آئی سی سی ورلڈ کپ 2019ءمیں متنازعہ بھارت اور امپائر

Icc World Cup Wrapped Up In Controversies

مہندر سنگھ دھونی کی جانب سے بھارتی آرمی کے نشان کے وکٹ کیپنگ گلوز پہننا اور ٹورنامنٹ میں امپائرنگ کا معیار متنازع شکل اختیا ر کرگیا

Arif Jameel عارف‌جمیل اتوار جون

Icc World Cup Wrapped Up In Controversies
انگلینڈ اور ویلز میں جاری آئی سی سی ورلڈ کر کٹ کپ 2019ءمیں شامل10ممالک کی ٹیمیں اب تک سنگل لیگ کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ ابتدائی10میچ کھیلے جا چکی ہیں اور 11واں میچ پاکستان بمقابلہ سری لنکا بارش کی وجہ سے 7ِجون کو نہیں کھیلا جاسکا۔ لہذا اُن دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا ہے۔جسکے بعد پاکستان اپنا اگلا میچ آسٹریلیا کے خلاف12ِجون کو کھیلا گا۔

آئی سی سی کی کرکٹ کیلئے خدمات ہمیشہ قابل ِتحسین رہی ہیں اور ماضی سے جدید کر کٹ تک کا سفر اور اُس میں نئے اور بہترین اصولوں کو مسلسل متعارف کروانا کرکٹ کی دُنیا میں اسکی مقبولیت کا باعث بنتا جارہا ہے۔گو کہ بعض معاملات میں آئی سی سی کی کچھ کمزوریاں بھی نظر آتی رہتی ہیں لیکن آئی سی سی اُن پر بھی اپنا بہترین ردِعمل پیش کر کے معاملات سُلجھا نے کی کوشش کر تا ہے۔

(جاری ہے)

لہذا اس ورلڈ کپ کے آغاز میں بھی چند متنازعہ معاملات میں سے دو اہم ترین قابل ِذکر ہیں:بھارت کے وکٹ کیپر اور سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کاکی جانب سے بھارتی آرمی کے نشان کے وکٹ کیپنگ گلوز پہننا اور دوسرا ٹورنامنٹ میں امپائرنگ کا معیار۔ دھونی اور گلوز: بھارت کا ابھی تک ورلڈ کپ2019ءمیں ایک ہی میچ جنوبی افریقہ کے ساتھ 5ِجون کو ہوا ہے جس میں بھارت کو کامیابی حاصل ہو ئی ہے لیکن وہ میچ بھارت کیلئے دنیا ئے کرکٹ میں اسوقت رسوائی کا باعث بن گیا جب وکٹ کیپر دھونی کی وکٹ کیپنگ گلوز پربھارتی آرمی کے نشان والی تصاویر واضح ہوئیں۔

جیسے ہی خبر بریک ہوئی پرنٹ میڈیا ،الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا اور بھارت اور پاکستان کے چاہنے والے آمنے سامنے آگئے۔اس دوران بھارت کے ایک میڈیا پر دھونی کی طرفداری پر پاکستان کے سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر چوہدری فواد حسین جو اپنے بیانات پر پہلے ہی متنازعہ سمجھے جاتے ہیں دھونی اور بھارتی میڈیا کے رویئے پر ایک زبردست ٹویٹ کر دیا جس میں کہا گیا: " دھونی انگلینڈ میں کرکٹ کھیلنے گیا ہے نہ کہ مہا بھارت،پھر بھارت میڈیا نے یہ کیسی بحث شروع کر رکھی ہے۔

اگربھارتی میڈیا جنگ کے معاملے پر اتنا ہی جذباتی ہو چکا ہے تو انکو اُجرت پر شام ،افغانستان یا روانڈا بھیج دیں"۔ چوہدری فواد حسین کے یہ بیان پاکستان قوم کیلئے سیاسی سطح کی بجائے قومی سطح پر تعریف کے قابل سمجھا گیا لیکن اس دفعہ یہ ٹویٹ بھارت کیلئے متنازعہ بن گیا اور اُنھوں نے زبانی و قلمی بندوقوں کا مُنہ چوہدری فواد حسین کی طرف کر دیا۔

جس پر 7ِجون کو چوہدری فواد حسین کی طرف سے ایک اور جواباً ٹویٹ کیا گیا جس میں اُنھوں نے لکھا : " حیران ہوں اپنے ٹویٹ پر بھارتی رویئے سے کی دھونی مبہم کر رہا کرکٹ کو مہا بھارت سے: اتنا غُصہ بھئی کرکٹ کو کھیل ہی رہنے دوشریف لوگو بھارتی سیاسی میدان نہ بناﺅ"۔ اس ساری متنازعہ بحث کے دوران بھارتی کرکٹ بورڈ اور آسی سی بھی آمنے سامنے کھڑی ہو گئی ہے۔

بی سی بی نے موقف اختیار کیا کہ دھونی نے آئی سی سی کے کسی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی اُسکو مستقبل میں بھی ایسے گلوز پہن کر کیپنگ کرنے کی اجازت دی جائے ۔جبکہ آئی سی سی نے جنوبی افریقہ کے خلاف بھارتی آرمی کے نشان والے گلوز پہننے پر ایکشن لیتے ہوئے دھونی کو آئندہ ایسے کسی بھی نشان والے گلوز پہننے سے منع کیا تھا۔گو کہ 8ِ مارچ 2019ءکو پلوامہ واقعہ کو بنیاد بنا کر بھارتی کرکٹ ٹیم کی طرف سے بھارتی فوجی ٹوپیاں پہن کر کرکٹ میچ کھیلا گیا تھا جس پر آئی سی سی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایسا کرنے کا مقصد فنڈ ریزنگ تھا اور بھارتی بورڈ نے اس کی پہلے سے اجازت لے رکھی تھی۔

لہذا اِن حالات میں کیا اگلے میچوں میں آئی سی سی بھارتی کھلاڑیوں کو کسی بھی ایسے متنازعہ عمل سے روک پائے گا کیونکہ بی سی بی کا موقف ہے کہ وہ آئی سی سی کو قائل کرے گا کہ اُنکا عمل مُثبت ہے نہ کہ منفی۔ دیکھتے ہیں آنے والے دِنوں میں آئی سی سی اور بی سی بی کا نئے متنازعہ معاملے پر رد ِعمل جس کیلئے پاکستان کرکٹ بوڑد کیا موقف اختیار کر ے گا اور اُسکو آنکھیں کتنی کُھلی رکھنی پڑیں گی۔

امپائرنگ کا معیار: کھیل کی دُنیا کا کوئی بھی کھیل ہو اور پھر اوپر سے اُسکا ورلڈ کپ اور اُس میں امپائرنگ کا معیار ۔ اوہ! عالمی کرکٹ کپ 2019ءکے آغاز سے ہی امپائرنگ کا شعبہ کچھ خاص کارکردگی دکھاتا ہو ا نظر نہیں آیا لیکن 9میچوں کے بعد 10ویں میچ آسٹریلیا بمقابلہ ویسٹ انڈیز جو 6ِجون کو کھیلا گیا اُس میں امپائرنگ کا معیار آئی سی سی کیلئے لمحہ ِفکریہ ہی نہیں بلکہ امپائرز کے خلاف ایکشن لینے والا ہونا چاہیئے۔

کیونکہ ابھی سارا ٹورنامنٹ باقی ہے جن میں انتہائی مقابلے بھی ہونے ہیں یہ مقابلے ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلنگ کے نہیں ہیں جن میں ریفری ہمیشہ متنازعہ رہتا ہے اور سٹوری لائن کا حصہ قرار دے کے ریسلنگ مقابلوں کا فیصلہ قبول کر لیا جاتا ہے۔یہ ورلڈ کرکٹ کپ ہے جس کے اس انتہائی اہم میچ میں جسطرح آسٹریلیا کی مڈل ِآرڈر بیٹنگ نے کم بیک کر کے 288رنز کا ہدف دیا وہ ویسٹ انڈیز کیلئے چیلنج بن گیا۔

پھر جس کیلئے اُنکے اوپنر کرس گیل کی بیٹنگ انتہائی اہم تھی ۔لیکن آسٹریلیا کے باﺅلرز کی آﺅٹ کی اپیلوں پر جس طرح امپائرز نے کرس گیل کو آﺅٹ دیا اور پھر رِی ویو پر وہ ناٹ آﺅٹ قرار پاتے رہے اس سے ایک بڑے بلے باز کو نروس کر کے آخر کا ر آﺅٹ قرار ہی دے دیا گیااور وہ آﺅٹ بھی بعد کے رِیویو میں متنازعہ رہا۔ بعد میں آنے ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی رہا جسکی وجہ سے آخر کا ر ویسٹ انڈیز کو 15رنز کی شکست سے اس میچ سے ہاتھ دھونے پڑے۔

ہار جیت ہو گئی لیکن کرکٹ کے مداح و شائقین کتنے دِل برداشتہ ہوئے۔اسکا ردِعمل سوشل میڈیا پر پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اِ ن حالات میں آئی سی سی کو فوراً ایکشن لینا چاہیئے تاکہ ورلڈ کپ میں مزید بد مزگی نہ ہو۔ چاہے متنازعہ اشتہار بازی ہو یا متنازعہ امپائرنگ اور چاہے کسی بھی متعلقہ ادارے اور کھلاڑی کا رویہ۔ ورلڈ کرکٹ کپ کو شاندار بنانے کی آخری ذمہدار ی آئی سی سی کی ہے جس نے ماضی میں بھی بہترین عالمی کرکٹ کپ منعقد کروائے ہیں۔ آئیں کھیلتے ہیں اور دیکھتے ہیں !

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments