نیزہ بازی پنجاب کامقبول کھیل

Neezabazi Punjab Ka Maqbool Tareen Khel

ہزاروں نیزہ بازی کے شائقین ان مقابلوں کو دیکھنے کیلئے بے تاب تھے سالوں بعد پنجاب کے اس روایتی ٹورنا منٹ کو دیکھنے والوں کے چہروں پر خوشیاں لوٹ آ ئیں تھیں اور میلہ کی رونق کو چار چاند لگ گئے اور نیزہ بازوں نے نہایت عمدہ مظاہرہ کر کے داد لیتے رہے

Riaz Ahmad Shaheen ریاض احمد شاہین ہفتہ مارچ

Neezabazi Punjab Ka Maqbool Tareen Khel
پنجاب کی ثقافت روایات کی جھلک میلوں میں ہے ان میلوں میں آبادی کی اکثرت جوکہ سیروتفریح کے مواقع نہیں ملتے سال بھر کی تھکن ڈیپریشن دور کرنے کیلئے محنت کش کسان زمیندار علاقائی میلوں کا انتظار کرتے ہیں علاقائی میلوں میں ان رنگا رنگ پروگرام اور کبڈی کوڈی والی بال فٹ بال کشتیاں ہتھ جوڑیاں بھنگڑے ڈولے ماہیے ہیر رانجھا سوہنی مہوال کے قصے کہانیاں سننے کے ساتھ ساتھ سرکس تھیٹرموت کا کنواں موت کا گولہ جادوکے کمال چڑیا گھر اپنے بچوں کے ساتھ دیکھنے کا مواقع ملتا ہے نوجوانوں کے شور شربا ہلا شری غل غپاڑہ بھی میلہ کے ماحول کو گرمتا ہے مگر گذشتہ سالوں سے دہشت گردی کے واقعات نے دیہاتی وسیب سے میلہ کی خوشیوں کو چھین لیا اور انتظامیہ جب بھی میلہ کے دن آتے سوچ بچار میں پڑ ے کہیں کوئی واقع نہ پیش آجائے اور ہم پراس کی ذمہ داری نہ پڑ جائے اور میلہ کی اجازت نہ ملتی جس سے لوگوں کی آس وامید پر پانی پھر جاتااس سال لوری میلہ سخی سرورسنگ میں بھٹی برادران نے اپنے والد مرحوم میاں انصر عباس بھٹی کی روایات کو دوہراتے ہوئے اور علاقہ کے لوگوں کو علاقائی تفریح کو مد نظر رکھتے ہوئے آل پنجاب نیرہ بازی کے ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں پنجاب بھرسے نیزہ بازی کلبوں نے شرکت کی مہمان خصوصی پاکستان تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی کے رکن میا ں احسن انصر بھٹی اور میاں عزم انصر بھٹی تھے اور درجنوں گھڑ سواروں جن نے پنجاب کے رواتتی کلر فل لباس پہن کر اپنے ہاتھوں میں نیزے لہرا کر اپنے قیمتی گھوڑوں پر سوار نیزہ بازی گراوٴ نڈ میں ڈھول کی تھاپ اور بھنگڑے ڈالتے پنجاب کے گھبرو نوجوانوں کے استقبال کا جواب دیتے ہوئے اترے ان نے گھوڑوں کو بھی رنگا رنگ روایتی سازوسامان کے ساتھ سجا رکھا تھا اور ہزاروں نیزہ بازی کے شائقین ان مقابلوں کو دیکھنے کیلئے بے تاب تھے سالوں بعد پنجاب کے اس روایتی ٹورنا منٹ کو دیکھنے والوں کے چہروں پر خوشیاں لوٹ آ ئیں تھیں اور میلہ کی رونق کو چار چاند لگ گئے اور نیزہ بازوں نے نہایت عمدہ مظاہرہ کر کے داد لیتے رہے تقسیم انعامات سے اظہار کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے میاں احسن انصر بھٹی نے کہا علاقہ کی ثقافت روایات کو واپس لائے ہیں تاکہ لوگ انجائے کر سکیں نیزہ بازی کے ٹورنامنٹ میں 130گھوڑوں اور ان کے 130 سو اروں نے حصہ لیا اور پہلی پوزیشن شاہین ہارس کلب دوسری پوزیشن مونا ہارس کلب اور تیسری پوزیشن شیرازی ہادس کلب نے حاصل کی جبکہ انتظامیہ میں مظہر حسین بھٹی کوٹ محبت،سیٹھ لیاقت علی۔

(جاری ہے)

ذیشان ڈھڈی شامل تھے تقریب میں چوہدری شاہد اقبال رجوکہ۔میاں مظہر چیف ایگزیگٹیولکی ایرانی سرکس ،میاں فضل عباس ،ناصر قیوم سکھیکی ،چوہدری نذ یر بھٹی، رضا علی بھٹی ،سردار صغیر اختر ،حسنین علی بھٹی ،راوٴفیصل عباس ،اختر خان کھرل ، رائے جہانگیر کھرل اور دیگر شامل تھے اس سال قدیم لوری میلہ سنگ حضرت سخی سرور کی رونقیں بھی لوٹ آئیں اور پنجاب کی صدیوں قدیم روایات کو دوہراتے ہوئے عقیدت مندوں نے میلہ میں شرکت کی لوری میلہ کے سنگ آنے کی صدیوں قدیم روایات برقرار اور سنگوں کی آمد کے ساتھ ہی فضا لال نوں دیواں لوریاں سے گونج اُٹھی گلیوں بازاروں اور سنگ کے میدان پر کمسن بچے نوجوان لوریاں لینے لگے ہیں اور یہ منظر لوگوں کو اس قدر پسند ہے پورا سال دیہاتی لوریاں کی انتظار کرتے ہیں سنگ میدان میں جہاں بچوں کو مائیں منت پوری ہونے پر لوریاں دلوائیں گی ان کے سروں پر صدقات دیں گئیں وہاں چاولوں دیسی گھی چینی باداموں سے تیار کی جانے والی مٹھی پنیاں پھینک کر اپنی منت پوری گیئں جبکہ منت ماننے والے یہ پنیاں کھائیں گے سنگ میدان میں پنجاب کی بھر پور ثقافت علاقائی لباسوں میں بچے نوجوان بوڑھے عورتیں آتیں ہیں اور سخی سرور کے سنگ جو کی ڈھونکل سے پیدل منزل بہ منزل سفر کرتے ہوئے طوفانوں بارشوں گرمی سردی میں مقررہ تاریخوں پر 900سالوں سے سفر کرتے آئے ہیں چھوٹا سخی سرور کا سنگ جو کہ 1پھاگن کو پنڈی بھٹیاں پہنچ جاتا ہے اس کے ساتھ ہی دیواں لال نوں لوریاں سے فضا گونج اُٹھتی ہے یہ منظر میٹھی پنیاں پھیکنے کا انداز زمانہ قدیم کی یادوں کو تازہ کیاپنڈی بھٹیاں کے لوگوں کو سالوں بعد لوری میلہ سخی سرور کی خوشیاں لوٹا دی ہیں ان خیالات کا اظہار ایم پی اے میاں احسن عنصر بھٹی نے کیا انہوں نے کہا برسوں بعد علاقہ کی واحد تفریحی جس کا عام طبقہ سال بھر انتظار کرتا ہے ماضی میں ان کی خوشیوں کو چھین لیا گیا اس بار عوام کو ایسا تفریحی موقع ملا ہے وہ اس ثقافتی قدیم میلے کی تفریحات سے کئی روز مستفید ہوئے اور محنت کش کسانوں مزدوروں سمیت نوجوانوں کو اپنے روایتی میلے کو انجائے کرنے کا موقعہ ملا اسی طرح ہم عوامی مسائل کو بھر پور انداز میں حل کرائیں اور لوگ ماضی اور حال میں فرق محسوس کریں گے لوگوں نے اس سال واقع ہی علاقائی میلوں کی تفریح سے خوب انداز میں اپنی ثقافت اورروایات کے دلکش نظاروں سے انجائے کیا اور زمانہ قدیم میں کھو گئے اپنی تھکن اور ڈیپریشن کو دور کیا اورگندم کی کٹائی کیلئے تیاریوں میں مصروف ہو گئے اور پنجاب کے رنگ عوام کے سنگ کا ماحول دیکھنے کو ملا ۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments