ناک آؤٹ مقابلوں کا خوف بھارتی ٹیم کو لے ڈوبا

Knock Out Muqabloon Ka Khoof Baharti Team Ko Ley Doba

اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں ورلڈ کلاس کرکٹ کھیلی اور ایک دن منفی کرکٹ کھیل کر چار سال کی محنت پر پانی پھیر دیا۔

ساجد عزیز جمعرات جولائی

Knock Out Muqabloon Ka Khoof Baharti Team Ko Ley Doba
کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں دفاعی حکمت عملی میں تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کی کرکٹ کہاوت میں ایک ہمیشہ وہ دہراتے رہتے ہیں کہ اس کھیل میں ہمیشہ وہی ٹیم کامیاب ہوتی ہے جو جیت کے یقین پر کھیلتی ہے، وہ ٹیم کبھی کامیاب نہیں ہوتی جو شکست سے بچنے کیلئے کھیلتی ہے۔ اس ورلڈ کپ میں عمران خان کی یہ کہاوت پھر درست ثابت ہوئی، پہلے پاکستان ٹیم بھی شکست سے بچنے کی کوشش میں ورلڈ کپ سیمی فائنل تک رسائی میں ناکام رہی اور پھر سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کیخلاف بھارتی ٹیم بھی شکست سے بچنے کی کوشش میں شکست کی کھائی میں گر گئی۔

کرکٹ میدان میں مثبت سوچ ہمیشہ کامیابی دلاتی ہے، غیر ضروری محتاط رویہ ہمیشہ نقصان پہنچاتا ہے اور یہی کچھ بھارتی ٹیم کے ساتھ یہاں مانچسٹر میں ہوا۔

(جاری ہے)

ایک ایسی ٹیم جو ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل بھی فیورٹ تھی اور سیمی فائنل معرکے میں 240 رنز کے ہدف کا تعاقب شروع کرتے وقت پہلے اوور تک بھی فیورٹ تھی، یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ بہترین بیٹنگ اور بیٹنگ میں لگاتار تسلسل کا مظاہرہ کرنا اور کوالٹی باؤلنگ کی بدولت بھارتی ٹیم میگاایونٹ میں فیورٹ تھی لیکن جیسے 240 رنز کے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو ٹورنامنٹ میں پانچ سنچریاں سکور کرنے میں روہیت شرما آؤٹ ہوئے تو پوری بھارتی ٹیم غیر ضروری محتاط میں پڑ گئی اور یہ محتاط رویہ اور دفاعی حکمت عملی نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن بھانپ گئے اور انہوں نے اپنے باؤلرز کو بھی اس سے آگاہ کیا تو پھر دیکھتے ہی دیکھتے بڑے بڑے برج ایک بعد ایک کرکے الٹنا شروع ہوئے اور صرف پانچ رنز پر بھارت کے تین اہم ستون روہیت ، کوہلی، اور راہول پویلین جا پہنچے۔

ان تینوں کے آؤٹ ہونے کے بعد دنیش کارتھک اور ہارڈیک پانڈیا نے بھی اپنی نچرل کرکٹ کھیلنے کی بجائے دفاعی حکمت عملی کا انتخاب کیا حالانکہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ مشترکہ سیریز ہوں یا آئی پی ایل کارتک اور پانڈیا حریف ٹیموں کیلئے مصیبت کھڑی کردیتے ہیں لیکن منفی سوچ دونوں پر غالب آگئی اور شاید ہیڈ کوچ روی شاستری بھی ایشین سٹائل میں 240 رنز کا ہدف پورا کروانا چاہتے تھے کہ وکٹ بچاؤ اور پورے اوور کھیلو سکور خود بخود پورا ہوجائیگا اور ولیمسن یہ بھانپ چکے تھے لہذا اس نے اٹیکنگ حکمت عملی برقرار رکھی اور جذبات پر قابو رکھا اور کارتک اور پانڈیا کو بھی پویلین بھیج دیا، پانت کھیلنے آئے مگر نوجوان ہونے کے ناطے زیادہ تجربہ نہیں رکھتے تھے تو وہ بھی جلد کیویز کے ہتھے چڑھ گئے۔

دھونی نے ایک اینڈ سے دفاع کیا تو رونیدر جدیجا نے مثبت اور دلیری کیساتھ کھیلا، شاید وہ پلان سے ہٹ کر کھیل رہے تھے اس لیے وہ چار چکے لگانے میں بھی کامیاب رہے اور میچ کو بھارت کے حق میں لے آئے لیکن کیویز باؤلرز، کپتان اور فیلڈرز نے ہار نہیں مانی، وہ بھارتی ٹیم کی حکمت عملی اور دفاعی ایشین سٹائل پڑھ چکے تھے لہذا انہوں نے اعصاب پر قابو رکھا اور مارٹن گپٹل جو اس ٹورنامنٹ میں لگاتار فلاپ جارہے تھے مگر ڈریکٹ تھرو سے دھونی کو رن آؤٹ کرکے نہ صرف اپنی ساری ناکامی کا داغ دھو ڈالا بلکہ نیوزی لینڈ کو لگاتار دوسرے ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچا دیا۔

اب نیوزی لینڈ کے پاس پہلا ورلڈ کپ جیتنے کا بہترین موقع ہے مگر کیویز بیٹسمنیوں کو سکور کرنا ہوگا، بھارت جیسی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے سامنے 240 رنز کا ہدف قلیل تھا لیکن منفی سوچ ان کو لے ڈوبی اگر آسٹریلیا یا انگلینڈ جو بھی فائنل میں کیویز کا مقابلہ کریگا نیوزی لینڈ کو بڑا سکور کرنا ہوگا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں ورلڈ کلاس کرکٹ کھیلی اور ایک دن منفی کرکٹ کھیل کر چار سال کی محنت پر پانی پھیر دیا۔

دھونی کا رن آؤٹ ہونا سابق کپتان کو ہمیشہ تکلیف دیتا رہے گا جیسے 1996 کے ورلڈ کپ میں جاوید میانداد اپنی آخری اننگز میں رن آؤٹ ہوگئے اور آج تک ان کیلئے وہ تکلیف دہ ہے۔ بھارتی ٹیم کی شکست پر ٹنڈولکر، سہواگ، اظہرالدین اور کپل دیو نے ٹیم کے بیٹنگ آرڈر پر سوالات اٹھائے جس پر کوہلی کو احساس ہوگیا ہوگا کہ پانڈیا کو دھونی سے پہلے بھیجنے کا فیصلہ غلط تھا مگر یہ کھیل ہے اور کھیل میں رسکی فیصلے کرنا پڑتے ہیں اور پوسٹ میچ پریس کانفرنس میں کوہلی نے اعتراف کیا کہ ابتدائی وکٹیں گرنے کے بعد بھارتی ٹیم پاؤں پر کھڑی نہ ہوسکی اور اس کی بڑی وجہ کیویز کی اچھی کرکٹ تھی۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments