پاکستان کی شکست | ایک تجربہ کار فاسٹ باؤلر کی کمی

Pak Vs Eng

وکٹ کیپر جوز بٹلر اور آل راؤنڈ کرس ووکس کی139 رنز کی شراکت نے پاکستانیوں کی امیدوں پر پا نی پھیر دیا

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر اگست

Pak Vs Eng
پہلے ٹیسٹ کی اہم خبریں: ﴾ " گُڈ کیچز وِِِن میچز " کا دور گیا کیونکہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ میں کیچ چھوڑنے کے بعد بھی دِلچسپ نتائج سامنے آرہے ہیں۔ شاید اس لیئے کے دونوں طرف سے ایسا ہو رہا ہے۔ ﴾ انگلینڈ کے وکٹ کیپر جوس بٹلر اور آل راؤنڈ کرس ووکس کی139 رنز کی شراکت نے پاکستانیوں کی اُمیدوں پر پا نی پھیر دیا ۔ ﴾ انگلینڈ کے آل راؤنڈر کرس ووکس کو پہلے ٹیسٹ میچ کے مین آف دِی میچ ہو ئے۔

﴾ پاکستان لیگ سپین باؤلر یاسر شاہ نے ٹیسٹ میچ میں 8 کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ ﴾ پاکستان ٹیم میں ایک تجربہ کا ر فاسٹ باؤلر کی کمی نظر آئی۔ کر کٹ عالمی کپ2019ء کے اختتام کے ساتھ ہی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ2019ء تا 2021ء کا آغاز یکم اگست2019 ء کو ایشز سیریز سے انگلینڈ میں ہو گیا اور پورے ایک سال بعد اس ٹیسٹ چیمپئن شپ کی13ویں ٹیسٹ سیریز انگلینڈ بمقابلہ پاکستان بھی انگلینڈ میں ہی کھیلی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

جن دِنوں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی جارہی تھی اور ابھی ایک ٹیسٹ میچ ہی ہو اتھا کہ عالمی وباء کورونا وائرس 2019-20 ء کی وجہ سے دنیا کے تمام ممالک میں وقتی طور پر تمام معاملات معطل کر کے لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ چند ماہ بعد جب کورونا وائرس کے مریضوں کی شرح کم ہونیکی خبریں آنی شروع ہوئیں اور کچھ شعبے اپنی روزمرہ زندگی کے معاملات کیلئے حرکت میں آئے تو انگلینڈ کی ہوم گراؤنڈ پرسٹیڈیم میں بغیر تماشائیوں کے 2 ٹیسٹ کرکٹ سیریز کا اعلان کر دیا گیا۔

پہلی 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز ا نگلینڈ بمقابلہ ویسٹ انڈیز جولائی2020ء اور دوسری انگلینڈ بمقابلہ پاکستان 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز اگست2020ء۔ انگلینڈ میں ہو نیوالی ان دونوں ٹیسٹ سیریز کیلئے کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کو اولین ترجیح دی گئی جن میں ویسٹ انڈیز اور پاکستان سے آنیوالے کھلاڑیوں کا باقاعدہ ٹیسٹ ،قرنطینہ حکمت ِعملی اور گراؤنڈ میں کھیل کے اصول اہم تھے۔

انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کے دوران ایک دو احتیاطی تدابیر کیخلاف معاملات سامنے آئے اور انگلینڈ کے باؤلر جوفرا آرچر کو جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔لیکن انگلینڈ پاکستان ٹیسٹ سیریز میں اُمید کی جارہی ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق احکامات کی پاسداری کی جائیگی کیونکہ پہلا ٹیسٹ میچ شروع ہو نے سے چند روز پہلے ایک دفعہ پھر مانچسٹر میں لاک ڈاؤن لگادیا گیا تھا اور خدشہ تھا کہ اسکی وجہ سے انگلینڈ اورپاکستان کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ نہ کھیلا جا سکے لیکن پھر اعلیٰ احکام کی یقین دہانی کے بعد میچ شیڈول کے مطابق شروع کر وا دیا گیا۔

مختصر تجزیہ: اس سیریز کے شروع ہونے سے پہلے گزشتہ ماہ انگلینڈ اپنے ہوم گراؤنڈ پر ویسٹ انڈیز کو 3ٹیسٹ میچوں کی سیریز 2۔1سے ہرا چکا تھا۔لہذا پاکستان کیلئے پہلا ٹیسٹ میچ ہی مشکل تھا۔لیکن پاکستان کر کٹ ٹیم پہلے ٹیسٹ میچ میں بہترین کا رکردگی دکھا تے ہو ئے تقریباً3 دِن تک میچ پر چھائی رہی لیکن آخری دِن اُنکی جیت پر کالے بادل چھا گئے اور انگلینڈ کے مڈل آرڈر بلے بازوں نے ہاری ہوئی بازی جیت لی۔

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور بہترین کھیل ہی اُس کو کہتے ہیں جس میں حریف کھلاڑی کھیل کا پانسہ پلٹ دے۔ اس ٹیسٹ میچ میں بالکل ایسا ہی ہوا۔ انگلینڈ کے وکٹ کیپر جوس بٹلر اور آل راؤنڈ کرس ووکس کی139 رنز کی شراکت نے پاکستانیوں کی اُمید پر پا نی پھیر دیا اور اپنی ٹیم کے کپتان جو روٹ کے ہاتھوں میں فتح کا جھنڈا تھاما دیا۔انگلینڈ کے مایہ ناز سابق کرکٹر اور تجزیہ کا ر جیفری بائیکاٹ نے اس ٹیسٹ میں پاکستانی وکٹ کیپر محمد رضوان کی وکٹوں کے ساتھ لگ کر بہترین وکٹ کیپری دیکھتے ہو ئے اُسکی تعریف میں انگلینڈ کے وکٹ کیپر جوس بٹلر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھاجو اُنھوں نے پاکستان کے خلاف 3 مواقع ضائع کیئے۔

لیکن اس جیت میں اُنکے اہم حصے نے اُن پر مُثبت کارکردگی کا لیبل لگا دیا اور کرس ووکس کو مستقبل کا ایک بہترین آل راؤنڈر کہا جانے لگا۔اس کے برعکس پاکستانی ٹیم اچانک حرفِ تنقید بن گئی۔کسی نے کپتانی پر اُنگلی اُٹھائی اور کسی نے ایک سینئر فاسٹ باؤلر کی کمی کو محسوس کیا۔کسی نے دوسری اننگز میں پاکستانی بلے بازوں کی غیر ذمدارانہ بلے بازی کو پہلی اننگز میں پاکستانی باؤلنگ لائن کی شاندار کارکردگی پر پانی پھیر نے کا کہا۔

بالکل سب کچھ ایسا ہی ہوا کیوں کہ شکست ہو گئی۔ پہلا ٹیسٹ میچ: کورونا وباء کی احتیاطی تدابیر کے تحت گراؤنڈ امارات اولڈ ٹریفورڈ،مانچسٹر میں بغیر تماشائیوں کے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے آغاز کیلئے پاکستان کے کپتان اظہر علی اور انگلینڈ کے کپتان جوروٹ نے ٹاس کیا جو پاکستان کے حق میں ہوا اور وہاں کی موسمی صورتحال دیکھتے ہوئے کپتان اظہر علی نے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔

پہلا دِ ن تو زیادہ تر رِم جھم رِم جھم کی نذر ہو گیا لیکن پھر اگلے تین دن ایک بہترین کھیل کیلئے موافق موسم تھا اور واقعی بہترین کھیل دیکھنا کا موقع بھی ملا۔پہلی اننگز میں پاکستان کی ٹیم 326 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی جس میں اوپنر شان مسعود نے سنچری بناتے ہو ئے 156 رنز بنائے تقریباًمجموعہ کا آدھا ا سکور۔باقی بابر اعظم نے65 اور لیگ سپن باؤلر شاداب خان نے45 رنز بنا ئے۔

7بلے باز ڈبل فیگر میں ہی نہ داخل ہو سکے۔ انگلینڈ کی طرف سے اسٹورٹ براڈ اور جوفرا آچر نے3،3 کھلاڑی آؤ کیئے۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں بلے بازی شروع کی تو آغاز میں ہی پاکستان باؤلرز اُن پر حاوی ہو گئے اور انکے سب سے اہم بلے باز بین سٹوکس کو محمد عباس نے صفر پر ہی کلین بولڈ کر دیا۔جسکے بعد بلے باز اولے پاپ کے علاوہ جو 62 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے کوئی بلے باز بھی وکٹ پر قدم نہ جما سکا اور انگلینڈ کی آل ٹیم 219کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئی۔

پاکستان کی طرف سے لیگ سپن باؤلر یاسر شاہ نے 4 کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ پاکستان کے پاس 107 رنز کی برتری تھی اور ابھی ٹیسٹ میچ کے ڈھائی دِن باقی تھے۔لہذا دوسری اننگز میں مزید ذمہ د ارانہ بیٹنگ کر کے ایک بڑا ہدف دیا جا سکتا تھا لیکن بیٹنگ لائن نے پاکستانی باؤلرز کی محنت پر پانی پھیر دیا اور چوتھے دِن کے آغاز میں ہی 169 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔سب سے زیادہ انفرادی اسکور 33 تھا جو سپن باؤلر یاسر شاہ نے ہی کیا اور اس دفعہ بھی انگلینڈ کی طرف سے فاسٹ باؤلراسٹورٹ براڈ 3 کھلاڑی آؤٹ کر کے نمایاں رہے۔

انگلینڈ کے پاس جیت کا ہدف تھا 277 رنز۔ مقابلہ اسوقت سخت و دلچسپ صورت اختیار کر گیا جب ایک دفعہ تو پاکستانی باؤلنگ لائن نے انگلینڈ کے پہلے 5 اہم بلے باز 117 رنز پر آؤٹ کر کے میچ کا پلڑا اپنے حق میں کر لیا لیکن پھر انگلینڈ کے مڈل آرڈر بلے باز وکٹ کیپرجوس بٹلراور آل راؤنڈرکرس ووکس نے آہستہ آہستہ سکور میں اضافہ کر نا شروع کیا ور پھر پاکستانی باؤلرز کی ایسی پٹائی شروع کی کے اگلے چند منٹوں میں وہ سب نوجوان باؤلرز اپنی لائن اور لینتھ بھول گئے سوائے سپن باؤلر یاسر شاہ کے جنہوں نے6 واں کھلاڑی تو256 کے مجموعی سکور پر آؤٹ کر دیا لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔

پھر اسکے بعد انھیں نے ایک وکٹ اور لی اور انگلینڈ کی ٹیم 7 کھلاڑی آؤٹ پر277 رنز بنا کر پہلا ٹیسٹ میچ3 وکٹوں سے جیت گئی جوس بٹلر نے 75 رنز بنائے اور کرس ووکس 84 رنز بنا کر ناقابل ِشکست رہے۔یاسر شاہ نے دوسری اننگز میں بھی4وکٹیں لیں ۔ انگلینڈ کوجیت پر40پوائنٹس ملے اور 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں بھی وہ1۔0 سے آگے ہو گئے۔ "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments