”عراق ایشین فٹبال کپ کا نیا چیمپئن بن گیا“

Iraq Asian Football Cup Champion

جنگ ، بارود، بم دھماکے اور غاصب اتحادی افواج بھی فٹبال کا قتل عام نہ کرسکی ایونٹ میں فتح نے شیعہ سنی اور دوست دشمن کا فرق مٹادیا

بدھ 1 اگست 2007

اعجاز وسیم باکھری: کہتے ہیں کہ خوشی اگر چند لمحوں کی بھی ہو تو اس کا کوئی مداوا نہیں۔عراق عرصہ دراز سے جنگ وجدل میں پھنساہوا ہے اور ہر روز ہونے والے اچانک بم دھماکوں سے عراقی عوام کے بے گناہ خون سے سڑکیں لال ہوچکی ہیں ماؤں کے جوان بیٹے گھر سے خیریت سے نکلتے ہیں لیکن ان کی واپسی” شہید“ کی حیثیت سے ہوتی ہے امریکی حکومت کی دادا گری نے پورے ملک کو اپنے لپیٹ میں لے رکھا ہے اور آئے روز ہونے والی خون ریزی سے پورا عراق قیامت صغریٰ کا منظر پیش کررہا ہے۔

جب سے امریکہ نے عراق پر چڑھائی کی ہے اس دن سے لیکر آج دن تک ہرروز بلاناغہ سینکڑوں بے گناہ لوگ اپنی زندگی کی بازی ہارچکے ہیں اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی شدت میں بھی تیزی پیدا ہورہی ہے۔صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد آج دن تک عراقی عوام سکون سے نہیں سو سکے اور ایک لامحدود قتل عام کی سلسلہ جاری ہے جس کے تھم جانے کے دور دور تک اثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

(جاری ہے)

پورا عراق اس وقت افرا تفری کے عالم میں زندگی بسر کررہا ہے اور کسی ایک شخص کی جان محفوظ نہیں ہے امریکہ نے عراق پر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا الزام لگا کر چڑھائی کی تھی لیکن آج چار سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی کوئی ایک ایٹمی ہتھیار نہیں مل سکا اور قسمت نے اب امریکہ کو عراق جنگ کی دلدل میں ایسا پھنسا دیا ہے کہ جس سے امریکہ کا نکلنا نا ممکن ہو چکا ہے۔

ایسی صورت حال میں جہاں ہرطرف سے گولیوں کی ترتراہٹ اوردل دہلا دینے والے بم دھماکوں کے آوازیں نیندمیں بھی سنائی دیتی ہوں، اگر چند لمحے خوشی کے میسر آجائیں تو اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں ہوسکتی اور عراقی عوام کیلئے اس مختصرسی خوشی کا لمحہ اس وقت آیا جب عراق نے سیمی فائنل میں مضبوط حریف کوریا کو مات دیکر ایشین فٹبال کپ کے فائنل کیلئے کوالیفائی کیا اور اس خوشی کا ٹھکانہ اس وقت نہ رہا جب عراق نے انڈونیشیا کے درالحکومت جکارتہ میں سعودی عرب کو فیصلہ کن معرکہ میں شکست دیکر تاریخ میں پہلی بار ایشین فٹبال کپ کا ٹائٹل عراقی عوام کی جھولی میں ڈالا۔

فیصلہ کن معرکے میں عراقی کپتان یونس محمود نے میچ کا واحد گول سکور کیا اور سعودی عرب کو ایک صفر سے شکست دی اس تاریخی فتح کے ساتھ ہی پورا عراق خوشی سے جھوم اٹھا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے ۔سیکورٹی خدشات کی وجہ سے بغداد کی سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت پر سیمی فائنل میں فتح کے بعد ہی پابندی عائد کردی گئی تھی کیونکہ سیمی فائنل میں فتح کے بعد جیت کا جشن مناتے ہوئے 51عراقی بم دھماکوں کا شکار ہوکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے اس سانحہ کے باوجود ٹائٹل جیتنے کی خوشی میں عراقی نوجوان ساری رات سڑکوں پر فتح کا جشن مناتے رہے۔

عراق کی فتح سے یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی کہ جیت کی خوشی نے شیعہ سنی اور دوست دشمن کا فرق مٹا دیا۔ ایشین کپ میں فتح حاصل کرنے کے بعد عراقی کپتان یونس محمود جوکہ آجکل قطر میں رہائش پذیر ہیں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا کی دیگر ٹیموں کی طرح اپنے پرجوش ہم وطنوں کے ساتھ بغداد کی گلیوں میں ٹرافی اٹھاکر جشن منانا چاہتے ہیں لیکن سب سے بڑا سوال یہ پید ا ہورہا ہے کہ ”ہماری حفاظت کون کریگا“ ؟۔

یونس نے کہا کہ عراق میں اس وقت خونریزی کی لہر جاری ہے اور کسی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کس نے مارا ہے ایسے میں ہمارا کسی ٹرالے پر چڑھ کر سنٹرل بغداد میں فتح کا جشن منانا خطرے سے خالی نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم بظاہرنسلوں اورفقوں میں تقسیم نظر آتے ہیں لیکن ایشیا کپ میں ہماری فتح نے شیعہ سنی کا فرق مٹا دیا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران جنگ زدہ ملک کی فٹبال ٹیم کے کپتان نے ایک انتہائی دل خراش واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ کوریا کے خلاف سیمی فائنل میں فتح کے بعد بغداد شہرمیں51لوگ مارے گئے ان میں ایک بارہ کا لڑکا بھی تھا جب اس کی میت اس کی ماں کے سامنے لائی گئی اور یہ بتایا گیا کہ آپ کا بیٹا عراقی فٹبال ٹیم کی فتح کا جشن مناتے ہوئے اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھا تو اس ماں نے انتہائی صبر آزما لہجے میں کہا کہ ”میں عراق کی قومی فٹبال ٹیم کی فتح پر اپنے بیٹے کی قربانی پیش کرتی ہوں“یونس نے انتہائی افسردگی کے عالم میں کہا کہ جب ہمیں اس بات کی خبر ہوئی تو ہماری پوری ٹیم نے یہ عہد کیا کو فتح کیلئے جان تک لڑا دیں گے اور ہرحال میں فتح حاصل کرینگے اور ہم نے ایسا ہی کیا۔

اس بات میں کئی شک نہیں کہ عراقی نوجوان تمام تر شعبوں میں انتہائی باصلاحیت ہیں اور موقع ملنے پر اپنی اہلیت بھی ثابت کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے گرشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی نے عراق میں قیامت سے پہلے قیامت برپاکررکھی ہے اور آئے روز بے گناہ نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی عراق میں امن اور سلامتی قائم کرے اور اسے ایک حقیقی اسلامی ریاست بنائے…آمین۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments