ایشین گیمزہاکی: پاکستان 20سال بعد فائنل میں پہنچ گیا

Pakistan 20 Saal Baad Asian Games Hockey K Final Main Pohanch Giya

کوریا کیخلاف سیمی فائنل میں پنالٹی سٹروکس پر اعصاب شکن مقابلے کے بعد کامیابی ، گول کیپر سلمان اکبر کی کیرئیر بیسٹ پرفارمنس فائنل میں ملائیشیا کو ہراکر پاکستان کے پاس لندن اولمپکس 2012ء کیلئے کوالیفائی کرنے کا نادر موقع

بدھ نومبر

Pakistan 20 Saal Baad Asian Games Hockey K Final Main Pohanch Giya
اعجازوسیم باکھری: پاکستان ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز کے فائنل میں رسائی حاصل کر کے ملک میں ہاکی کے شوق کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ۔گرین شرٹس چین کے شہر گوانگ ژو میں ایشین گیمز کی ہاٹ فیورٹ جنوبی کوریا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی سٹروکس پر شکست دے کر 20سال بعد ایشین گیمز کے فائنل میں پہنچ گئی۔ پنالٹی سٹروکس کے اعصاب شکن مرحلے میں گول کیپر سلمان اکبر نے چٹان کی طرح کورین حملوں کو ناکام بناکر اپنی ٹیم کو تاریخی جیت سے ہمکنار کرایا۔

جہاں اس کا آخری اور فیصلہ کن معرکہ جمعرات کو ملائیشیا کے ساتھ ہو گا ۔ قوم نے بیس سال کے انتظار کے بعد ایک بار پھر گرین شرٹس سے امیدیں وابستہ کر لیں اورپی ایچ ایف نے جشن منانے کیلئے تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستانی ٹیم نے کھیل کا معیار برقرار رکھا تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہ کر سکے ۔

(جاری ہے)

یہ خبر کسی خوشخبری سے کم نہیں کہ پاکستان ہاکی ٹیم نے طویل عرصہ انتظار کے بعد کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔ فائنل میں کامیابی ملتی ہے یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے قطع نظر پاکستانی ٹیم نے کوریا جیسی مضبوط ٹیم کو آٹھ سال کے طویل عرصہ بعد شکست دیکر نہ صرف بیس برس بعد ایشین گیمز کے فائنل کیلئے کوالیفائی کیا بلکہ ایک کامیابیوں کے نئے سفر کا آغاز بھی کردیا ہے ۔

ممکن ہو آگے چل کر یہ ٹیم دوبارہ ناکامیوں کے سفر سے نکل پڑے لیکن موجودہ صورتحال میں ٹیم کا جذبہ عروج پر نظر آتا ہے اور کھلاڑی فتح کے پیاسے دکھائی دے رہے ہیں۔ کوریا کیخلاف سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم ایک یونٹ کی طرح کھیلی اور ڈٹ کر مقابلہ کیا اور یہ مقابلہ میچ کے آخری سیکنڈتک جاری رہا ۔پاکستان کی جیت کا کریڈٹ گول کیپر سلمان اکبر کو جاتا ہے جس نے سیڈن ڈیتھ مرحلے میں بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور حریف ٹیم کی دو بار گول کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا ۔

اس سے پہلے پنالٹی سٹروکس کے ابتدائی راؤنڈ میں بھی سلمان اکبر نے جوانمردی سے کورین حملے ناکام بنائے اور ریفری کی جانب سے پاکستان کیخلاف ایک گول ایوارڈ بھی کیا گیا لیکن اس کے باوجود کامیابی پاکستان کے حصے میں آئی۔ 1990 کے بعدپاکستان پہلی مرتبہ ایشین گیمز کے فائنل میں پہنچا ہے اور قومی ٹیم کے پاس گولڈ میڈل جیتنے کا نادریہ موقع ہے کیونکہ اگر ملائیشیا کے بجائے بھارت فائنل میں مدمقابل ہوتا تو پاکستان نفسیاتی طور پر دباوٴ میں ہوتا کیونکہ بھارت رواں سال میں پاکستان کو مسلسل چار میچوں میں زیر کر چکا ہے ۔

پاکستان کی موجودہ ٹیم سینئر کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور حالیہ ایونٹ کے بعد پانچ کھلاڑی ریٹائر ہو جائیں گے ،توقع ہے کہ اپنے کیرئیر کا آخری میچ کھیلنے والے یہ سینئر کھلاڑی فاتح کے روپ میں میدان سے باہر نکلیں گے کیونکہ ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے کیرئیر کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرے اور اس بار پاکستان ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کی بھی یہ کوشش ہوگی کہ وہ کسی بھی صورت میں پاکستان کو چیمپئن بنوا کر ہاکی سے کنارہ کشی اختیار کریں اس لیے فائنل معرکہ قابل دید ہوگا کیونکہ ملائیشین ٹیم بھارت جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دیکر فائنل میں آئی تو وہ فائنل جیتنے کے بھی متمنی ہونگے لہذا پاکستان کو ٹائٹل جیتنے کیلئے سخت محنت کرنا ہوگی۔

اگر پاکستان یہ فتح حاصل کرتا ہے تولندن میں ہونیوالے 2012ء کے اولمپکس گیمزکیلئے پاکستان براہ راست کوالیفائی کرلے گا کیونکہ اولمپکس رولز کے مطابق اگر کوئی ٹیم دس ٹیموں پر مشتمل کسی ایونٹ کواپنے نام کرتی ہے تو اسے اولمپکس کوالیفائی راوٴنڈ کھیلنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور وہ براہ راست اولمپکس میں شامل ہوجاتی ہے مگر شکست کی صورت میں پاکستان کیلئے اولمپکس تک رسائی مشکل ہوجائے گی کیونکہ آئندہ دو سالوں میں کوئی بھی بڑا ایونٹ نہیں آئے گا اور پاکستان کو نئے کھلاڑیوں کے ساتھ اولمپکس کوالیفائی راوٴنڈ میں سخت جدوجہد کرنی پڑے گی ۔

اگر دونوں ٹیموں کا ایشین گیمز میں موازنہ کیا جائے تو پاکستان ٹیم کاپلڑا ملائیشیا کے مقابلے میں بھاری ہے ،اب تک ایشین گیمز میں ہاکی کے 13ایونٹ ہوچکے ہیں جن میں پاکستان نے سات مرتبہ گولڈ میڈلز حاصل کیے جبکہ دو مرتبہ چاندی اور ایک بار کانسی کا تمغہ قومی ٹیم کے حصے میں آیا ۔ دوسری جانب ایشین گیمز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملائیشیا نے فائنل تک رسائی حاصل کی ہے تاہم چھ مرتبہ اس نے تیسری پوزیشن حاصل کر رکھی ہے ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ2002ء کے گیمز میں چوتھی پوزیشن کے میچ میں گرین شرٹس کو ملائیشیا کے ہاتھوں ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ایشین گیمز میں پاکستان کی انفرادی کارکردگی کی بات کی جائے تو 1958 میں گیمز کے آغاز سے ہی گرین شرٹس نے اپنی کامیابیوں کا سفر شروع کر دیا جو 1990 تک جاری رہا ، اس دوران نو گیمز منعقد ہوئے جس میں سے سات مرتبہ پاکستانی قوم نے جشن منایا جبکہ دو مرتبہ سلورمیڈل حاصل کیے ۔

اس دوران پاکستان اور بھارت آٹھ مرتبہ فائنل میں مدمقابل آئے ، سات مرتبہ فتح گرین شرٹس کے حصے میں آئی اور ایک مرتبہ اسے بھارت سے شکست ہوئی ۔ 1990 کے بعد پاکستانی ٹیم کا زوال شروع ہو گیا اور ایشین گیمز میں اس کی ساری دہشت ختم ہو گئی ۔ اس کے بعد چار مرتبہ ایشین گیمز کا انعقادہوا تاہم گرین شرٹ آخری چاروں مرتبہ فائنل میں نہ پہنچ سکی۔اب ایک بار پھر جنوبی کوریا کو شکست دے کر پاکستانی ٹیم نے ایشین گیمز کے فائنل میں رسائی حاصل کی ہے تاہم دوسری جانب بھارت کو کانٹے کے مقابلے کے بعد شکست دینے والی ملائیشین ٹیم پاکستان سے مقابلہ کرنے کیلئے بھرپورتیار ہے جو گرین شرٹس کے لئے تر نوالہ ثابت نہیں ہو گی ۔

مبصرین کے مطابق اگر پاکستانی ٹیم نے میدان میں کوچز اور کپتان کی مرتب کردہ حکمت عملی پر عمل کیا تو پاکستانی ٹیم قوم کو گولڈمیڈل کا تحفہ دینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments