زمبابوے کے دورہ پاکستان کی تصدیق، انتظار کی گھڑیاں ختم

Intezar Ki Ghariyaan Khatam

ٹکٹوں کی فروخت آج سے شروع، مہمان ٹیم کو فول پروف سکیورٹی دیں گے:چیئرمین پی سی بی

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری ہفتہ مئی

Intezar Ki Ghariyaan Khatam

پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششیں رنگ لے آئیں اورآخرکار زمبابوین کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنے پر راضی ہوگیا ہے، پی سی بی ترجمان امجد حسین کے مطابق زمبابوین کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنے کیلئے تحریر طور پر آگاہ کردیا جس سے غیریقینی کی صورتحال ختم ہوگئی ہے۔ جمعرات کے روز ایک وقت ایسا آیا تھا جب اس بات کاشور مچا کہ زمبابوے کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کو بھیجنے سے انکار کردیا، اس خبر نے ہرطرف ہلچل مچا دی اور پی سی بی میں اس خبر کے بعد ایک سکوت سے طاری ہوگیا لیکن شہریار خان نے زمبابوین بورڈ کے صدر کو فون کرکے دوبارہ فیصلے پر نظرثانی کرنے کی درخواست کی جس پر زمبابوین بورڈ اپنی حکومت کو منانے پر راضی ہوگیا۔ جمعہ کو سہ پہرتین بجے چیئرمین پی سی بی شہریار خان میڈیا کے سامنے دوبارہ نمودار ہوئے اور اطلاع دی کہ زمبابوین ٹیم شیڈول کے مطابق پاکستان کا دورہ کریگی اور اس دورے سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے راہموار ہوگی۔

(جاری ہے)

زمبابوین بورڈ حکام کو ان کی حکومت نے مشورہ دیا کہ کراچی میں صفورا واقعہ کے بعد ٹیم کو نہ بھیجا جائے لیکن لاہور پولیس پرعزم ہے کہ وہ مہمان ٹیم کو فول پروف سکیورٹی دے گی اور کسی بھی قیمت پر سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، پنجاب پولیس کے حوصلے اور عزم دیکھ کر چیئرمین پی سی بی نے زمبابوین ٹیم کو دعوت دی اور وہ اب آنے پرراضی ہوگئے ہیں۔ شیڈول کے مطابق زمبابوین ٹیم 19مئی کو پیر اور منگل کی درمیانی شب رات دو بجے لاہور پہنچے گی جہاں انہیں سخت سکیورٹی حصار میں ہوٹل لے جایا جائیگا۔
دورہ پاکستان کے لئے زمبابوین سلیکٹرز نے 16 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا جب کہ محدود اوورز کی سیریز کے لئے 4 سال بعد چارلس کووینٹری کو بھی سکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔زمبابوے کی جانب سے ایلٹن چکمبورا ٹیم کی قیادت کریں گے جب کہ 4 سال تک ون ڈے ٹیم کا حصہ نہ بننے والے چارس کووینٹری کو ٹی ٹونٹی میچز کے لئے 16 رکنی سکواڈ کا حصہ بنالیا گیا ہے۔زمبابوے ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں میں سکندر رضا بٹ، ہیملٹن مساکدزا،برین ویٹوری، سین ولیمسن، چامونروا چیباہا، گریم کیرمر، کریگ ایرون، رائے کائی، کرسٹوفر فویو، تاوندا موپاریوا، رچمنڈ موتمبامی، تیناش پنیاگارا، وسومزی سبندا اور پروسپر یوسیا شامل ہیں۔
یہ بات سچ ہے کہ زمبابوین کرکٹ ٹیم اگر پاکستان ککے دورے پر آرہی ہے تو اس کے پیچھے ڈالرز کا بھی عمل دخل موجود ہے۔ کرکٹ بورڈ سرکاری سطح پر چاہے لاکھ انکار کرے لیکن ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پی سی بی نے زمبابوے کرکٹ ٹیم کے سفری اخراجات برداشت کرنے کے ساتھ ان کے پلیئرز کی میچ فیس بھی ادا کرنے کا یقین دلایا ہے۔الیسٹر کیمبل کی سربراہی میں آنیوالی سکیورٹی ٹیم کو نے جب پاکستان کو سکیورٹی کیلئے کلیئر کیا تو زمبابوے کرکٹ بورڈ نے پی سی بی سے بھاری رقم کا بھی مطالبہ کیا کیونکہ زمبابوے کرکٹ ان دنوں سخت مالی بحران کا شکار ہے، اس کے پاس پلیئرز کو معاوضے دینے کیلئے رقم موجود نہیں۔گزشتہ ہفتے یہ خبراخبارات کی زینت بنی تھی کہ ورلڈکپ میں شرکت پر کپتان برینڈن ٹیلر کو صرف 250ڈالر (25ہزار پاکستانی روپے) معاوضہ دیا گیا تھا، پاکستان کے کھلاڑیوں کو اس سے زائد یومیہ الاوٴنس ملتا ہے۔ اس لیے پی سی بی نے مہمان کھلاڑیوں کی میچ فیس بھی ادا کرنے کی حامی بھری ہے اور زمبابوین بورڈ کو بھی کرکٹ بورڈ پیسہ دے گا۔ اگر سیریز کی آمدن کے حوالے سے بات کی جائے تو اس سیریز سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو لگ بھگ چاڑھے تین کروڑ روپے کی آمدن ہوگی جبکہ سات کروڑ سے زائد کے اخراجات متوقع ہیں جس سے واضح ظاہرہوتا ہے کہ مالی اعتبار سے پی سی بی کیلئے یہ سیریز گھاٹے کا سودا ہے لیکن چونکہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند پڑے ہیں ، انہیں کھولنے کیلئے اور ایک نئی صبح کے آغاز کیلئے کرکٹ بورڈ کو یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا جوکہ خوش آئند ہے۔ زمبابوے کرکٹ ٹیم کے آنے سے پاکستان کرکٹ پر اثرات مرتب ہوں یا نہ ہوں لیکن اس کا ایک ہی فائدہ ہوگا کہ پی سی بی کسی بھی ٹیم کو دعوت دینے سے قبل فخر کے ساتھ یہ کہہ سکے گا کہ ہم نے زمبابوے کیخلاف پانچ انٹرنیشنل میچز اپنی سرزمین پر کھیلے ہیں جس سے ثابت ہوگیا کہ سکیورٹی ایشوز نہیں ہیں، اس دورے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا کیس مضبوط ہوگا اور ویسے بھی یہ دورہ سکیورٹی اداروں کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس چیلنج کو مکمل کرنے کیلئے آنکھیں کھلی رکھنا ہونگی اور ذرا بھر بھی غفلت کی گنجائش نہیں ہوگی۔ زمبابوے کرکٹ ٹیم کو پاکستان آنے کیلئے راضی کرنے میں جہاں پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان کا کلیدی کردار ہے وہیں سابق پاکستانی ٹیم کوچ ڈیو واٹمور جو کہ اب زمبابوے کرکٹ ٹیم کے کوچ ہیں کا بھی عمل دخل موجود ہے۔واٹمور دو سال تک پاکستان کے کوچ رہے اور ان دونوں سکیورٹی مسائل بھی زیادہ تھے لیکن اس کے باوجود واٹمور نے حق ادا کیا اور اپنے بورڈ اور ٹیم کو راضی کیا کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں۔ زمبابوے بورڈ حکام کی جانب سے تصدیق کی ای میل کے بعد پی سی بی حکام کے چہرے دمک اٹھے ہیں، اس دورے سے پاکستان کرکٹ کا مستقبل جڑا ہے ، یہ بات مان لیتے ہیں کہ اس دورے کو بہت بڑی کامیابی تو نہیں کہہ سکتے مگر طویل سفر کی جانب پہلا قدم ضرور ہے،سری لنکن ٹیم پر حملے سے پہلے بھی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ یا انگلینڈ جیسی ٹیمیں پاکستان نہیں آرہی تھیں اب بھی اگلے چند برس تک اس کا کوئی امکان نہیں ہے، البتہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کو قائل کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ زمبابوین ٹیم یہاں کامیاب سیریز کھیل کر واپس جائے۔
زمبابوے کیخلاف ہوم سیریز کیلئے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے انتخاب پر بحث شروع ہوگئی ہے، ون ڈے سیریز میں احمد شہزاد کی شمولیت متوقع ہے اور شاید عمراکمل بھی سکواڈ کا حصہ بن جائیں کیونکہ فی الحال یہ دونوں کھلاڑی اپنے رویے کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہیں، قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ ہارون رشید نے ساتھی سلیکٹرز کیساتھ ملکر زمبابوے کیخلاف سیریز میں ٹی ٹونٹی اورون ڈے سکواڈز کیلیے ممکنہ پلیئرزکی ابتدائی فہرست تیار کرلی، ڈومیسٹک ایونٹ کے دوران فارم کے ساتھ فٹنس پر خصوصی توجہ دی جائے گی،ا?ئندہ سال بھارت میں شیڈول ورلڈ ٹوئنٹی 20 کیلیے نوجوان کرکٹرزکا ڈیٹا بھی مرتب کیا جائے گا۔
منتخب کھلاڑیوں کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تربیت اور مثالی فٹنس کیلئے کام کیا جائے گا۔ سیالکوٹ سٹالینز کے کپتان شعیب ملک نے پیر کو پشاور پینتھرز کیخلاف 49 گیندوں پر 95رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر زمبابوے کیخلاف سیریز کے لیے اپنا کیس مضبوط کرلیا۔ سلیکشن کمیٹی کو زمبابوے کو کمزور حریف نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ قومی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف شکست کھا کر بری طرح ایکسپوز ہوئی لیکن یہ کہنا غیرمناسب ہوگاکہ زمبابوے کمزور ٹیم ہے، ون ڈے سیریز میں زمبابوین دسویں اور پاکستانی ٹیم نویں نمبر ر موجود ہے اس لیے سخت اور دلچسپ مقابلے متوقع ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments