان کی زندگی کا یادگار ترین لمحہ تھا۔ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے حیدر علی نے لانگ جمپ مقابلوں میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا ہے جو ان مقابلوں میں پاکستان کا پہلا تمغہ بھی ہے ۔

بیجنگ سے فون پر بات کرتے ہوئے بھی حیدر علی کا جوش و خروش اسٹیڈیم میں جاری مقابلوں کے شور میں عیاں تھا ۔حیدر علی نے پہلے تو ان اخباری اطلاعات کی تصحیح کی جن میں انہیں باکسر حیدر علی بتایا گیا تھا جو بین الاقوامی باکسنگ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے بعد پیرالمپکس میں شرکت کررہا ہے ۔ حیدر علی کا کہنا ہے کہ دوسال قبل انہوں نے کوالالمپور میں منعقدہ معذوروں کے ایشین گیمز میں بھی حصہ لیا اور لانگ جمپ میں گولڈ میڈل جیتنے کے علاوہ سو میٹرز دوسو میٹرز اور ڈسکس تھرو میں چاندی کے تمغے حاصل کئے ۔

(جاری ہے)

حیدر علی نے زور دے کر کہا کہ وہ باکسنگ والے حیدر علی نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور ان کی عمر بائیس سال ہے ۔حیدرعلی نے بتایا کہ وہ پیدائشی طور پر دائیں جانب پولیو کا شکار ہیں۔ ابتدا میں انہیں اس بات کا احساس رہتا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنی زندگی نارمل انداز میں گزارنی شروع کی اور پولیو کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔

حیدر علی کا کہنا ہے کہ دوسال قبل انہوں نے کوالالمپور میں منعقدہ معذوروں کے ایشین گیمز میں بھی حصہ لیا اور لانگ جمپ میں گولڈ میڈل جیتنے کے علاوہ سو میٹرز دوسو میٹرز اور ڈسکس تھرو میں چاندی کے تمغے حاصل کئے ۔حیدرعلی گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں بی اے کے طالبعلم ہیں۔ ان کے چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیو کے باوجود وہ انٹریونیورسٹیز لانگ جمپ چیمپئن بھی رہ چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جب وہ وکٹری اسٹینڈ پر کھڑے تھے اور پاکستان کا پرچم لہرایا جا رہا تھا تو خوشی سے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے وہ ان کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ تھا۔حیدر علی کا کہنا ہے کہ ابھی وہ وکٹری اسٹینڈ پر ہی تھے کہ گھر سے فون کا تانتا شروع ہوگیا تھا جو انہیں مبارک باد دینے کے لئے بے چین تھے ۔حیدر علی کے مطابق اگر ان کی ایک جمپ مسترد نہ ہوتی تو وہ طلائی تمغہ حاصل کرسکتے تھے کیونکہ ان کے اور تیونس کے ایتھلیٹ کا فاصلہ ایک ہی تھا۔

حیدر کی خواہش ہے کہ وہ نارمل ایتھلیٹس کی طرح ساوٴتھ ایشین گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرسکیں ان کا کہنا ہے کہ ابھی وہ اس معیار تک نہیں پہنچ سکے ہیں لیکن انہیں امید ہے کہ ایک دن وہ ایسا ضرور کرپائیں گے ۔حیدر علی کے بارے میں ان کے کوچ اکبرعلی مغل کا کہنا ہے کہ وہ ایک باصلاحیت نوجوان ہیں جو تین سال قبل ان کے پاس آئے تھے جب معذوروں کے قومی کھیل منعقد ہوئے تھے جس کے بعد سے وہ نیشنل پیرالمپکس کمیٹی سے وابستہ ہیں۔نیشنل پیرالمپکس کمیٹی سے وابستہ کھیلوں میں ایتھلیٹکس۔ پاورلفٹنگ، ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن شامل ہیں اور معذور کھلاڑیوں کی بڑی تعداد اس میں حصہ لے رہی ہے ۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments