پاکستان کی نیوزی لینڈ سے ہاکی سیریز میں جیت

Pakistan Beat New Zealand In Hockey Series

23مارچ 2017ء کو پاکستان ہاکی ٹیم نے نیوزی لینڈکی ہاکی ٹیم کو5میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں 2۔1سے اُنکی اپنی سرزمین پر شکست دے پاکستانی قوم کو یومِ آزادی کا بہترین تحفہ دیا۔ پہلا میچ نیوزی لینڈ نے جیتا تھا دوسرا اور آخری برابر ہوا ۔جبکہ تیسرا میچ نوجوان کھلاڑی ابوبکر محمود کی گول کی ہیٹ ٹرک کی وجہ سے

Arif Jameel عارف‌جمیل جمعہ مارچ

Pakistan Beat New Zealand In Hockey Series
23مارچ 2017ء کو پاکستان ہاکی ٹیم نے نیوزی لینڈکی ہاکی ٹیم کو5میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں 2۔1سے اُنکی اپنی سرزمین پر شکست دے پاکستانی قوم کو یومِ آزادی کا بہترین تحفہ دیا۔ پہلا میچ نیوزی لینڈ نے جیتا تھا دوسرا اور آخری برابر ہوا ۔جبکہ تیسرا میچ نوجوان کھلاڑی ابوبکر محمود کی گول کی ہیٹ ٹرک کی وجہ سے اور چوتھا پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عبدالحسیم خان کے 2شاندار گول کرنے پر جیتا۔

لیکن اس کامیابی کا سہرا ساری پاکستانی ہاکی ٹیم پر سجا کیونکہ ٹیم کا موریل اعلیٰ سطح پر نظر آیا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کیلئے چیلنج:
پاکستان میں ہاکی کی درخشاں تاریخ آج پاکستان ہاکی فیڈریشن کیلئے چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ماضی میں کوئی بھی بڑا ٹورنامنٹ ہاکی کی دُنیا میں کھیلا گیا ہو اور اُس میں پاکستان کی شرکت نہ کی ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔

(جاری ہے)

لیکن گزشتہ چند سالوں میں اس ادارے اور کھلاڑیوں کو وہ اہمیت نہ دی جاسکی جسکی اشد ضرورت تھی۔لہذا پاکستانی ہاکی ٹیم کی کارکردگی سوالیہ نشان بنتی چلی گئی اور بڑے ٹورنامنٹس میں شرکت بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کیلئے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ سے باہر:
اس ٹیسٹ کیس کی ایک تازہ ترین مثال اُ س وقت سامنے آئی جب 27ِ اپریل2017ء سے ملائشیا کے شہر ایپو میں کھیلے جانے والے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں سے پاکستان کو باہر کر کے برطانیہ کو شامل کر لیا گیا ۔

باقی ٹیموں میں بھارت، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ، جاپان اور میزبان ملک ملائشیاشامل ہیں۔ حالانکہ پاکستان گزشتہ سال اس ٹورنامنٹ میں 7میں سے 5ویں پوزیشن پر آیا تھا۔
لہذا پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری شہباز سنیئر نے ملائشیا کے اس فیصلے پر دُکھ کا اظہار کیا اور ملائشیا میں ہاکی کی ترقی میں پاکستان کے ماضی کے کردار کی اہمیت کا ذکر بھی کیا ۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ گو کہ ابھی بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔بصورت ِ دیگر پاکستانی ہاکی ٹیم کو جلد ہی یورپ ممالک میں میچ کھیلنے کیلئے بھیجا جائے گا تاکہ ورلڈ ہاکی لیگ کی تیاری ہو سکے۔ساتھ میں جونیئر کھلاڑیوں کو بھی ترقی دے کر سینئر کھلاڑیوں کی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ان کھلاڑیوں کے یورپ کے دورے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
نیوزی لینڈ اورآسٹریلیا کا دورہ:
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکڑٹری شہباز سینئر نے مستقبل میں پاکستان ہاکی ٹیم کی بہتر کارکردگی کیلئے جس منصوبہ بندی کا ذکر کیا اُسکے پہلے مرحلے میں نیوزی لینڈ اورآسٹریلیا کے خلاف مارچ2017ء میں ہاکی ٹیسٹ سیریز کیلئے پاکستان ہاکی ٹیم کے جو کھلاڑی منتخب کیئے گئے اُنکے نام تھے:
عبدالحسیم خان (کپتان) ۔

عمر بھٹہ (نائب کپتان)۔ امجد علی (گول کیپر)۔ مظہر عباس (گول کیپر) ۔عماد شکیل بٹ۔ ایم علیم بلال ۔ نواز اشفاق۔ ابو بکر محمود۔ تصور عباس۔ تعظیم الحسن۔ایم رضوان جونیئر۔ ایم عاطف مشتاق۔ایم فیصل قادر۔ایم عرفان جونیئر۔علی شاہ۔اعجاز احمد۔ محمد دلبر۔ایم ا ظفر یعقوب۔ارسلان قادراورعمیر سرفراز۔
نیوزی لینڈ میں یہ سیریز 17ِ اور18ِ مارچ۔20ِمارچ۔

22ِ اور23ِ مارچ 2017ء کوکھیلی گئی ۔جو پاکستان نے2۔1سے جیت لی۔
پہلا ہاکی ٹیسٹ میچ:
ویلنگٹن میں کھیلا گیا جسکے پہلے ہاف میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کے کھلاڑی سیم لین نے اُس ہٹ کی مدد سے گول کر دیا جو پینلٹی کارنر ملنے پر کورے بینٹ نے لگائی تھی۔لیکن اگلے ہی لمحے پاکستان کے کھلاڑی محمد دلبر نے مخالف ٹیم کی دفاعی لائن کو توڑتے ہوئے شاندار گول کر کے میچ برابر کر دیا۔

دوسرے ہاف میں پاکستانی کھلاڑی فرنٹ لائن پر اچھا کھیلنے کے باوجود اپنی دفاعی لائن کے ہاتھوں کمزور نظر آئے جسکا فائدہ اُٹھاتے ہوئے نیوزی لینڈ کی طرف سے پہلے سٹیفن جیسن نے اور پھر پینلٹی کارنر پر کورے بینٹ نے گول کر دیا۔ جسکے بعد گو کہ پاکستانی کھلاڑی محمد علیم بلال بھی پینلٹی کارنر پر مزید ایک گول کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن پھر میچ کا وقت ختم ہونے تک مخالف کی برتری ختم نہ کر سکے اور نیوزی لینڈ نے مقابلہ3۔

2سے جیت لیا۔
دوسرا ہاکی ٹیسٹ میچ :
بھی ویلنگٹن کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جو 2-2گول سے برابر رہا۔پہلے ہاف کے24ویں منٹ میں سیم لین نے پینلٹی کارنر پر ایک زوردار ہٹ لگا کر گیند پاکستان کے گول میں پھینک دیا اور پھر دوسرے ہاف میں اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلنے والے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی میک ولکاکس نے دوسرا گول کرکے ٹیم کو 2صفر کی برتری دلوا دی۔

لیکن اگلے ہی منٹ میں پاکستان کے شہر فیصل آباد سے پہلی دفعہ سینئر ٹیم میں منتخب ہو کر آنے والے کھلاڑی ابو بکر محمود نے پینلٹی کارنر کا فائدہ اُٹھاتے ہو ئے پہلا گول کر دیا اور پھر کپتان عبدالحسیم خان نے ایک اور گول کر کے میچ 2-2سے برابر کر کے شاندار واپسی کی ۔لیکن اس دوران کئی پینلٹی کارنرز ضائع بھی کیئے۔بہرحال آخری منٹوں میں دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔

لیکن مقابلہ برابری پر ختم ہوا۔
ہاکی کاتیسرا ٹیسٹ :
اُس ہی میدان میں شروع ہونے سے پہلے پاکستانی ہاکی ٹیم 1۔0 سے سیریز میں خسارے میں تھی۔لیکن اس میچ میں آغاز سے ہی بہترین کھیل کھیلتے ہوئے گرفت مضبوط کر لی ۔ 6ویں منٹ میں کپتان عبدالحسیم خان نے پینلٹی کارنر پر پہلا گول کر دیا۔اسکے بعد پاکستانی ٹیم کے نوجوان کھلاڑی ابو بکر محمود جو دوسرے ٹیسٹ میں بھی جوہر دِکھا چکے تھے اُس وقت مزید باصلاحیت نظر آئے جب میچ کے دوران تین پینلٹی کارنرز پر3گول کر کے اپنی پہلی بین الااقوامی ہیٹ ٹرک بھی کر ڈالی اور پاکستان کو میچ میں فتح سے ہمکنار کروا کر سیریز 1۔

1سے برابرکر دی۔اس میچ میں نیوزی لینڈ کی طرف سے بھی پاکستانی گول پر حملے ہوئے لیکن گول کیپر امجد علی اُنکے لیئے رُکاوٹ بنے رہے ۔پھر بھی اُنکے طرف سے دوسرے ہاف میں کورے بینٹ اور سٹیفنڈ جینز ایک ایک گول کرنے میں کامیاب ہو گئے اور میچ4۔2پر ختم ہوا۔
ہاکی کا چوتھا ٹیسٹ :
پاکستان کے کپتان عبدالحسیم خان اور نوجوان ٹیم کی صلاحیتوں کا مظہر نظر آیا ۔

ویلنگٹن کے نواحی علاقے ویرار اپامیں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے پہلے کوارٹر میں اُس وقت برتری حا صل کر لی جب10ویں منٹ میں کپتان عبدالحسیم خان نے پہلا گول اور ہاف ٹائم ختم ہونے سے 7 منٹ پہلے اپنی قائدانہ ذمہداری نبھاتے ہوئے شاندار دوسرا گول کر دیا۔اس دوران نیوزی لینڈ نے بھی جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور جونٹی کینی جو اپنا تیسرا بین الاقوامی میچ کھیل رہے تھے پاکستان کے خلاف اپنا پہلا انٹرنیشنل گول میں کامیاب ہو گئے۔

دوسرے ہاف میں نیوزی لینڈ کے ہاکی کے شائقین نے اپنی ٹیم کے حق میں بہت زور شور سے نعرے لگائے اور اُنکے کھلاڑیوں نے بھی پاکستانی گول پر حملے کیئے ۔ایک کوشش میں سٹیفنڈ جینز کی ہٹ پاکستانی گول کے پاس سے گزر گئی اور آخری منٹوں میں گول کیپر مظہر عباس نے بھی اپنی ذمہداری نبھا کر اُنکے حملے ناکام بنا دیئے جسکے بعد میچ ختم ہو نے پر پاکستان 2۔

1گول سے جیت کر ٹیسٹ سیریز میں بھی 2۔1سے برتری حاصل کر لی۔
آخری ہاکی ٹیسٹ میچ:
23مارچ 2017ء کو یوم ِپاکستان کے دِن ٹرسٹ ہاؤس ہاکی ویرار اپا کمپلیکس میں کھیلا گیا ۔میزبان ملک نیوزی لینڈ کو یہ میچ جیت کر سیریز برابر کرنی تھی اور مہمان ٹیم پاکستان کو سیریز میں برتری قائم رکھنی تھی۔میچ بہت زور شور سے شروع ہوا لیکن پہلے ہاف میں کوئی ٹیم گول نہ کر سکی۔

دوسرے ہاف میں نیوزی لینڈ کو چند پینلٹی کارنرز ملے جن میں سے ایک پر تو کورے بینٹ کی ہٹ پر یقینی گول ہو جاتا اگر گول کیپر امجد علی اپنی اضطراری صلاحیت سے نہ روکتے۔ بہرحال اس دوران پاکستان کے محمد عرفان جونیئر نے تعطل توڑا اور میچ کا پہلا گول کر دیا۔ جسکے بعد میچ ختم ہونے سے 10منٹ پہلے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی سیم لین بھی فیلڈ گول کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔

اسطرح میچ1۔1 گول کی برابری پر ختم ہوا اور سیریز کا جھنڈا2۔ 1 سے کامیابی پر پاکستانی ہاکی ٹیم نے یوم ِپاکستان کے دِن نیوزی لینڈ میں لہرایا۔
مختصر تجزیہ:
پاکستانی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے پہلے ہاکی ٹیسٹ کے بعد انتہائی اعلیٰ اُڑان بھری اور پھر اگلے 4میچوں میں نیوزی لینڈ ٹیم کو اُنکے ملک میں کھیل کر بتا دیا کہ کامیابی کیلئے اگر کو شش جاری رکھی جائے تو مُثبت نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خاص طور پر پاکستان کے فاورڈ لائن کے کھلاڑی اور کپتان عبدالحسیم خان کی اعلیٰ قیادت بمعہ ذمہدارانہ کھیل اور تیسرے میچ میں ابو بکر محمود کی ہیٹ ٹرک ۔دوسرے میچ میں نیوزی لینڈ کی طر ف سے پہلے 2گول ہو جانے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کی 2گول کر دینے کے بعدکھیل میں واپسی تعریف کے قابل نظر آئی۔ ٹیم کے ساتھ 2گول کیپر امجد علی و مظہر عباس گئے ہوئے ہیں جنہیں کھیلنے کا موقع بھی میسر آیا اور دونوں نے یقینی طور پر نیوزی لینڈ کی فاورڈ لائن کی جارحانہ حکمت ِعملی کو زیادہ تر ناکام بنا دیا۔

لہذا اگر آسٹریلیا کے دورے میں بھی کامیابی کی نوید سُنائی دی تو موجودہ دورے کے پاکستانی کھلاڑیوں کے مستقبل کیلئے اہم فیصلے کیئے جا سکیں گے۔
آسٹریلیا کا دورہ:
اسطرح 8ویں نمبرکی رینکنگ والی ٹیم نیوزی لینڈ کو شکست دے کر اب پاکستانی ہاکی ٹیم رینکنگ میں نمبر1 آسٹریلیا کی ٹیم کے خلاف اُنکے ملک میں ہاکی ٹیسٹ سیریز کھیلنے پہنچ چکی ہے ۔ جہاں 28ِاور29ِ مارچ ۔31مارچ2017ء کو میچ کھیلے جائیں گے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments