ریسلنگ کا اکھاڑا سجنے کوہے تیار

International Wrestlers Coming To Pakistan

28اپریل کو ڈریم ورلڈ ریزورٹ میں منعقد ہونےوالا”رمبل ان پاکستان“ایونٹ دنیاپرثابت کر ےگا کہ پاکستان کھلاڑیوں اور کھیلوں کے انعقاد کے لیے ایک محفوظ ملک بھی ہے

اتوار اپریل

International Wrestlers Coming To Pakistan
(تحریر:ذوالفقار قریشی)ریسلنگ کا کھیل دنیا کے قدیم ترین کھیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔2400قبل مسیح سے شروع ہونے والے اس کھیل نے عوام الناس میں اپنی مقبولیت کی بدولت776 قبل مسیح کے قدیم اولمپکس میں بھی اپنی جگہ بنائی تھی۔ دنیا بھر میں ریسلنگ بے شمار اسٹائلز کے ساتھ لڑی جاتی ہے لیکن موجودہ دور میں فری اسٹائل ریسلنگ کے دیوانے دنیا بھر میں موجودہیں۔

پاکستان میں ریسلنگ کی تاریخ کافی پرانی ہے پنجاب میں اس کو اگر کشتی کے نام سے جانا جاتا ہے تو سندھ میں یہ ملاکہڑو کے نام سے موسوم ہے۔آج سے چار دہائیوں قبل 1976 میں جب فخر پاکستان اکرم عرف اکی پہلوان نے جاپان کے نامور ریسلر انوتو نیو انوکی کو چیلنج کیا تو انوکی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں اس کا سامنا نہ صرف اکرم پہلوان سے ہی نہیں بلکہ اس مقابلے کو دیکھنے کے لیے آنے والے 50ہزار سے زائدریسلنگ کے شائقین سے بھی ہوگا۔

(جاری ہے)

انوکی نے جب کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں قدم رکھا تو ان کی حیر ت کی انتہا نہ رہی کہ ریسلنگ کے دیوانے ہر سمت موجود تھے۔ گو کہ یہ مقابلہ انوکی نے جیت لیا تھا لیکن آج بھی انوکی کی کلائی پر اکرم پہلوان کی جانب سے دیے گئے زخم موجود ہیں۔ بعدازاں انوکی نے اسلام قبول کرکے اپنا نام محمد حسین انوکی رکھ لیا تھا۔ چار دہائیوں قبل ہونے والے اس عظیم الشان مقابلے کے بعد پاکستان اور پاکستانیوں نے نہ تو پھر کبھی ایسا ریسلر دیکھا اور نہ ہی ایسا مقابلہ لیکن بہت جلد پاکستان میں ریسلنگ کے متوالوں کا یہ انتظا ر اب ختم ہونے کو ہے۔

پرو ریسلنگ فیڈریشن پاکستان(PWFP) کراچی میں ڈریم ورلڈ ریزورٹ کے اشتراک سے پاکستان کی فری سٹائل ریسلنگ کی تاریخ کا پہلا عظیم الشان ایونٹ "رمبل ان پاکستان"منعقد کرنے جارہی ہے جہاں امریکا، میکسیکو، پورٹو ریکو اور روس سمیت دنیا بھر سے خطرناک اور مشہور ریسلرز پاکستانی ریسلرز کے ساتھ رنگ میں اپنے جوہر دیکھائیں گے۔ پاکستانی فینز اب تک اپنے ٹی اسکرینز پر ایسی فائٹس دیکھتے آئے تھے لیکن اس ایونٹ میں شائقین براہ راست لوہے کے پنجرے میں ہونے والی یہ فائٹس دیکھیں گے اور لطف اٹھائیں گے۔

ڈریم ورلڈ ریزورٹ میں اس میگا ایونٹ کی پریس کانفرنس میں تفصیلات بتاتے ہوئے پرو ریسلنگ فیڈریشن پاکستان کے صدر نعمان سلیمان نے کہا کہ" رمبل ان پاکستان " ہمارا پہلا میگا ایونٹ ہے اورریسلنگ کے متوالوں کے لیے ہم مزید ایسے ایونٹس منعقد کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ نہ صرف پاکستان میں ریسلنگ کے ا حیاءکے لیے ایسے ایونٹس بہت ضروری ہیں بلکہ اس طرح کے ایونٹس سے پاکستانی ریسلرز کو بین القوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے ضروری ایکپوڑر بھی حاصل ہوگا۔

ڈریم ورلڈ ریزورٹ کے جی ایم مارکیٹنگ فرازالہدیٰ نے "رمبل ان پاکستان " کو پاکستانی شائقین کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں موجود ریسلنگ کے متوالوں کے لیے ایک شاندار ایونٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایونٹ نہ صرف پاکستان میں بین القوامی اسپورٹس ایونٹس کی بحالی کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا بلکہ اس سے پاکستان میں سیاحت کے فروغ میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔

فرازالہدیٰ نے ایونٹ میں فاتح کے لیے قیمتی بیلٹ کے علاوہ 1ملین روپے کی خطیر انعامی رقم کا بھی اعلان کیا۔ " رمبل ان پاکستان " کی لانچنگ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے زینتھ پبلک ریلیشنز کی گروپ ڈائریکٹر رابعہ افتخار نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ پی ایس ایل کی طرح یہ ایونٹ بھی نہ صرف پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ اس سے مستقبل میں ہمارے کھیلوں کے شائقین کے لیے مزید ایسے بین القوامی ایوانٹس کی راہ ہموار ہوگی۔

اس موقع پرپرو ریسلنگ فیڈریشن پاکستان کے کامران مغل سمیت متعدد پاکستانی ریسلرز نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر شاندار بیلٹ کی نقاب کشائی کی گئی جبکہ پی ڈبلیو ایف پی اور ڈریم ورلڈ ریزورٹ کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ 28اپریل کو پی ڈبلیو ایف پی کی جانب سے ڈریم ورلڈ ریزورٹ میں منعقد ہونے والا 'رمبل ان پاکستان"ایونٹ جہاں پاکستان میں بین القوامی کھیلوں کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہوگا وہیں دنیاپریہ ثابت بھی کر دے گا کہ پاکستان نہ صرف بین القوامی مقابلے بہترین انداز میں منعقد کرنے کی اہلیت رکھتا ہے بلکہ کھلاڑیوں اور کھیلوں کے انعقاد کے لیے ایک محفوظ ملک بھی ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments