کراچی ٹیسٹ تیسراروز،یونس خان ڈٹ گئے

Karachi Test 3rd Day Result

کپتان کی قائدانہ اننگز کی بدولت قومی ٹیم ٹیسٹ بچانے کی پوزیشن میں آگئی من مانی کا دور عروج پر ،باصلاحیت فاسٹ باؤلرز کی کھیپ کے باوجود” سفارشیوں“ پر کیونکر انحصار کیا جارہاہے؟؟

منگل 24 فروری 2009

اعجازوسیم باکھری: کراچی ٹیسٹ کے تین دن مکمل ہوگئے ہیں اور تیسرے دن کے اختتام پر آکر محسوس ہوا کہ پاکستانی ٹیم بہترکھیل پیش کررہی ہے۔اگر یوں کہاجا ئے تو زیادہ اچھا ہوگا کہ کراچی ٹیسٹ کے پہلے دو دن سری لنکن ٹیم کے نام رہے اور تیسرا دن پاکستان کے نام رہا ۔کل تیسرے روز کے اختتام پر پاکستان نے سری لنکا کی پہلی اننگز 644رنز کے جواب میں تین وکٹوں پر 296رنز بنا لیے ۔

یونس خان نے قائدانہ اننگز کھیلتے ہوئے 149رنز بنالیے ہیں اور کل کھیل کے اختتا م پر وکٹ پر موجود تھے۔یونس خان نے انتہائی ذمہ داری کیساتھ کھیل پیش کیا اور سابق کپتان شعیب ملک اور مصباح الحق نے ان کا بھر پور ساتھ دیا اور غیر متوقع طور پر کراچی ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کی صرف دو وکٹیں ہی گریں جس سے اس بات کا یقین ہوگیا کہ نیشنل سٹیڈیم کی وکٹ انتہائی ڈیڈ پچ ہے اور پی سی بی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث دونوں ٹیموں کی پانچ دن کی محنت ضائع ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ میچ بظاہر ڈرا کی جانب جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

بہرحال میچ کا نتیجہ جو بھی نکلے لیکن کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ وہ ڈیڈ وکٹیں بنانے سے گریز کرے کیونکہ پاکستان میں کرکٹ پہلے سے ہی بحران کا شکار ہے اور اوپر سے بے مزہ میچز سے نہ صرف کھلاڑیوں کا مورال ڈاؤن ہوگا بلکہ شائقین کرکٹ سٹیڈیمز کا رخ کرنابھی چھوڑ جائیں گے۔ کراچی ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی سلیکشن کے بارے میں تاحال سوالات اور انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ چیف سلیکٹر عبدالقادر اپنی مرضی کی ٹیم کھلانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے چار سال کی طویل مدت کے بعد مڈل آرڈر بلے باز عاصم کمال سمیت نوجوان اوپنر احمد شہزاد کو سکواڈ میں شامل کیا لیکن کپتان یونس خان نے ان کھلاڑیوں کو پہلے ٹیسٹ میں میدان میں اتارنے سے گریز کیا کیونکہ یونس خان نے اس شرط پر کپتانی قبول کی تھی کہ گراؤنڈ میں اتارے جانے والے 11کھلاڑیوں کا انتخاب وہ خود کرینگے یہی وجہ ہے کہ یونس خان نے احمد شہزاد اور عاصم کمال کو میچ نہیں کھیلنے دیا۔

دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عبدالقادر اور یونس خان کے درمیان شدید اختلافات بھڑک اٹھے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قومی ٹیم پہلے ٹیسٹ میں بری طرح پٹ گئی کیونکہ یونس اور قادراپنی اپنی مرضی کرنا چاہ رہے جس سے ٹیم کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں فیورٹ از م کی خاطر لوگ اس حد تک پرسنل ہوجاتے ہیں کہ اپنی ذمہ داری بھول کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے سرتوڑ کوششیں کرتے ہیں ۔

بدقسمتی سے ہمار ے ہاں ہر شعبے میں غیرذمہ داری کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے اوراس قدر لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ ایک لمحے کیلئے بھی یہ احساس نہیں کیا جاتا کہ وہ کتنی اہم ذمہ داری پر ہیں لیکن مجال ہے کہ کبھی کسی نے خلوص نیت سے کام کیا ہو۔اگر کوئی خلوص نیت سے کام کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو ”اوپر“کی مجبوریاں ایسا نہیں کرنے دیتیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا نظام اس حد تک بگڑچکا ہے کہ جس کو درست ہونے میں کئی دہائیوں کی ضرورت ہے۔

اگر کوئی شخص میرٹ کے ساتھ مذاق کرنا،غیرذمہ داری کا مظاہرہ،ذاتی انا اور فیورٹ ازم کی حکمرانی دیکھنا چاہتا ہے تو اسے یہ تمام چیزیں پاکستان کرکٹ بورڈ میں مل سکتی ہیں۔نسیم اشرف رخصت ہوئے تو امید کی جارہی تھی کہ اب کرکٹرز بورڈ کو چلانے آئے ہیں اور ان لوگوں کی آمد سے حالات میں بہتری آجائے گی لیکن گزشتہ چار ماہ میں کرکٹ بورڈ میں جوکچھ بھی کیا گیا یا جس طرح کے فیصلے کیے گئے ان سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ پی سی بی پر آج بھی آمریت کا سایہ ہے۔

پی سی بی کی نئی انتظامیہ کے دورمیں یہ پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلی جارہی ہے جہاں ناانصافی کے ریکارڈ توڑ دیئے گئے ہیں۔میں یہ بات مکمل ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ کراچی کی ڈیڈ وکٹ کے باوجو د ٹیم میں اگر سہیل تنویر اور عبدالرؤف کو شامل کیا جاتاتوجے وردھنے اور سماراویرا کبھی بھی پاکستان کے خلاف ڈبل سنچریاں سکور نہ کرتے اور نہ دونوں کے درمیان ریکارڈ پارٹنرشپ قائم ہوتی اور نہ ہی سری لنکن ٹیم 644رنز کے مجموعے تک پہنچتی۔

دونوں ایک طویل عرصے سے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارم کررہے ہیں اور حالیہ قائداعظم ٹرافی کے میچز میں رؤف اور سہیل تنویر نے ایک ایک اننگز میں سات سات وکٹیں حاصل کیں ہیں نجانے چیف سلیکٹرکو سہیل خان اوریاسر عرفات میں ایسا کیا نظر آیا کہ انہوں نے رؤف اور سہیل تنویر کو نظر انداز کرکے نااہل باؤلرزپر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا۔اگر سہیل خان اور یاسر عرفات عمدہ کھیل پیش کرتے تو تب بھی وہ سہیل تنویر اور عبدالرؤف کی جگہ نہیں لے سکتے تھے کیونکہ سہیل تنویر اور عبدالرؤف وسیع تجربے کے مالک ہیں اور ان میں طویل سپیل کرانے کی اہلیت موجود ہے اور عمرگل اور دانش کنیریا کے ساتھ ملکر یہ دونوں پاکستان کو کامیابی دلاسکتے ہیں مگردکھ اس بات کا ہے کہ ایسے فیصلے کیے جارہے ہیں جوبجائے بہتری پیدا کرنے کے مزید نقصان پہنچارہے ہیں۔

کراچی ٹیسٹ کے حوالے سے بات کی جائے تو کل کا دن پاکستان کے نام رہا اور وکٹ کی کنڈیشن دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ میچ ہار جیت کے بغیر ختم ہو جائیگا مگر اب بھی پاکستان کو فالوآن سے بچنے کیلئے 149رنز کی ضرورت ہے تاہم جس محتاط انداز میں یونس خان اور مصباح الحق بیٹنگ کررہے ہیں توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان فالوآن کی خفت سے بچ نکلنے میں سرخرو ہوجائیگا۔

تاہم مرلی دھرن اور مینڈس کی موجودگی میں قومی بلے بازوں کو صبر اور تحمل کے ساتھ کھیل پیش کرنا ہوگا کیونکہ قومی ٹیم کسی بھی صورت میں یہ ٹیسٹ نہیں جیت سکتی البتہ سری لنکا کے جیتنے کے امکانات اب بھی موجود ہیں لہذا پاکستانی بیٹسمینوں کو ذمہ داری کے ساتھ کھیلنے کے تسلسل کو جاری رکھنا چاہئے تاکہ سری لنکن ٹیم کو برتری حاصل کرنے سے روکا جاسکے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments