نڈال کی بادشاہت کا خاتمہ ‘نوویک کی حکمرانی قائم

Nadaal Ki Badshahat Khatam

ومبلڈن اوپن 2011ء میں سربین سٹار نے کامیابی حاصل کرکے عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی خواتین سنگل ٹائٹل میں ماریا شراپووا کے خواب چکنا چور ، پیٹرا کویٹوا چیمپئن بن گئیں

جمعہ جولائی

Nadaal Ki Badshahat Khatam
اعجازوسیم باکھری: ومبلڈ ن اوپن 2011ء سربیا کے نوویک جوکووچ اورجمہوریہ چیک کی پیٹرا کویٹوا کے نام رہا۔ دونوں سٹارنہ صرف نامورحریفوں کو شکست دیکر گرینڈ سلم ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہے بلکہ رینکنگ میں کیر ئیر بیسٹ پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ نوویک اس کامیابی کے ساتھ ورلڈنمبر ون بن گئے ہیں جبکہ پیٹرا کویٹوا سابق عالمی نمبر ون فرانسیکا شیوئن کو پیچھے دھکیل کر آٹھویں سے ساتویں نمبر پر آگئی ہیں۔

پیٹرا کویٹوا نے فائنل میں روسی ٹینس سٹار ماریا شراپووا کو 2004ء کے بعد پہلی بار فائنل کیلئے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوئیں تھی کو سٹریٹ سیٹس میں شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کیا ۔ ومبلڈ ن اوپن کے بعد نوویک جوکووچ ، ٹینس کی دنیا کا نیا بادشاہ بن چکا ہے ۔ سربیا کے اس جوشیلے ٹینس سٹار نے بہت کم دنوں میں اپنا لوہا منوایا اور بہت تیزی سے بلندیوں کی جانب سے سفر کیا ، اس دوران کے اس کے راستے میں کئی بڑے بڑے سٹار آئے لیکن نوویک نے ہرمشکل منزل کو اس قدر آسانی سے حاصل کیا کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ پہلے سے طے تھا محض نوویک نے آنا تھا اور آتے ہی چھا جانا تھا۔

(جاری ہے)

پہلے آسٹریلین اوپن اور اب ومبلڈن اوپن میں نوویک نے جس آسانی سے گرینڈسلم ٹائٹل اپنے نام کیا اور لگاتار41میچز میں کامیابی حاصل کی ، اس نے ثابت کیا کہ و ہ عصر حاضر کا بہترین ٹینس پلیئر ہے ۔ حالیہ ومبلڈن اوپن کے فائنل تک نوویک نے 51میں سے 50میچز میں کامیابی حاصل کررکھی ہے اور یہ اعزاز بہت کم ٹینس سٹار ز کو حاصل ہے جنہوں نے 50میچز میں صرف ایک بار شکست کھائی ہو۔

ومبلڈ ن اوپن کے فائنل میں دفاعی چیمپئن رافیل نڈال فیورٹ کی حیثیت سے کورٹ میں اترے لیکن نوویک نے سینٹرکورٹ میں سب دعوے غلط ثابت کردئیے اور ابتدائی دو سیٹ جیتنے کے بعد یہ یقینی ہوگیا تھا کہ نڈال کی بادشاہت کا سورج غروب ہونے والا ہے لیکن سپینش سٹار نے کم بیک کیا اور 6-1سے تیسرا سیٹ اپنے نام کیا مگر چوتھے سیٹ نہ صرف میچ کا آخری سیٹ ثابت ہوا بلکہ بطور نمبر ون رافیل نڈال کا بھی آخری سیٹ ثابت ہوا۔

ومبلڈ ن ٹائٹل جیت کر نہ صرف نوویک ”ٹینس کنگ“بن گئے بلکہ کیرئیر میں پہلی بار عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر بھی فائز ہوگئے۔ ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ دنیا کا قدیم ترین ٹینس ٹورنامنٹ ہے جو ہرسال جون آخری عشرے میں شروع ہوکر جولائی کے پہلے ہفتے کے اختتام پذیر ہوتا ہے۔ومبلڈن اوپن میں دنیا بھر کے ٹینس سٹار اور ٹینس کا شہزادیاں اپنے جوہر دکھاتی ہیں اور سمر کی چھٹیوں کی وجہ سے ٹینس کے دلدادہ لندن کا رخ کرتے ہیں اور ومبلڈن اوپن کے دنوں میں لندن میں سفید پینٹ کورٹ میں ملبوس افراد کا ہجوم لگارہتا ہے۔

ومبلڈن اوپن کی خاص یہ ہے کہ تقربیاً دنیا کے تمام بڑے سٹارز نے اس ٹورنامنٹ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا کیونکہ یہ واحدگرینڈ سلم ٹورنامنٹ ہے جہاں عمدہ صلاحیتوں کے مالک کھلاڑیوں کو وائلڈکارڈپر انٹری دی جاتی ہے۔ومبلڈن اوپن کی ایک او ر خاص بات یہ ہے کہ یہاں کھلاڑیوں کو سفید یونیفارم پہن کر کھیلنا پڑتا ہے اور یہ واحد ٹینس کا ایونٹ ہے جہاں پلیئرز کیلئے مخصوص لباس اور کلر کی اجازت ہوتی ہے۔

ومبلڈن ٹینس چیمپئن شپ کی تاریخی کافی پرانی ہے ۔1877ء میں قائم ہونیوالے آل انگلینڈ ٹینس کلب نے ومبلڈن چیمپئن شپ کی داغ بیل ڈالی ،ومبلڈن کے پہلے فاتح برطانوی کھلاڑی سپنسر گورے تھے جنہوں نے ولیم مارشل کو شکست دی ۔ولیم رینشا اور امریکی ٹینس سٹار پیٹ سمراس صرف دو کھلاڑی ہیں جنہوں نے سات سات بار ومبلڈن میں گرینڈ سلم ٹائٹل جیتا جبکہ سابق عالمی نمبر ون سوئس سٹار راجرفیڈرر اور سوئیڈن کے بورن برگ دو واحد کھلاڑی ہیں جنہیں لگاتار پانچ سال مسلسل 5 ومبلڈ ن ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل ہے مجموعی طو پر فیڈرر نے 6بار گراس کورٹ پر گرینڈ سلم جیتا۔

ومبلڈن اوپن میں ہرسال سنگل مقابلوں کیلئے 128کھلاڑی شرکت کرتے ہیں جبکہ 13دن تک جاری رہنے والا ٹورنامنٹ 19کورٹ پر کھیلا جاتا ہے ۔ومبلڈن سال کا واحد گرینڈ سلم ٹورنامنٹ ہے جو گراس کورٹ پر کھیلا جاتا ہے جبکہ آسٹریلین اوپن اور یوایس اوپن ہارٹ کورٹ اور فرنچ اوپن کلے کورٹ پر منعقد ہوتا ہے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران 1914ء سے لیکر 1918تک ومبلڈن کے مقابلے منعقد نہیں ہوئے جبکہ ایک بارپھر دوسرے جنگ عظیم کے موقع پر 1940سے لیکر 45ء تک ومبلڈن چیمپئن شپ تعطل کاشکار رہی ۔

ومبلڈن کو سب سے زیادہ 35مرتبہ برطانوی کھلاڑیوں نے جیتا جبکہ 38بار میزبان ملک کے کھلاڑی رنر اپ رہے دوسرے نمبر پر امریکی کھلاڑیوں نے 33مرتبہ ومبلڈن گرینڈ سلام ٹائٹل جیتا ،آسٹریلیا نے 21،سوئیڈن 7،فرانس 7، سوئٹرزلینڈ 6،نیوزی لینڈاور جرمنی چارچار جبکہ نے سپین 3 اور کروشیا ،ہالینڈ،پیرو،سربیا، مصر اور چیکوسلاوکیہ کے کھلاڑیوں نے ایک ایک بار ومبلڈن میں گرینڈ سلام ٹائٹل پر قبضہ جمایا۔

ومبلڈن میں خواتین کے مقابلوں کا آغاز 1884ء میں ہوا جہاں پہلی خاتون گرینڈ سلام چیمپئن بننے کا اعزاز برطانوی کھلاڑی موڈ واٹسن کو حاصل ہے۔امریکی کھلاڑی مارٹینا نرواٹولیا کو سب سے زیادہ 9مرتبہ گرینڈ سلا م ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ جرمن ٹینس شہزادی سٹیفی گراف نے 7باراور وینس ولیمز نے پانچ مرتبہ ومبلڈن کا گرینڈ سلا ٹائٹل جیت رکھا ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments